ریاست اور درپیش چیلنجز


21 ویں صدی کے جس دورانیے سے ہم گزر رہے ہیں، اسے جمہوریت، انسانی حقوق، مساوات اور اظہار آزادی کی صدی قرار دیا جاتا ہے، سیاسی نظام، رموز مملکت اور حکومتوں کے باہمی اور عالمی تعلقات کے حوالے سے بنیادی تصورات و افکار اور ان پر عمل درآمد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جائزہ لیں کہ دنیا بھر میں نظام جمہوریت، آمریت اور شخصی حکمرانی میں عوام کی منتخب کردہ حکومت کو فوقیت دی جاتی ہے، کیونکہ اس نظام کے تحت عوامی حاکمیت کا تصور کی تکمیل کے لئے سیاسی جماعتوں کو ووٹ کی طاقت سے پارلیمنٹ پہنچانا ہوتا ہے، اس عملیت کو نظام جمہوریت پر یقین رکھے والوں میں آئین اور قانون کی بالا دستی کا مظہر تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت مختلف نظام رائج ہیں، لیکن ان سب میں قدر مشترک ایک ہی تصور ہے کہ قوم کو بنیادی ضروریات و سہولیات دی جائیں، تاکہ وہ خود بھی عوام کے بزعم خواہش یا خود ساختہ آئین و قانون کے تحت اطمینان سے حکومت کرتے رہیں۔

کسی بھی نظام کی اساس میں آزاد میڈیا، ہر قسم کے انتظامی دباؤ سے آزاد عدلیہ، قوانین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا عندیہ دیا جاتا ہے، لیکن جب دریافت کیا جائے کہ قانون کی اصل حکمرانی کیا ہے؟ تو اس کا جواب غیر جانبداری سے کماحقہ نہیں مل پاتا، کیونکہ حکمرانی کی اخلاقی، جمہوری، سیاسی، آئینی اور قانونی بحث میں آرا کا منقسم ہونا اور کسی ایک امر پر متفق ہونا بھی بذات خود دیرینہ مسئلہ ہے، ملک خدا داد میں کئی دہائیوں سے دکھی و مصائب کا شکار عوام اپنی قومی، سیاسی زندگی اور اس سفر میں اپنے حکمرانوں کے بے حساب وعدوں پر یقین نہیں رکھتے، کیونکہ مطلق العنان حکومت ہو یا کرم خوردہ جمہوریت، کسی بھی طور پر حقیقی نظام و معاشی استحکام لانے میں ناکام رہے ہیں، ہر گزرتے وقت کے ساتھ عوام کی مشکلات میں اضافہ و مالی دشواریوں کو قومی خزانے بھرنے کے شور و غوغا میں دبا دیا جاتا ہے، ملکی معیشت کو مثالی قرار دینے اور غربت دور کرنے کے کس حکومت نے دعوی نہیں کیے، جب بھی کوئی نیا سیٹ اپ آتا ہے تو ہر صاحب اقتدار کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ مہنگائی ورثے میں ملی، یعنی ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘ ۔

عوام کی خدمت کے نام پر تخت اقتدار پر بیٹھنے والوں کا مرغوب ترین بیانیہ ہمیشہ مشترکہ رہا کہ اگر عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہے تو انہیں پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، اسے بیانات عوام کے لئے بلاشبہ تالیف قلوب کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن جلد ہی خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنی نظروں کو امیدوں کے آسمان پر جما لیتے ہیں کہ شاید ابر کرم کے چند قطرے ہی سہی، برسے تو۔

آنے والی ہر نئی حکومت کو خوش فہمی ہوتی ہے کہ اپنے وژن سے مملکت کو دنیا کے مرکز کا گہوارہ بنا دیں گے، سنہری دور کے اسی تجدید کریں گے کہ اصل سمت کا درست مقام صرف وہی تعین کر سکتے ہیں۔ اصل آئین کی بحالی کا ذمہ ان کے سر ہے تو سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے لئے بھی ان کی پالیسیاں وطن عزیز کو تاریک دور سے روشن دنیا میں واپس لے آئیں گی، لیکن کسی بھی حکومت سے عوام کو اطمینان حاصل نہیں ہوا کہ ووٹ کی حرمت میں ناگزیر کمٹمنٹ کی تجدید ہوئی ہو، اور مشروط تبدیلیوں میں فرسودہ و عوام دشمن نظام کو شکست دینے میں کامیابی مل سکی ہو، اس کامیابی کے لئے ان کے کھلی آنکھوں میں خواب، سچے سپنوں میں بدلتے نظر نہیں آتے، بلکہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، عدم تحفظ اور عدم استحکام کی اذیتوں کے رستے زخموں سے درد میں مسلسل اضافہ، جیسے مقدر بن گیا ہو۔ زبانی دعوؤں کے بجائے عملیت پسندی کو اختیار و قوت صرف کی جائے اور دائرہ کو بلا امتیاز رنگ و نسل و سیاسی وابستگی کے وسعت و اعتماد سازی کو بڑھایا جائے۔

میڈیا کی آزادی سے لے کر ملکی سلامتی و بقا، صوبائی اکائیوں کی معاشی آسودگی و اپنے مسائل پر تصرف اور خود مختاری، وفاق کی مضبوطی، عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر تعلقات کی استواری اور پڑوسی ممالک سے دیرینہ مسائل پر گفت و شنید اور غلط فہمیوں کے خاتمے سمیت ملک کے وقار کی بحالی کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں سے لے کر تمام اداروں کو ایک صفحے پر آ کر قومی تقاضوں کو فوقیت دینا ہوگی، اگر داخلی طور پر ہم اپنی کمزوریوں و ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ سکے تو اس کے کے بعد ہی عوام کو آسودہ حالی اور معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہو سکتی ہیں، یہی عمل ہماری خود مختاری کو سر بلند کرتے ہوئے کسی بھی جانب سے چیلنج کیے جانے سے روک سکتا ہے۔

موجودہ ملکی سیاسی حالات و ملک دشمن عناصر کی سازشی چالوں کو ناکام بنانے کے لئے عملیت پسندی کا متقاضی ہے۔ مسائل حل ہونے چاہیں اور عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی نظر آنے چاہے۔ خدمت کے حقیقی تصورات کو اپنانے سے ہی قوم کو اعتماد کی طاقت مل سکے گی۔

عوام کے مسائل کا زمینی حقائق کے مطابق ادراک، احساس، عظیم توقعات کی حقیقی ترجمانی کرنے والے اپنے دعوؤں کو سنگین بحرانوں سے نکالنے کے لئے اسٹریٹجی میں تبدیلی پیدا کریں، بدقسمتی سے قومی سیاسی سفر کے بے شمار مراحل میں آئین و قانون سے انحراف کی روش نے قوم کو آگے بڑھنے میں معاونت دینے کے بجائے پیچھے کے جانب ہی دھکیلا ہے۔ سیاسی حالات و معاشی عذابوں کو مد نظر رکھنا، کسی فرد واحد یا جماعت کی ذمے داری نہیں، حکمران جماعت کو کشاد دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ریاست کی بنیادی فرائض میں شامل ہے، دشت سیاست کو صرف تنہا پار نہیں کیا جاسکتا بلکہ سب کو ساتھ لے کر قانون کی بالادستی میں عوامی اعتماد کو بھی بحال کرنا ہوگا۔

تمام نمائندے احترام کی ضمانت کے طلب گار ہیں، عوام سکون و آرام کے متمنی ہیں۔ ایشو اور نان ایشوز کی سیاست کو عبوری دور سے نکالنے کے لئے دفن کرنے سے، مثبت ماحول کو فروغ دے گا۔ میڈیا پر بھی اہم ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ معاشرے کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے، کسی طالع آزما کا ترجمان بن کر آئین کی پامالی و حکومتوں پر شب خون مارنے کے سلسلہ میں فریق بننے سے گریز کرے، اس پر عمل کر کے ہی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے، جو ہم سب کے حق میں بہتر ہوگا۔

Facebook Comments HS