کیا روحیں بھٹکتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے کوئٹہ کی گرم دوپہریں بہت پسند تھیں۔ امی نے بچپن سے ہی دوپہر میں سونے کی ایسی عادت ڈال دی تھی کہ اسکول سے آتے کپڑے بدل کر کھانا کھاتے اور سونے لٹا دیے جاتے۔

کالج میں آنے کے بعد بھی یہی ترتیب تھی۔

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب میں سیکینڈ ائیر میں پڑھتی تھی اور میری بڑی بہن تھرڈ ائیر کی طالبہ تھی۔ ہم دونوں کالج سے آتے تو پورا گھر سو رہا ہوتا، ہمارے حصے کا کھانا کچن میں رکھا رہتا ، ہم آتے کھانا کھاتے اور سو جاتے۔

جب تک ہم اسکول کالج سے آتے تھے ، امی گھر کا تمام کام کر چکی ہوتی تھیں۔ گھر کی صفائی ، کپڑوں کی دھلائی ، کھانا پکانا ، باورچی خانہ سمیٹ کر برتن دھونا غرض کہ امی کی صفائی کی عادت سے گھر کا ہر کونہ چمک رہا ہوتا۔

کوئٹہ شہر کے بیچوں بیچ طوغی روڑ پہ ہم اس گھر میں چھ مہینے پہلے ہی شفٹ ہوئے تھے ، جب میں نے یہ سب دیکھا جو میں بیان کرنے جا رہی ہوں۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک دن امی چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ کسی شادی کے سلسلے میں دوپہر ہی سے چلی گئیں تھیں۔ حسب عادت ہمارا کھانا باورچی خانہ میں رکھ گئیں تھیں۔ باورچی خانے کے پیچھے ایک اسٹور بھی تھا۔

میں اور میری بہن کالج سے واپس آئے، گرمیوں کے دن تھے ہم نے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا اور سونے لیٹ گئے۔ دو کمروں کا گھر اس کے سامنے برآمدہ، ایک غسل خانہ برآمدے میں ، دوسرا صحن میں۔ ایک کمرے میں باجی سو گئی وہیں صوفے پہ میں بھی سونے لیٹ گئی۔

میں کچھ پہلے سو کر اٹھ گئی ، منہ ہاتھ دھو کر امی کی ڈریسنگ جو کہ دوسرے کمرے میں تھی،  کے سامنے بال بنانے کھڑی ہوئی ۔ بال بناتے بناتے کالج کی دن بھر کی باتیں بھی دماغ میں چل رہی تھیں، اتنے میں باجی برآمدے میں کھڑی نظر آئیں۔ میں نے چُٹیا کو ربڑ بینڈ لگایا اور کوئی بات بتانے باجی کی طرف بڑھی۔ باجی نے اپنا دوپٹہ لہرا کر کندھے پہ ڈالا اور مجھے جواب دیے بنا کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ میں ان کے پیچھے اپنی بات بیان کرتے ہوئے بڑھتی گئی۔ میں نے کچن میں قدم رکھا تو دیکھا وہ کچن سے اسٹور میں داخل ہو گئیں ہیں۔ میں جھنجھلاتے ہوئے ان کے پیچھے اسٹور میں داخل ہوئی اور ٹھٹک کے رہ گئی۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔

میں پلٹ کر واپس اس کمرے میں آئی جہاں باجی سو رہی تھیں۔ کیا دیکھتی ہوں کہ باجی اپنی جگہ پر اب بھی بڑی بے خبر سو رہی ہیں۔

میں نے اپنے خشک گلے کو تر کرنے کے لئے تھوک نگلا اور ابھی جو سب ہوا اس کو اپنا وہم کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی۔

رات امی کے آنے پر انہیں یہ واقعہ سنایا۔ امی نے کہا یہ تمہارا وہم ہی ہو گا، تم اب اسے زیادہ مت سوچو۔

اس گھر میں ہم تین سال رہے پھر میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

مالک مکان نے وہ گھر ایک بلڈر کو بیچ دیا تھا ، اسی لئے ہمیں بھی گھر خالی کرنا پڑا جبکہ ہم اس گھر میں بہت سکون سے تھے،ہمارے حالات بھی روز بروز اچھے ہو رہے تھے۔

کوئی سال بھر بعد اس علاقے میں میری بہن کا ایک شادی میں جانا ہوا، وہیں انہیں پرانی پڑوسن سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ وہ خاتون بہت پرتجسس انداز سے میری بہن سے ملی اور انہوں نے بار بار یہ پوچھا کہ ”جب آپ اس گھر میں رہتے تھے تو کبھی آپ نے کچھ محسوس کیا؟“

اس پر میری بہن نے میرے ساتھ ہونے والا واقعہ سنایا۔ پھر ان کے اس سوال کے پوچھنے کا سبب بھی پوچھا تو انہوں نے بتایا۔

”جب وہ مکان بلڈر نے آگے بیچا اور اس مکان کی جگہ مارکیٹ بنانے کا فیصلہ کیا تو اس مکان کو توڑنا پڑا۔

مزدور صبح صبح اس مکان پر آ گئے اور اندر داخل ہو کر اپنا کام شروع کر دیا، ابھی کام کرنا شروع کیا ہی تھا کہ اللہ جانے ان کے ساتھ اندر ایسا کیا ہوا کہ وہ چار مزدور بالکل سرخ ہو کر بھاگتے ہوئے مکان سے باہر دوڑے۔”

یہ واقعہ سن کر میری بہن نے گھر آ کر امی کو سنایا تو امی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بتانے لگی ”یہ اسی روح کا کام ہو گا۔“

ہم نے حیرت سے امی کی جانب دیکھا اور تفصیل جاننا چاہی۔ جس پر امی بتاتی ہیں کہ انہیں یہ تفصیل اسی محلے کی ایک بزرگ خاتون جو کافی عرصے سے اس علاقے میں رہائش پذیر تھیں،  نے بتائی ہے ، انہی کی زبانی سنئیے:

”شیریں کے ہاتھوں کی مہندی ابھی اتری نہیں تھی کہ ساس بہو کے جھگڑے شروع ہو گئے۔ ایک دن ایسا جھگڑا ہوا کہ شوہر نے برآمدے والے غسل خانے میں مارتے مارتے شیریں کی جان لے لی۔ اس کے بعد سے اس گھر میں کوئی نہیں رہ سکا۔ تم لوگوں کو شاید اس لیے شیریں نے رہنے دیا کہ تم تہجد گزار ہو اور پاکی ناپاکی کا بھی بہت خیال رکھتی ہو۔“

امی نے یہ بھی بتایا کہ کئی مرتبہ امی نے سسک سسک کر رونے کی آوازیں سنی تھیں اور امی بے اختیار سورہ فاتحہ پڑھ کر دعا کر دیتی تھیں۔

کیا واقعی جو لوگ اپنی موت کے وقت سے پہلے قتل کر دیے جاتے ہیں ، ان کی روحیں اس دنیا میں رہ جاتی ہیں اور بھٹکتی رہتی ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •