چیلنجر حادثہ: خلائی جہاز کی تباہی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

راجینی ودیاناتھن - بی بی سی نیوز واشنگٹن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مضمون پہلی مرتبہ بی بی سی ورلڈ کی ویب سائٹ پر 28 جنوری 2011 کو شائع کیا گیا تھا۔

خلائی جہاز چیلنجر اپنی لانچ کے منٹ کے بعد تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار ساتوں خلا باز ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ ایک سانحہ بھی تھا اور ایک انتہائی حیران کن موقع جس نے دنیا کو ہلاک کر رکھ دیا تھا۔

اس سارے واقعے میں کل وقت 73 سیکنڈ لگے تھے۔

دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے 28 جنوری 1986 میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی سپیس شٹل کی لانچ کی نشریات دیکھیں۔

اور جیسے ہی اس پر کامنٹری خاموش ہوگئی اور آسمان پر دھویں کی ایک لکیر ہی رہ گئی، ساری دنیا کو پتا چل گیا کہ چیلنجر کے مشن میں کچھ انتہائی بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔

شٹل تیزی سے تباہ ہوگئی اور عملے کے ساتوں اراکین ہلاک ہوگئے۔

یہ پرواز شدید سردی کے باعث کئی روز تک ملتوی کی گئی تھی۔ بعد میں تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ایک راکٹ بوسٹر کا سیل خراب ڈیزائن اور شدید سردی کی وجہ سے خراب ہوگیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ تھا جب امریکی خلا باز دورانِ پرواز مارے گئے تھے اور یہ ملک کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔

قومی صدمہ

امریکہ کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ خلا بازوں کے ساتھ سپیس شٹلز مدار میں بھیج سکتا تھا اور 1981 سے 1986 تک اس نے 20 مرتبہ کامیابی کے ساتھ کیپ کنیورل سے سپیس ٹرانسپورٹ سسٹم کو لانچ کیا تھا۔

یہ وہی مقام ہے جہاں سے چیلنجر کا آخری سفر شروع ہوا۔ دنیا بھر میں لوگوں نے براہ ےراست دیکھا کہ کیا تباہ کن واقعہ پیش آیا ہے۔

اس وقت 16 سولہ سالہ برائن بالارڈ موقعے پر لوگوں کے لیے بنائے گئے خصوصی ڈیک پر موجود تھے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’پہلے میں نے سوچا کہ اس نے صحیح وقت پر اپنے حصے علیحدہ کیے ہیں۔ پھر مجھے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ہر کوئی کنفیوژ ہو گیا تھا۔ میں پھر بھی امید لگائے بیٹھا تھا۔ میرا خیال تھا کہ ابھی بھی کوئی دوسرا پلان ہوگا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بات کا احساس ہونے میں تھوڑا وقت لگا کہ اب وہ واپس نھیں آ رہے۔‘ برائن بالارڈ اس وقت اپنے سکول کے اخبار ’دی کرمسن‘ کے لیے شٹل کے لانچ کی خبر کور کرنے کے لیے گئے تھے۔

چیلنجر کا حادثہ

انھیں اس لیے بھیجا گیا تھا کیونکہ ان کے سکول کی ایک ٹیچر کرسٹا مکئولف چیلنجر پر سوار تھیں اور انھیں امید تھی کہ وہ خلا میں جانے والی پہلی ٹیچر بن جائیں گی۔

کرسٹا مکئولف نیو ہیمشائر کے کونکورڈ ہائی سکول میں پڑھاتی تھیں۔ انھیں ناسا کے ’ٹیچر ان سپیس‘ پروگرام کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کو صدر ریگن نے 1986 میں متعارف کروایا تھا۔ اس کا مقصد خلا بازی اور سائنس کی تعلیم میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ تھا۔

1986 میں ریاست کنیٹیکٹ کے ایک ہائی سکول میں پڑھانے والے ڈین بارسٹو اس پروگرام کے بارے بتاتے ہیں کہ ‘ہم اپنے طلبہ کو خلابازی اور سائنس کی تعلیمات دینے کے بارے میں بہت خوش تھے۔ ہم یہ سوچتے تھے کہ جانے کون سا ٹیچر اگلی بار جائے گا۔‘

خلا کی تعلیم

یہی وجہ تھی کہ بہت سے سکولوں نے چیلنجر کے لانچ کو براہِ راست دکھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس کی نشریات سینکڑوں سکولوں میں براہِ راست نشر کی جا رہی تھیں۔

ڈین بارسٹو کہتے ہیں کہ ’ہمارا پورا سکول آڈیٹوریم میں جمع ہو کر دیکھ رہا تھا۔‘ مگر ان کے بہت سے طلبہ چیلنجر کے پھٹنے کے بعد خاموشی میں آڈیٹوریم سے چلے گئے۔

دنیا بھر میں شٹل کے لانچ سائنس میں امید کی علامت تھے تو یہ ناکامی قومی سطح پر ایک نقصان تھا اور اس سے سپیس پروگرام کو بھی ٹھیس پہنچی۔

مگر یہ امریکی سپیس پروگرام میں پہلا سانحہ نھیں تھا۔ 1967 میں جب اپولو 1 کے کمانڈ موڈیول میں آگ لگی تو اندر موجود تینوں خلا باز ہلاک ہوگئے تھے۔

مگر چیلنجر کے حادثے کی خاص بات یہ تھی کہ اسے براہِ راست دنیا بھر میں نشر کیا گیا تھا اور لوگوں نے اسے براہ راست تباہ ہوتے ہوئے دیکھا۔

چیلنجر تباہ ہو گئی

اہم موقعہ

سمتھسونیئن نیشنل سپیس اینڈ ایئر میوزیم سے وابستہ ویلری نیل کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو ایسا لگا تھا کہ جیسے کہ وہ خود وہاں پر موجود تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’امریکیوں کو چاند پر انسان کے پہنچنے اور اپولو 13 کی واپسی کے بعد کامیابی کی عادت سی ہو چکی تھی اور ان کے خیال میں ہی نھیں تھا کہ ہمارے سپیس پروگرام میں ناکامی ہوسکتی ہے۔‘

‘اس کے علاوہ ناکامی کے احساس کو بڑھاوا یہ بات دے رہی تھی کہ ایک عام امریکی شہری جسے اپنا خواب پورا کرنے کے لیے چنا گیا تھا وہ اپنا خواب پورا نھیں کر سکی۔‘

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کہیں سپیس پروگرام کا ورثہ مکمل طور پر تباہ نہ ہو جائے، ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے چیلنجر سنٹر فار سپیس سائنس ایجوکیشن بنایا جس کا مقصد خلائی سفر کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مگر جن بچوں نے چیلنجر کا حادثہ آنکھوں سے دیکھا تھا ان کی زندگی میں یہ ایک اہم موقعہ تھا۔ مارک ایڈلمین اس وقت سات سال عمر کے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے کلاس روم میں داخل ہونا یاد ہے اور مجھے یاد ہے کہ ہر کوئی چِلا رہا تھا کہ شٹل پھٹ گئی ہے۔‘

اور ان کے سکول کے لیے یہ اور زیادہ اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ان کے سکول کی ایک ٹیچر نے بھی اسی پروگرام کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔

مارک کہتے ہیں کہ ’بہت سے بچوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب ان کی زندگی پر کسی اہم واقعے کا اثر پڑا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ میری ٹیچر بھی ہو سکتی تھیں۔‘

مارک کے خیال میں اس واقعے نے امریکیوں کو متحد کر دیا تھا۔ وہ اسے 9/11 کی طرح کا حادثہ تصور کرتے ہیں۔

اس قومی صدمے کے نتیجیے میں صدر ریگن نے اسی شام اپنا سٹیٹ آف یونین خطاب بھی ملتوی کر دیا اور انھوں نے خصوصی طور پر ان بچوں کا بھی ذکر کیا جو اس سے متاثر ہوئے تھے۔

انھوں نے بعد میں اپنے حطاب میں کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ کس قدر تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ یہ سب دریافت اور تحقیق کے عمل کا حصہ ہے۔ یہ خطرات کا سامنا کرتے ہوئے انسانیت کی ترقی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مستقبل ڈرپوک لوگوں کا نہیں، مستقبل بہادر لوگوں کا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp