کتنی آبادی کا ملک چلے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھئی بات تو سولہ آنے ٹھیک ہے ”بائیس کروڑ آبادی کا ملک کون چلا سکتا ہے“ ، اور جب حکومت چلانے کی تیاری بھی نہ ہو تو دل یہی چاہتا ہو گا کہ ”چل چلیے دنیا دے اس نکرے، جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے“ یا حکومت کریے ”اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو“ ، لیکن جا بھی نہیں سکتے، ورنہ تبدیلی کیسے آوے گی، اور کوئی سننے والا نہ ہوا تو وعدوں بھری تقریر کسے سنائی جاویں گی۔

وزیراعظم کی اس الجھن اور پریشانی نے ہمیں بھی پریشان کر دیا اور الجھا دیا، بہت سوچا کہ اپنے وزیراعظم کو اس الجھن سے کیسے نکالیں؟ آخر دماغ سوزی کے بعد کچھ ترکیبیں سوجھ ہی گئیں۔

ترکیبیں بتانے سے پہلے بات ہو جائے تیاری نہ ہونے کی۔ اس کا تو اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم تو سمجھے تھے تیاری کروا کر حکومت میں لایا جا رہا ہے، اب انکشاف ہوا ہے کہ اُن پر لانے اور اِن پر آنے کا شوق طاری تھا، کوئی تیاری نہیں تھی۔ چلیے کوئی بات نہیں، لیکن ہم سے پوچھ لیا جاتا تو ہم تجویز دیتے کہ جس طرح جنگی مشقیں کی جاتی ہیں اسی طرح دو اڑھائی سال حکومت چلانے کی ”مشق“ کے لیے دیے جائیں۔ غالباً یہی کیا گیا ہے۔

اب ظاہر ہے جنگ اور ”مشق“ میں سب جائز ہوتا ہے۔ مشق کا اعلان ہو جاتا تو کم ازکم عوام کو پتا ہوتا کہ وہ اور ملک تختۂ مشق بنے ہوئے ہیں۔ چلو پتا تو چل ہی گیا کہ عشق اور ”مشق“ چھپائے نہیں چھپتے۔ تربیت کی غرض سے ایک چھوٹا سا ملک بھی بنا کر دیا جا سکتا تھا، یہ کہہ کر ”پہلے یہ ننھا پاکستان چلا لو، پھر نیا پاکستان بنا لینا۔“ گویا یہ کھلونا گاڑی کی طرح کھلونا ملک ہوتا، اس کے برعکس ملک کو کھلونا بنا دیا گیا۔

خیر جو ہوا سو ہوا، اب تو مسئلہ یہ ہے کہ بائیس کروڑ آبادی کا ملک کیسے چلایا جائے؟ سیدھا سا حل ہے کہ آبادی گھٹاؤ ملک چلاؤ۔ دراصل ملک بھی تانگے کی طرح ہوتے ہیں، سواریاں زیادہ ہوں تو گھوڑا ہانپنے لگتا ہے، غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ”کل کا گھوڑا“ ، یعنی وہ گھوڑا جو کل پرزوں کے ذریعے چلے، ٹپاٹپ دوڑتا سواریوں کو منزل تک پہنچا دے گا، مگر کل پرزوں کے اپنے اتنے پر پرزے نکلے ہوتے ہیں کہ گھوڑے کو سمجھ میں نہیں آتا کہ جاؤں تو جاؤں کہاں؟

ان پریشان اور ”کنفیوز“ گھوڑوں کے علاوہ ایسے گھوڑے بھی ہوتے ہیں جنہیں چلنے کے لیے خالی سڑک چاہیے، چناں چہ ٹانگے والا ”میری چلی ہے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر“ کہتا سڑک خالی کراتا رہتا ہے، آخر ایک دن ایسے بدحواس اور نخریلے گھوڑوں سے تنگ آ کر تانگے والا گھوڑے بیچ کر سو جاتا ہے۔ ملک کے لیے کشتی کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ کشتی کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ”جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔“ بعض اوقات ناخدا ہی کشتی پر بوجھ ہوتا ہے، ایسے ہی ناخدا کے بارے میں عبدالحمید عدمؔ نے کہا تھا:

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں ناخدا کے ساتھ

عدم نے کچھ بھی کہا ہو، لیکن جب ”قمر“ نے کہہ دیا کہ ”جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں“ تو بوجھ ہی اتارنا چاہیے۔ یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ یہ مصرعہ معروف شاعر قمر جلالوی کا ہے، یہ وہی قمر جلالوی ہیں جن کا شعر ہے، ”کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو، نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو“ ، قمر کا ایک اور شعر بھی ملاحظہ کیجیے :

میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں، فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

ان اشعار سے آپ یقیناً قمر کی عظمت اور حیثیت کے قائل ہو گئے ہوں گے، اور جان گئے ہوں گے کہ ہم عدم کے خدشے پر قمر کے قول کو کیوں فوقیت دے رہے ہیں۔

دیکھیے بات کہاں سے کہاں نکل گئی، اس سے پہلے کہ بات ہاتھ سے نکلے ہم حسب وعدہ آبادی گھٹانے کے کچھ طریقے پیش کیے دیتے ہیں:

پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ طیارے بھر بھر کے بیرون ملک بھیجے اور مسافروں سمیت پکڑوائے جائیں، طیاروں کو بھرنے کے لیے انہیں چلانے کا فریضہ منی بسوں کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو سونپا جائے۔ یوں بیٹھے، کھڑے، ایک دوسرے پر چڑھے، پھنسے، طیارے کے پروں سے لٹکے اور چھت پر تشریف دھرے دو اڑھائی ہزار پاکستانی ہر پرواز سے بیرون ملک روانہ کیے جا سکیں گے۔ دیکھا کس طرح دو تین لاکھ پاکستانی کم ہو گئے!

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی پوچھے کہ نیا پاکستان کہاں ہے بھیا؟ تو اسے ساحل پر  لے جاکر کشتی میں بٹھا اور کہہ دیا جائے، ”وہ آگے ہے، جہاں تیل نکل رہا ہے۔“ کوئی چار پانچ کروڑ پاکستانی یوں آناًفاناً ”سمندر پار“ پاکستانی ہو جائیں گے۔

تیسرا طریقہ تو ان سے بھی آسان ہے۔ جس سرکاری عملے نے کراچی میں مردم شماری کی ، اسی سے ملک بھر میں مردم شماری کرائی جائے، یہ دراصل ”مدغم شماری“ ہو گی، جس میں سو دو سو افراد کو ایک دوسرے میں ”مدغم“ کرتے ہوئے انہیں ایک گنا جائے گا۔

اب بائیس میں سے بچے گیارہ کروڑ، اور کم کرنا ہیں؟ چلیے کیے دیتے ہیں۔

چوتھا طریقہ۔ لو جی مسئلہ پانی کر دیا۔ اعلان کر دیں کہ ایک عظیم (گرینڈ) قرعہ اندازی ہو گی، بائیس کروڑ پرچیوں میں سے جو پندرہ لاکھ کھلیں گی، انھی پرچی والوں کو پاکستانی تصور کیا جائے گا، باقی ماندہ سے کہہ دیا جائے گا، جس تبدیلی کا وعدہ تھا، وہ تبدیلی آ نہیں رہی آ گئی ہے، مگر آپ میں آئی ہے، اب آپ پاکستانی نہیں رہے، اس طرح ہاتھ کے ہاتھ نیا پاکستان بھی بن گیا، جب آپ بجلی، گیس، پانی نہ آنے کی شکایت، نوکری نہ ملنے کا شکوہ، نو تعمیر شدہ پچاس لاکھ مکانوں کی تقسیم میں ٹھینگا دکھانے کا گلہ اور حکومت کی طرف سے لگائے گئے کروڑوں درختوں کے سائے میں بیٹھنے کی ممانعت پر واویلا کریں گے تو آپ کو ایک ہی جواب ملے گا۔ چوں کہ آپ پاکستانی نہیں اس لیے مطلوبہ سہولت آپ کو میسر نہیں۔ تب آپ کو لگے گا اور بہت زور سے لگے گا کہ نیا پاکستان بن گیا ہے، جو اتنا نیا ہے کہ آپ کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ البتہ تب بھی آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

لیجیے صاحب! آبادی گھٹا کر پندرہ لاکھ کا ملک بنا دیا اب خوش! اتنی آبادی کا ملک چلے گا؟ یا اور کم کرنا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •