رکشے والے انکل کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بازار سے گھر آ رہی تھی ، خاندان میں شادی کے سلسلے میں تیاریاں عروج پر تھیں ، بازار سے باہر آتے ہی رکشہ کو ہاتھ دیا ، وہ پاس آیا تو اس نے کہا جی بیٹا! کہاں جانا ہے ، میں نے کہا انکل نیازی چوک جانا ہے۔  انہوں نے کہا بیٹا! سو روپیہ لوں گا۔ والدہ نے کہا چلو بیٹھ جاؤ۔ ہم بیٹھ گئے راستے میں ہم پرسکون آ رہے تھے کہ اچانک رکشے والے انکل کے فون کی گھنٹی بجی ، انہوں نے فون اٹھایا تو آگے سے سسکیوں کی آواز آئی۔

وہ ہیلو ہیلو کرتے رہے اور اچانک رکشہ روک دیا اور روک کر دوبارہ فون کیا اور کہنے لگے رو کیوں رہی ہو ، ایسے مجھے بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔

ہم اک دم چپ ہو گئے کہ شاید ان کے ہاں کوئی انتقال کر گیا ، یہی سوچ رہے تھے تو آواز آئی:

کیا بیٹی۔۔۔؟ تو کیا ہوا۔ تم کیوں رو رہی ہو؟ تو کیا ہوا اگر بیٹی ہوئی ہے ، بیٹی تو رحمت ہوتی ہے۔

ہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے ، فون سے سسکیوں کی آواز ہم تک آ رہی تھی اور آہ و بکا کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آواز آتی رہی کہ اب پانچویں بیٹی ہو گئی ہے ، ہم کیا کریں گے ، ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ،  خاتون نے لمبا سانس لیا اور بھاری آواز میں کہا کہ نرس سات ہزار مانگ رہی ہے۔ انکل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جب کہ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ مرد کے آنسو کون سے آنسو ہوتے ہیں۔ انکل نے کہا کہ میں ایک سواری چھوڑ کے پندرہ منٹ میں گھر آ رہا ہوں ، آپ لوگ فکر نہ کرو ، کچھ کھا لو اور میں کھانے کو لے آتا ہوں کچھ۔

فون بند ہوا تو وہ اپنے آنسو صاف کرنے لگے ، ماما نے پوچھا بھائی کیا ہوا خیریت تو ہے؟ انہوں نے جواب دیا: باجی! غریب کی بھی کیا کوئی زندگی ہے ، آج میں پانچ بیٹیوں کا باپ بن چکا ہوں ، کرائے کا گھر ہے اور آج مالک مکان نے گھر خالی کرنے کا کہا تھا۔ اب میں سب کو لے کر کہاں جاؤں؟

بہت بے بس ہو چکا ہوں ، بات یہ نہیں کہ بیٹی گھر آئی ہے ، بات تو یہ ہے کہ میں بہت مجبور ہوں اور ابھی کے ابھی جا کے سات ہزار دینا ہے۔

میرے بھائی نے پانی والی بوتل انکل کو دی ، انہوں نے پانی پیا اور لمبی سی آہ بھری پھر ہمارے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ ماما نے کہا نہیں بھائی ہم چلے جائیں گے لیکن انہوں نے کہا کہ میں نے بھی اسی طرف جانا ہے۔

وہ اتنی مشکل سے رکشہ کو چلا رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

پھر ہماری منزل آ گئی ، ہم لوگ تھوڑا پیچھے اتر گئے ، ماں کے پاس دو ہزار ہی بچا تھا ، وہ ان کو دے دیا اور کہا اپنی بیوی اور بچی کے لیے کچھ لے جائیں ۔ان کے منہ سے ایسی ایسی نیک دعائیں نکل رہی تھی کہ ان دعاؤں کے مقابلے میں دو ہزار کچھ بھی نہیں تھے۔

زندگی کتنی مشکل ہے ، ہر انسان کی ایک الگ کہانی ہوتی ہے۔ اور ایک باپ کتنا خوبصورت تحفہ ہے جو اپنی اولاد کے لیے سارا دن گھر سے باہر روزی کمانے جاتا ہے کہ ان کو کسی طرح کی کمی محسوس نہ ہو۔

باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے۔ والد ایک مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی حفاظت کرتا ہے۔ باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے اہل وعیال اور اولاد کو پالنے کے لیے خود بھوکا رہ کر یا روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھا کھانا، پینا، تعلیم اور تربیت میسر ہو۔ باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے خاتم النبیین سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”باپ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کر دے۔”

والد کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ چاہتا ہے اس کی اولاد اس سے آگے بڑھے۔ وہ بچوں کو ترقی کرتا ہوا دیکھ کر پھولا نہیں سماتا۔ خود اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتا ہے ۔ والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی نگہبانی کرتا ہے ۔ ایک موقعہ پر ایک صحابی رسول نے آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ میرے والد میرے مال سے خرچ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے موقع پر میں کیا کروں؟ آپﷺ نے جواب دیا تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کے لیے ہیں، یہاں پر بڑی غور ظلب بات ہے کہ باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے ، جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم سے محفوظ رکھتی ہے۔

میں کہنا چاہتی ہوں کہ مرد کے آ نسو بہت بے بسی میں بہتے ہیں ، غربت انسان کو مار دیتی ہے ، اس مرد کی ہمت ہے کہ اس نے گھر جا کر سنبھالنا تھا ، پتا نہیں اس کے ذہن میں کیا سے کیا سوال گونج رہے ہوں گے۔ اللہ کے علاوہ اس کی تکلیف کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔

ہمیں اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے ۔ دکھ، تکلیف میں جب ہم مبتلا ہوں تو مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ عظیم ذات اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں ڈالتی ہے۔

ہمیں ہر لمحے شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے والدین کی خدمت کرنی چاہیے ۔ جہاں تک ہو غریب لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ کسی کا بھی دل یہ نہیں کرتا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے ، ایک دوسرے کا احساس کرنا چاہیے ، روپیہ پیسہ تو آ نے جانے والی چیز ہے ، آج ہمارے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •