وزیراعظم عمران خان کی فون پر عوام سے گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جناب وزیراعظم صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ اور آپ کی ٹیم آخر یہ کیسے کر لیتے ہیں؟
جی میں سمجھ گیا کہ آپ زرتاج گل، علی محمد، فردوس عاشق اعوان، شبلی فراز، شیخ رشید، شہباز گل، شہریار آفریدی، بابر اعوان، چوہدری سرور اور میرے وسیم اکرم ٹو عثمان بزدار کی بات کر رہے ہیں۔ تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا لیڈر میں ہوں اور ان کے تمام کاموں کا، جن کے بارے میں وہ خود ہی بتاتے ہیں، کا کریڈٹ مجھے ہی جاتا ہے۔

جی سر لیکن میں کہنا۔ ۔ ۔
میں آپ کے سوال کا باقی حصہ بھی سمجھ گیا ہوں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اپنی حکومت کے کارناموں کو بتانے کے لیے ہم نے کوئی پچیس تیس اور لوگ بھی رکھے ہوئے ہیں، میں ان کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں کر سکا۔ اس کے لیے ہم ایک الگ محکمہ اور ویب سائیٹ بھی بنائیں گے جو ہمارے سپوکس پرسنز کا ٹھیک سے حساب رکھ سکیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی سپیشل اسسٹنٹ ٹی وی پر آ کر پیناڈول کی ڈیمانڈ بڑھائے بغیر مفت میں سرکاری خزانے سے تنخواہ لے جائے۔

جی وہ۔ ۔ ۔

آپ کے اس سوال کا بھی مجھے اندازہ تھا اور یہی تو وہ سوال جو بہت ضروری ہے۔ میں نے حمزہ کو بھی کہا تھا اور وہ جو دوسرا انٹرویو تھا، کون تھا وہ جو دو بیٹھے تھے، آپ یو ٹیوب پر نکال کر دیکھ لیں مجھے نام یاد نہیں ہے، ہاں تو وہ کے پی کو ہم نے ریاست مدینہ ثانی، برطانیہ اور چائنہ ٹو بنا دیا ہے۔ کے پی میں آپ کسی بھی تھانے میں چلے جائیں ایس ایچ او آپ کو بٹھائے گا اور چائے کافی کا ایسے پوچھے گا کہ آپ کو لگے گا کہ آپ گلوریا جینز آ گئے ہیں۔ اچھا آپ کو اگر گلوریا جینز کا ہی نہیں پتا تو پھر آپ کو سوال ہی نہیں کرنا چاہیے تھا اور بیچ میں نہیں کاٹنا مجھے، میں ایسے بلیک میل نہیں ہوتا۔ میں نے تو بائیس کروڑ لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے ہیں۔ اگر ہر بندے سے آدھا گھنٹہ بھی بات کروں جو کہ اپنے کارنامے سمجھانے کے لیے کم از کم بنتا بھی ہے تو بھی گیارہ کروڑ گھنٹے بنتے ہیں۔ اور گیارہ کروڑ گھنٹوں کو اگر 3600 سے ضرب دیں تو یہ کوئی 396 ارب سیکنڈ بنتے ہیں۔ میں آپ کو ایک دفعہ پھر سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ نے گھبرانا نہیں کیونکہ یہ گھنٹوں کے سیکنڈ بنانا تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے وہ ہمارے قرض خواہ ڈالروں کے روپے بناتے ہیں۔

اور ظاہر ہے کہ پیسہ جب ملک سے باہر چلا جائے گا تو مہنگائی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ تو میں نے جو ٹیم بنائی ہے۔ دیکھیں میں آج آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے ساری زندگی بہت کرکٹ کھیلی ہے اور وہاں پر میں تو ٹیم ہی بناتا تھا۔ تو میں نے ٹیم بنائی ہے۔ اسی ٹیم کی کارکردگی سے ہم غریبوں کو اوپر اٹھا دیں گے۔ اور پیچھے صرف امیر رہ جائیں گے وہ نہ تو کورپشن کرتے ہیں، نہ ان کا پیسہ یا اولادیں باہر پڑی ہیں اور نہ ہی وہ لکڑی کے صندوقوں سے نکل کر مجھے بلیک میل کریں گے۔ اور فردوس عاشق اعوان نے بھی کچھ دن قبل بتایا تھا کہ غریب کی جو حالت اس وقت ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ دیکھیں اگر غریبوں کو نہیں پتا کہ ان کی حالت کیسی ہے تو پھر ہم نے تو انہیں بتانا ہے کہ وہ کتنے خوشحال ہو چکے ہیں۔

اب تمھارا سوال کا آخری حصہ مجھے پتا ہے کہ ہماری لانگ ٹرم پلاننگ کے بارے میں ہی ہو گا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ جمہوریت ہے۔ دیکھیں ملک میں اگر ہر پانچ سال بعد الیکشن ہوتے رہیں گے تو ملک ترقی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ لانگ ٹرم پلاننگ نہیں ہو سکتی اور لانگ ٹرم پلاننگ نہ ہو تو ترقی کیسے ہو گی۔ وہ بتاتے نہیں لیکن مجھے اندر کی بات پتا ہے کیونکہ میں نے اکیس گرمیاں برطانیہ میں گزاری ہیں اور پھر جمائمہ بھی بتاتی تھی کہ وہ لوگ جمہوریت سے بہت تنگ ہیں۔ ان کی لانگ ٹرم پلاننگ نہیں ہوئی اور وہ ترقی نہیں کر سکے۔ امریکہ کا بھی یہی حال ہے۔ آپ نے ٹرمپ کو سنا ہی ہو گا۔ ہم نے وہاں سے فنڈنگ بھی لی ہے جس پر ایک غلط کیس بھی چل رہا ہے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ جب گیارہ کروڑ گھنٹے تو عوام سے فون پر بات کرنے کے لیے درکار ہیں تو پھر باقی کاموں کے لیے وقت ہی کب بچے گا۔ اور سب کو پتا ہے کہ میں نے اڑھائی سال میں کوئی چھٹی بھی نہیں کی۔ میں تو تسبیح بھی کام اور انٹرویو کے درمیان ہی پوری کر لیتا ہوں۔ ہاں تو گیارہ کروڑ گھنٹوں کے اگر سال بناؤ تو ساڑھے بارہ ہزار سال تو صرف یہی بن جاتے ہیں۔ کیسے کوئی پانچ سال میں کوئی کام کر سکتا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ کدھر ہے نیا پاکستان۔ ہم پہلے حکومت میں کبھی رہے جو نہیں تھے تو ہمیں پتا ہی نہیں تھا۔

خیر میرا خیال ہے کہ اب فون کا سلسلہ ختم کرتے ہیں۔ اب میں نے زرتاج گل کے ساتھ مل کر دنیا کو اس سپر سائنس کے بارے میں سمجھانا ہے جس کے تحت ہم گائے کے گوبر سے کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے لگے ہیں۔ یہی کوئی گیارہ کروڑ گھنٹوں کی بات ہے۔ اپنی سپر سائنس سے ہم چائنہ ٹو نہیں تو صومالیہ سپیشل بن کر ضرور دکھائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 262 posts and counting.See all posts by salim-malik