چین کی متنازع پانیوں میں فوجی مشقیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحیرہ جنوبی چین میں چین کی فوجی مشقیں۔

جنوبی بحیرہ چین کے متنازع پانیوں میں چین کی فوجی مشقوں کا مقصد، بقول دفاعی تجزیہ کار،بائیڈن انتظامیہ کی چین سے متعلق پالیسیوں کا امتحان ہے۔

ان تین روزہ مشقوں کا آغاز بدھ کے روز سے ہوا تھا۔ یو ایس اِنڈو پیسیفک کمان کے مطابق، اِس سے چند روز قبل امریکہ نے سمندروں میں آزادی کے فروغ کیلئے اپنی معمول کی کارروائیوں کے تحت متنازع پانیوں میں اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ گروپ روانہ کیا تھا۔

امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن سے وابستہ ایک دفاعی ماہر، ٹموتھی ہیتھ نے وائس آف امریکہ کی مینڈرین سروس کو بتایا کہ چین بائیڈن انتظامیہ کو ایک اولین سگنل بھیج رہا ہے۔ جو بائیڈن نے 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

ہیتھ کے مطابق، یہ چین کی جانب سے اُن وسیع تر کاوشوں کا حصہ ہے کہ اگر بائیڈن انتظامیہ تصادم کی پالیسیوں میں اضافے کی خواہشمند ہے تو وہ اس کیلئے تیار ہے۔

حالیہ برسوں میں چین کی بحریہ نے اپنی طاقت میں تیزی سے اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے بعض ماہرین کے مطابق مغربی بحرالکاہل کے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے چین کی فوجی طاقت پر جاری ہونے والے سالانہ ریویو میں کہا گیا ہے کہ چین نے متعدد فوجی شعبوں میں جدت کے حوالے سے امریکہ کی برابری حاصل کر لی ہے اور کہیں کہیں وہ امریکہ سے آگے نکل گیا ہے۔

چین کی پیپلز آرمی، فائل فوٹو
چین کی پیپلز آرمی، فائل فوٹو

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ فیلو کریگ سنگلٹن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چین کے پاس اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بحریہ ہے بلکہ امریکہ سے بھی بڑی بحریہ، اور اس کے تکنیکی اعتبار سے جدید ترین سب میرینز، ڈیسٹروئیرز بری اور بحری کارروائیاں کرنے والے شپ موجود ہیں۔

سنگلٹن کا کہنا ہے مقابلے میں امریکہ کی بحریہ چھوٹی ہوتی جا رہی ہے اور اس کے بحری بیڑے پرانے ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے بیڑے بنانے میں بہت اخراجات ہوتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، سن 2020 میں ٹنوں کے حساب سے چین سب سے زیادہ بحری بیڑے بنانے والاملک تھا۔ چین کے پاس اس وقت تقریباً 350 لڑاکا بیڑے اور سب میرینز موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کے پاس 293 بحری بیڑے موجود ہیں۔

ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں، بحری کارروائیوں ملٹری مقابلوں کے ماہر، برائین کلارک نے مینڈرین سروس کو بتایا کہ چین کی بحریہ امریکہ کیلئے وسیع تر چیلنج پیش کر رہی ہے۔

بحیرہ جنوبی چین میں چینی نیوی کی ایک کشتی گشت کر رہی ہے۔
بحیرہ جنوبی چین میں چینی نیوی کی ایک کشتی گشت کر رہی ہے۔

کلارک کے مطابق، اس کے معنی یہ ہوئے کہ امریکہ کو اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی حفاظت کیلئے سخت مقابلے کا سامنا ہو گا کیونکہ تائیوان اور سینکاکو نامی جزائرکے ارد گرد کے پانیوں پر کنٹرول کیلئے چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے پاس زیادہ بیڑے موجود ہونگے۔

گزشتہ سال دسمبر میں، ٹرمپ انتظامیہ نے نئے بحری بیڑے بنانے کے 30 سالہ منصوبے کا اعلان کیا تھا تا کہ امریکہ بحریہ کی اہلیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک بیان کے مطابق، اس منصوبے کے تحت تیس سال بعد، امریکہ کی بحریہ میں بحری بیڑوں کی تعداد 405 ہونا تھی۔

تاہم بعض تجزیہ کار اس بارے میں شبہات کا شکار ہیں کہ امریکہ اس کے اخراجات کہاں سے ادا کرے گا۔ جب نئے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی ان کے عہدے پر توثیق کیلئے ہونے والی سماعت کے دوران پوچھا گیا کہ کیا وہ بحری بیڑے بنانے کے مصوبے کی حمایت کرتے ہیں، تو جواب میں کہنا تھا کہ وہ اس پر بات چیت کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1046 posts and counting.See all posts by voa