یوپی میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی پارلیمانی الیکشن میں باہمی اتحاد کی بات سامنے آتے ہی بی جے پی چراغ پا ہو گئی۔ بلاشبہ اِس اتحاد نے سیکولر قومی سیاست میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ایک طرف ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق کی خبر آئی اور دوسری طرف غیر قانونی طور پر ریت نکالنے کے تعلق سے آئی اے ایس افسر بی چندرکلا کی رہائش گاہ سمیت یوپی کے بارہ مقامات پر چھاپوں کے بعد سی بی آئی نے ایک پرانے معاملہ میں اکھلیش یادو سے بھی پوچھ تاچھ کرنے کی بات کہی۔
سی بی آئی نے اعلان کیا کہ وہ مبینہ گھپلہ میں سابق وزیراعلی اکھلیش یادو کے رول کی بھی جانچ کرے گی۔ ویسے تو یہ جانچ الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے جس کے تحت سی بی آئی ریاست کے پانچ اضلاع شاملی، ہمیرپور، فتح پور، دیوریا، سدھارتھ نگر میں اِس معاملہ میں جانچ کر رہی ہے۔ لیکن اتحاد کی خبروں کے آتے ہی جس طرح جانچ میں تیزی آئی ہے اُس سے اِس کارروائی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ ویسے ہندوستان میں اپوزیشن پارٹیوں کو ڈرانے کے لئے سی بی آئی کا استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ خطرناک ہے۔
Read more