جماعت اسلامی ابھی تک دلیل کو ڈنڈا سمجھتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

ایم ایم اے دینی جماعتوں کا اتحاد تھا۔ دو ہزار دو کے الیکشن میں اس اتحاد نے کے پی میں اکثریت حاصل کر کے صوبائی حکومت بنا لی تھی۔ ایم ایم اے مخالفین اس اتحاد سے چڑ کر اس کو ملا ملٹری الائنس کہا کرتے تھے۔ ایم ایم اے مشرف دور میں سامنے آیا تھا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کا نیا اتحادی بنا تھا۔ تب شاید اس اتحاد کی ضرورت بھی تھی کہ وصولی اچھی ہو سکے ۔ایسا مولویوں کو بطور خطرہ پیش کرنا شائد مشرف حکومت کی ضرورت رہی ہو گی۔

اسی لئے ملا ملٹری اتحاد کی افواہیں بہت چلی تھیں۔ ان میں کوئی صداقت بھی شاید ہو۔ اس کے باوجود کسی سنجیدہ تجزیے میں یہ نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ خیبر پختونخواہ کے ووٹر کا حکومتوں کو ووٹ آؤٹ کرنے کا اپنا ایک مزاج ہے۔ یہ ووٹر اپنی حالت بدلنے کے لئے بہت بولڈ فیصلے کرتا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں جہاں دو ہی جماعتیں باریاں لیتی رہی ہیں وہیں کے پی میں ووٹر مسلم لیگ نون پی پی اے این پی ایم ایم اے اور پی ٹی آئی کی صورت میں پانچ آپشن آزما چکا ہے۔

ملا ملٹری الائنس کی کہانی جو بھی ہو الیکشن کے دن ووٹر نے واضح اعلان کیا تھا ۔ تب کے پی میں صرف ایم ایم اے اور اس کا نشان کتاب ہی ووٹر کا انتخاب ٹھہرا تھا۔ الیکشن آبزروروں کے ساتھ ہم لوگ الیکشن کے دن پانچ اضلاع میں گھومے تھے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے ہر جگہ ووٹر کا رخ ایم ایم اے کے بوتھ کی جانب ہی جاتا دیکھا۔

کے پی بھی اور پشاور بھی بہت حد تک غیر متعصب علاقے ہیں جہاں ذات، برادری اور قوم اجتماعی فیصلوں فائدوں کے لئے اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ پشاور شہر کی سیٹ پر صوابی سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے کسی حد تک غیر مقامی شبیر احمد خان نے پی پی، اے این پی کے مشترکہ بھی اور مقامی امیدوار عثمان بلورکوبڑی لیڈ سے شکست دے دی تھی۔

این اے تھری جو پشاور کی ایک دیہی اور پختون اکثریتی سیٹ ہے وہاں سے جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے ہندکو بولنے والے قاری فیاض الرحمن علوی کامیاب ہوئے تھے۔ پشاور کی ہی ایک اور دیہی سیٹ این اے فور سے جماعت اسلامی کے صابر حسین اعوان نے ارباب فیملی کے مضبوط امیدوار کو شکست دی تھی۔

ایسے دلیرانہ فیصلے کے پی کا ووٹر ہی کرتا ہے ۔\"\"

ایم ایم اے حکومت میں بہت سی نئی اور اچھی باتیں تھیں۔ مولانا فضل الرحمن نے وزارت اعلی کے لئے اکرم درانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ یہ کئی حوالوں سے ایک بڑا اچھا سیاسی علامتی پیغام تھا۔

مولانا کا نامزد امیدوار اکثر صوبائی اسمبلی میں جے یو آئی کا اکلوتا ممبر اسمبلی ہوا کرتا تھا۔ وہ ملا نہیں تھا بلکہ خان تھا۔ مولانا اس کو نامزد کر کے یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ہماری پارٹی میں وفا کی قدر ہوتی ہے۔ یہ فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں ہم تجربے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیں صرف ملا مت سمجھو، ہمارا وزیراعلی بغیر داڑھی کے بھی ہے اور پرانا سیاسی کارکن بھی۔ اکرم درانی نے نامزدگی کے فوراً بعد علما کرام کے احترام میں داڑھی رکھ لی تھی۔

ایم ایم اے حکومت میں وزرا با اختیار تھے۔ ڈونر ایجنسیوں کے گورے اہلکار جے یو آئی کے صوبائی وزرا کی سمجھ بوجھ کی تعریف کیا کرتے تھے۔ یہ تعریف اکثر اس بات پر ہوتی کہ یہ لوگ بات سمجھ کر فوری فیصلہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے وزرا نے بھی اپنی وزارتیں بہت اچھے کنٹرول کے ساتھ چلائیں۔ اپنی جماعت کے لئے اچھی سیاسی بیس بنائی تھی جو دو ہزار آٹھ کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے سے ضائع کر دی گئی۔

ایم ایم اے حکومت کی سفارتی حلقوں میں جب زیادہ ہی آؤ بھگت ہونے لگ گئی تھی۔ سفارتی حلقوں میں مولویوں مذہبی جماعتوں کے بارے میں تاثر بدل رہا تھا۔ تب پشاور میں بل بورڈ توڑنے کا واقعہ ہوا جس نے اس بدلتے تاثر کو بریک بھی لگا دی بلکہ اسے پہلے سے بھی خراب کر دیا۔\"\"

جماعت اسلامی کے کارکنان نے خواتین کی تصاویر والے اشتہاری سائین بورڈ پورے پشاور بھرمیں توڑ دیے۔ اس تمام کارروائی کی قیادت جماعت اسلامی کے ایم این اے صابر حسین اعوان نے کی تھی۔ صابر حسین اعوان کو امیر جماعت قاضی حسین احمد کا قریبی ساتھی بلکہ ڈنڈے مار کہا جاتا تھا۔ صابر حسین اعوان افغانستان میں جہاد کے علاوہ طالبان دور میں پودوں کی نرسری بجی چلاتے رہے ہیں ننگر ہار میں۔

ہمارے اخبار میں نیوز ڈیسک انچارج کا تعلق جماعت سے تھا۔ ان کے بقول بھی یہ کارروائی سراسر زیادتی تھی وہ بھی ایسے وقت میں جب مذہبی جماعتوں ان کی صلاحیتوں کے بارے میں خوشگوار تاثر قائم ہو رہا تھا۔ جماعت اسلامی نے سوکنوں والے جلاپے کا ایک غیر ضروری مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرے کے بعد بھی مولانا کی سیاست کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا جماعت البتہ پیچھے چلی گئی۔

اس واقعے کو اب پندرہ سال ہونے کو آئے ہیں۔ صابر حسین اعوان پھر بولے ہیں اس بار پھر انہوں نے ایک بے تکا کام سرانجام دیا ہے۔ ترکی میں مارے جانے والے روسی سفیر کے قتل پر اظہار مسرت کیا ہے۔ روسی سفیر کے قاتل کو شاباش دی ہے۔ اسے جنتی قرار دیا ہے۔

اس بیان کی ٹائمنگ اہم ہے۔ روس اس وقت عالمی سیاست کے ساتھ ہماری ریجنل سیاست میں بھی سرگرم ہو رہا ہے۔ افغانستان میں روسی حکومت ان سب ہی گروپوں سے رابطے میں ہے جو کبھی اس کے ساتھ جنگ آزما رہے تھے۔ یہ وہ گروپ ہیں جن کی وجہ سے سوویت یونین ختم ہوا تھا۔ روسی حکومت اب افغان حکومت، گلبدین حکمت یار اور شمالی اتحاد سے ہی نہیں بلکہ افغان طالبان کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھی رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی کے بہت اہم عہدیدار کا بیان بتا رہا ہے کہ جماعت آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں تین دہائیاں پہلے کھڑی تھی۔

دنیا بدل گئی دوست دشمن کی تعریف بدل گئی ۔ نہیں بدلی تو جماعت اسلامی نہیں بدلی وہیں کھڑی ہے ۔ آج بھی اپنی سیاست شہرت پر ویسے ہی ڈنڈا مارنے کو تیار رہتی ہے جیسے پہلے مارتی رہی ہے۔

اسے بھی بدل جانا چاہئے تھا لیکن افسوس کے آج بھی جماعت اسلامی  دلیل کو ڈنڈا سمجھتی ہے اور ڈنڈے کو دلیل۔



  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 401 posts and counting.See all posts by wisi

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments