امریکہ بھر میں ہنگاموں کا خدشہ ہے: سیکیورٹی اداروں کا انتباہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے سیکیورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج پر لوگوں میں بدستور غصہ موجود ہے جس کی وجہ سے آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں ملک بھر میں ہنگامے ہو سکتے ہیں۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی یعنی اندرونی سلامتی کے ادارے نے بدھ کو ‘نیشنل ٹیررازم ایڈوائزری سسٹم بلیٹن’ جاری کیا ہے جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ سخت خطرے والا ماحول اپریل کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ادارے نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں پرتشدد مظاہرے جاری رہے اور تشویش ہے کہ کچھ لوگ جو حکومت کے اختیارات کے استعمال اور انتقالِ اقتدار پر ناخوش ہیں، وہ دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست پر ان کے حامیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جب کہ سبکدوش ہونے والے صدر انتخابات میں مسلسل دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

چھ جنوری کو سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر اُس وقت چڑھائی کی تھی جب وہاں جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ انتباہی بلیٹن میں خبردار کیا گیا ہے کہ کیپٹل ہل پر حملے سے شاید مقامی شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہو اور اس کے پیشِ نظر منتخب نمائندوں اور سرکاری مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

کیپٹل ہل ہنگامہ آرائی میں منتخب نمائندوں کے قتل کی سازش، پراسیکیوٹرز نے الزام واپس لے لیا

حکام نے بتایا ہے کہ ممکنہ پرتشدد واقعات سے متعلق انتباہ جاری کرنے کا فیصلہ ملکی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔ تاہم ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ادارے نے بتایا کہ تشویش ہونے کے باوجود ادارے کے پاس ایسی معلومات نہیں جو کسی قابلِ ذکر یا مخصوص منصوبے کی جانب اشارہ کرتی ہوں۔

وفاقی عہدیداروں نے گزشتہ ہفتے صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے پہلے بھی ملک کی تمام 50 ریاستوں میں پرتشدد مظاہروں کے امکان سے خبردار کیا تھا لیکن اس دن چند ہی افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

کچھ دن قبل واشنگٹن میں بعض مظاہرین ایک ریلی سے نکل کر گورنر مینشن میں سیکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب ہوئے اور داخلی دروازے تک پہنچ گئے تھے۔

کیلی فورنیا میں بھی حکام نے درجن بھر لوگوں کو رواں ماہ ریاست کی کیپٹل بلڈنگ سے گرفتار کیا تھا جب وہ اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں شریک تھے۔

دوسری جانب فیڈرل پراسیکیوٹرز نے منگل کو ریاست کیلی فورنیا کے ایک 43 سالہ شخص بنجمن راجرز کے خلاف پائپ بم رکھنے اور اس طرح کے بم بنانے میں استعمال ہونے والا مواد رکھنے کی فردِ جرم عائد کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ ملزم کی جانب سے بھیجے گئے تحریری موبائل پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ڈیموکریٹ سیاست دانوں اور عہدیداروں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کیپٹل ہل پر چڑھائی میں ملوث 300 افراد کی نشان دہی، قانونی کارروائی جاری

تفتیشی حکام کے مطابق بنجمن راجرز سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جائز طور پر صدارتی انتخاب جیت گئے تھے۔

واشنگٹن میں موجود امریکہ کی فوج اور پولیس کے ادارے بھی ملک میں موجود خطرات سے خبردار کرتے آئے ہیں۔

امریکی فوج نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ دارالحکومت میں مارچ کے وسط تک نیشنل گارڈ کے سات ہزار اہلکار تعینات رہیں گے۔ اس ضمن میں فوج نے متعدد اعلی سطحی پروگراموں کے پیش نظر تشویش کا بھی اظہار کیا تھا جن میں صدر بائیڈن کا کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی اور اسقاطِ حمل سے متعلق سالانہ مارچ فار لائف بھی شامل ہے۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے بھی ملک کے اندر موجود شدت پسندوں کی جانب سے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق کیپٹل ہل پر حملے میں شامل 400 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ 150 ملزمان پر مختلف الزامات کی فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو ‘اندرونی انتہا پسندی’ سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پریس سیکریٹری جین ساکی نے صحافیوں کو بتایا کہ کپیٹل ہل پر حملے کے دوران ہلاکتوں اور تباہی نے اس تشخص کو نقصان پہنچایا ہے جس کے لیے ہم طویل عرصے سے جانے جاتے تھے۔

اُن کے بقول مقامی سطح پر پرتشدد انتہا پسندی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور انتظامیہ اس خطرے کا ضروری وسائل اور عزم کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1255 posts and counting.See all posts by voa