تجسس ، تحقیق اور تخلیق کے لئے ہمہ وقت سرگرداں: ہمہ جہت، ہمہ صفت، پروفیسر لئیق احمد خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان ٹیلی وژن کا ایک پروگرام آن ائر ہے۔ اس وقت اس میں کچھ افراد کو ڈائنگ ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ اب کھانے کے بعد ، اس دوران میں بچ جانے والی ہڈیوں کو پھینکے جا نے کا منظر ہے۔

اس منظر کو سمجھنے کے لئے، آئیں کچھ اور مناظر دیکھتے ہیں، جس سے بات شاید تھوڑی واضح ہو سکے۔

یہ ایک بچہ ہے جس کا معمول ہے کہ یہ تقریباً ”روز کوڑے کے ڈھیر میں دیر تک کچھ ڈھونڈتا رہتا ہے اور پھر اپنے تھیلے میں مطلوبہ چیز ڈال کر وہاں سے چل دیتا ہے۔

وہ یہ منظر کئی دفعہ دیکھ چکے تھے اور پھر آخر ان کے تجسس سے رہا نہ گیا کہ وہ یہ جان لیں کہ آخر اس کوڑے کے ڈھیر میں ایسا کیا ہے جس کی تلاش کے لئے یہ بچہ روز یہاں کھچا چلا آتا ہے۔ انھوں نے ایک دن اس بچے سے یہ پوچھ ہی لیا کہ وہ یہاں آ کر کیا ڈھو نڈتا ہے۔ اس کا جواب بہت سادہ تھا کہ میں کھائی ہوئی ہڈیاں جمع کرتا ہوں، یہ جواب ان کو اکسانے کے لئے کافی تھا، مگر اب سوال تھا، کیوں؟ اس کیوں کا جواب اس بچے کے پاس نہ تھا۔ ہاں اسے یہ ضرور معلوم تھا کہ وہ ان ہڈیوں کو لے کر کہاں جاتا ہے۔ اور اس کیوں کے جواب کے لئے وہ اس بچے کے ساتھ، وہاں جا پہنچے، جہاں ان ہڈیوں کو پہنچایا جانا تھا۔

یہ جگہ تھی راولپنڈی کا علاقہ کمیٹی چوک! یہاں ایک اور سوال تھا، اور وہ تھا، کیا؟ یعنی ان ہڈیوں کا کیا کیا جاتا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی یہاں دستیاب نہ تھا سوائے اس کے کہ یہ ہڈیاں یہاں سے گجرات بھیج دی جاتی ہیں۔ تجسس نے گجرات پہنچا دیا، یہاں جواب کی کسی قدر تشریح یوں ہوئی کہ اب ان ہڈیوں کو میدان میں پھیلا کر ان پر پانی چھڑک دیا جائے گا تاکہ پرندے ان میں لگے ریشے کھا جائیں۔ پھر اس کے بعد ؟ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔

فی الحال جواباً یہ بتایا گیا کہ مختلف شہروں سے جمع شدہ یہ سارا ڈھیر کراچی روانہ کر دیا جائے گا۔ جواب کے متلاشی، اس سوال کے پیچھے، کراچی جا پہنچے، اس امید اور یقین کے ساتھ کہ بالآخر، جواب کہیں تو ملے گا۔ جی ہاں جواب اسی شہر میں پوشیدہ تھا۔ جواب کے مطابق، اب یہ بچی کھچی ہڈیاں یہاں سے بیرون ملک برآمد کر دی جائیں گی۔ اس طرح، بہ ظاہر، یہ ناکارہ، غیر اہم، اور کوڑے کا حصہ قرار دی جانے ولی ہڈیاں، درحقیقت، اب بھی کارآمد ہیں کہ اب یہ بیرون ممالک میں، دواؤں کے کیپسول بنانے میں معاون ہوں گی۔

اب یقیناً آپ کو پہلے منظر کے ڈائننگ ٹیبل اور اس حوالے سے، کھانے کے بعد کوڑے دان کے نذر کی جانے والی، ہڈیوں کی کہانی سمجھ آ گئی ہو گی۔ پی ٹی وی کے ناظرین اس منظر کو اس لئے اور واضح طور پر سمجھ سکے کہ اس کے پس منظر میں پروفیسر لئیق احمد خان کی آواز اس پہلو کو اور نمایاں کر رہی تھی کہ یہ محض ضائع شدہ ہڈیاں نہیں، زرمبادلہ کی ایک صورت ہے جس کی اہمیت سے ہم آگاہ نہیں۔

اس محنت طلب تحقیق اور جستجو پر لئیق احمد (اور اس پروگرام کے پروڈیوسر جمشید فر شوری مرحوم ) بلاشبہ، سراہے جانے کے قابل تھے اور بجا طور پر وہ اس کے لئے ایوارڈ کے حقدار بھی ٹھہرے۔

تجسس اور تحقیق، لئیق احمد خان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو ان کے پروگراموں کا خاصہ کہا جاسکتا ہے۔ کسی بھی موضوع کے حوالے سے ان کے پیش کردہ اعداد و شمار اور حقائق، سننے اور دیکھنے والوں کے لئے دلچسپی اور حیرت کا باعث ہوتے تھے۔

اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ ہماری ہاں کم لوگ ہوں گے جو پس لفظ دیکھنے کے عادی ہوں اور اس بھی کم ہوں گے جو لفظ کے مفہوم کا تعاقب کریں (اور اس سے قربت اور شناسائی کے آرزومند ہوں)۔ طائرانہ نگاہ، سرسری جائزے کا احاطہ کرتی ہے جبکہ نظر غائر اور باریک بینی سے دیکھے جانے کے نتائج بجا طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔

اسی لئے لئیق احمد کی شخصیت کا ہمہ جہت اور ہمہ صفت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سطحی حدود سے آگے جا کر، کسی بھی میدان اور موضوع کے تہہ در تہہ موجود سوالات کے الجھے سلجھے جوابات کو جذب کرنے اور پھر اسے عام وخاص تک پہنچانے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

ٹی وی میزبانی کے میدان میں ان کی مہارت اور اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے حوالے سے نو ری ٹیک کے قائل تھے یعنی ان کی طرف سے یہ واضح تھا کہ سب کچھ ون گو میں اوکے ہوگا۔ لہٰذا ان کا پروگرام اتنے ہی دیر میں ریکارڈ ہوگا، جتنا دورانیہ اس کا طے ہے۔ لئیق احمد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی ٹی وی تاریخ کے وہ پروگرام جو کئی برس تک تسلسل سے آن ائر رہے، ان میں ان کا شو سائنس میگزین غالباً سرفہرست ہے۔

انھوں نے ٹی وی سے براہ راست کمپئرنگ، پہلی بار، شملہ معاہدے کے سلسلے میں کی اور پھر اس میدان کے ایسے شہسوار ہوئے کہ ہماری تاریخ کے ان گنت واقعات کی یاد دہانی، ان ہی کی آواز سے ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •