پروفیسر لئیق احمد خان: ذہانت، خطابت اور متانت کا سنگم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دنیا بھر کے موضوعات میں ان کی دلچسپی اور تجسس دیکھ کر، مجھے خود یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ یہ پتہ کر سکوں کہ پروفیسر لیئق احمد اپنے علمی ذوق کی تسکین اور بڑھاوے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ آخر ایک دن، میں، ان سے پوچھ ہی بیٹھا کہ لیئق صاحب، آپ کو کسی بھی موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی جائے، ( شارٹ نوٹس بھی ہو ) آپ کسی پس و پیش کے، رضامند ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوتا ہے۔ لیئق احمد صاحب نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ( اور کسی احساس تفاخر کے بغیر ) اس سوال کا فوری جواب بہت سادگی سے دے ڈالا۔

کہا، میں ہر روز دو گھنٹے اخبارات کے لئے نکالتا ہوں۔ ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھنٹہ شام، ایک گھنٹہ اردو اخبار کے لئے اور ایک گھنٹہ انگریزی اخبار کے لئے۔ اس موقع پر میں ان اخبارات کی اہم اور اپنی دلچسپی کی مطلوبہ خبروں اور مضامین کو بہت تفصیل سے پڑھتا نہیں بلکہ اپنے قلم سے محض انھیں نشان زد کرتا ہوں، تاکہ بعد میں ان کی تلاش میں دقت نہ ہو۔

بہت سوں کے لئے شاید ان کا یہی جواب باعث اطمینان ہو مگر یہ اس سوال کا، یوں کہیے کہ آدھا حصہ تھا، آدھا حصہ لئیق صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے، آگے بیان ہوگا، جس سے ان کی علم دوستی اور اس سمت مزید آگے بڑھنے کی جستجو، مزید واضح ہو سکے گی۔

سائنس ( اور پبلک ایڈمنسٹریشن ) میں ماسٹرز کے باوجود فنون لطیفہ کے میدان میں بھی اتنی ہی مہارت اور اس حوالے سے ملک گیر شناخت، ان کی متحرک ذہنی صلاحیت کا اظہار ہے۔ شاید۔ ، شاید کیا، بلکہ یقیناً سائنس کے ایک غیر معمولی طالب علم کے طور پر انھوں نے البرٹ آئن سٹائن کی یہ ترغیب آمیز رائے پڑھ رکھ تھی کہ

” ایک خاص عمر کے بعد ، مطالعہ، ذہن کو تخلیقی سرگرمی سے بہت دور کر دیتا ہے۔ ایک شخص جو بہت زیادہ پڑھتا ہے اور ذہن کا بہت کم استعمال کرتا ہے، بالاخر، محض سوچوں میں گم رہنے کی سست عادت کا شکار ہو جاتا ہے۔“

سو لئیق احمد صاحب کی زندگی ذہن سے مسلسل وابستگی اور عمل سے گہرے تعلق کی آئنہ دار رہی اور وہ کبھی بھی، مطالعے میں کھوئے، سوچوں میں گم، تساہل کا شکار دانشور کا روپ نہ دھار سکے۔

یہاں لئیق احمد صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ انھیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران طالب علمی، ڈاکٹر عبدالسلام کے شاگرد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ یہ دورانیہ ہر چند کہ مختصر رہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام تب سطحی معموں اور مسئلوں سے تائب ہو کر، تلاش کی نئی منزلوں کی تڑپ سے دوچار ہو چکے تھے۔ لئیق صاحب کے بہ قول، وہ اب پوری شفقت کے ساتھ یہ کہنے لگے تھے کہ ان ابتدائی مراحل کے حساب، اب انھیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرتے۔ یقیناً اس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ کسی اور گتھی کے سلجھانے میں الجھتے جا رہے تھے۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں مقرر کی حیثیت سے اپنی جگہ بنانے والا نوجوان، آنے والے دنوں کے لئے، ایک علمی، تحقیقی، شخصیت کے ساتھ ساتھ، ایسے ٹی وی میزبان کی تشکیل کر رہا تھا جس کی آواز، لہجہ، متانت، معلومات، تدبر، بر جستگی، پوری قوم کو اپنے سحر میں لینے والی تھی۔

پاکستان ٹیلی وژن کے آغاز کے ساتھ ہی، اپنی نشریاتی پہچان کے سفر کی ابتدا کرنے والے لیئق احمد، اپنی قابلیت اور میزبانی کی بے مثال اہلیت کے سبب، سب سے طویل عرصہ آن ائر جانے والے ٹی وی شو ”سائنس میگزین“ کے حقدار ٹھہرے۔

جب شملہ معاہدے کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی واپسی پر ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے براہ راست نشریات کا فیصلہ ہوا تو اس تاریخی موقع پر، اسی سطح کی شایان شان ٹرانسمیشن کا سوچا گیا۔ ریڈیو سے یہ ذمہ داری اشفاق احمد کے سپرد ہوئی جو پہلے ہی ایک شاندار براڈ کاسٹر کے طور پر سامعین کی اصلاح کے لئے تلقین کا سلسلہ جاری کیے ہوئے تھے۔ ٹیلی وژن سے اس فریضے کے لئے لئیق احمد صاحب کا نام سامنے آیا۔ لئیق صاحب کہتے ہیں، میں نے ایم ڈی پی ٹی وی اسلم اظہر صاحب سے معذرت کی کہ میں نے کبھی لائیو ٹرانسمیشن نہیں کی لہٰذا یہ ذمہ داری کسی اور کو دی جائے۔ مشکل پسند اسلم اظہر کہاں ماننے والے تھے۔ انھوں نے دلیل دی کہ ایم ڈی پی ٹی وی، تمہارے ساتھ بیٹھے گا، اگر غلطی ہوئی تو وہ ایم ڈی کی غلطی تصور ہو گی۔ یوں یہ کامیاب ( اور تاریخی ) لائیو ٹرانسمیشن، مستقبل کی ان گنت شاندار ٹرانسمیشنوں کی بنیاد بنی۔

ان میں الیکشن ٹرانسمیشن کے علاوہ، 23 مارچ کی قومی پریڈ کی براہ راست نشریات خاص طور پر قابل ذکر ہیں، جن کی طویل عرصے تک میزبانی بھی ان ہی کے حصے میں آئی اور انھیں اس قدر قبولیت اور پذیرائی ملی کہ ان کی آواز ( اور اطلاعات اور اعداد و شمار سے بھر پور شاندار رواں کنٹری ) اس قومی روایت کا لازمی جزو سمجھی جانے لگی۔

لائیو ٹرانسمیشن کے حوالے سے لئیق احمد صاحب کا کہنا تھا کہ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے دوران میں ہونے ولی غلطیاں بری نہیں لگتیں بلکہ یہ غلطیاں، ٹرانسمیشن کی جاذبیت میں اضافہ کرتی ہیں کیوں کہ دیکھنے والے کو یہ احساس ہونے لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ اسی وقت ہو رہا ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے لئیق احمد صاحب ایک امریکی صدر کی مثال دیا کرتے تھے کہ وہ اپنے خط میں اپنے معاون کو تاکید کر کے ایک غلطی چھوڑ دینے کو کہتا تھا اور پھر اسے اپنے قلم سے درست کرتا تھا تاکہ وصول کرنے والے کو یہ احساس ہو سکے کہ اس تحریر میں صدر کے ہاتھوں کا لمس موجود ہے۔ لئیق احمد صاحب کے خیال میں، بالکل اسی طرح لائیو ٹرانسمیشن کی غلطیاں بھی دیکھنے والے کے لئے ایسے ہی جذبات کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔

اسی طرح کسی ٹی وی پروگرام کی پسندیدگی کو جانچنے کے لئے، وہ اس بات کو معیار قرار دیتے تھے کہ اگر اس پروگرام کے اختتام پر، دیکھی جانے والی جگہ، اس پر گفتگو ( یا بحث) ہو رہی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ پروگرام بنانے والے کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔

پروفیسر لئیق احمد خان اپنے تجسس، تحقیق اور تخلیق کی طرف مائل مزاج کی وجہ سے ایسی شخصیات کے مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں یہ شخصیات عام بات بھی کریں، تو وہ خاص لگتی ہے۔ یہی کچھ ان اعزازات اور ایوارڈز کا معاملہ ہے، جن کے ملنے سے ان کی قامت پر شاید اتنا اثر نہیں پڑتا، جتنا ان کا نام، ان اعزازات کو معتبر بنا دیتا ہے۔

ٹیلیوژن کے ایک میزبان کی حیثیت سے، اگر ہم مختصراً ، لئیق احمد صاحب کے طرز تکلم کا احاطہ کرنا چاہیں تو، ان کے پراعتماد لہجے کی روانی کے بارے میں بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے ان کے، علم کی فراوانی کی بجا طور پر ترجمانی ہوتی تھی۔

ہاں! ابتدا میں کیے گئے، اس سوال کا آدھا جواب ابھی باقی ہے کہ لئیق احمد صاحب کسی پس و پیش کے بغیر، کسی بھی موضوع کے پروگرام میں حصہ لینے پر کیسے رضامند ہو جاتے تھے۔ ( یاد رہے کہ لئیق احمد صاحب کے عروج اور شہرت کا زمانہ وہ تھا جب کمپیوٹر ہماری زندگی میں ابھی اس قدر داخل نہیں ہوا تھا جیسا کہ کچھ برسوں سے ہو چکا ہے ) ۔

انھوں نے اس سوال کی وضاحت میں مزید بتایا کہ انھوں نے گھر پر کم و بیش چھبیس ( 26 ) فائلیں بنائی ہوئی ہیں جو انگریزی کے حروف تہجی کے اعتبار سے مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں اور علاوہ دوسرے تحریری مواد کے، ان کی روزانہ کی نشان زدہ خبریں اور مضامین ان ہی فائلوں کا حصہ بن جاتی ہیں اور بہ وقت ضرورت، یادداشت کو مہمیز کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔

خود کو اپنے ہنر اور علمی رجحان کے لئے اس قدر نظم و ضبط میں رکھنا، تعلق کی اس گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جس کی ہمارے معاشرے میں، شاید اب بھی بہت زیادہ مثالیں نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •