تعلیمی مسائل اور طلبا تنظیموں کی بحالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی حال میں، میرا حال، فی الحال نہ پوچھو

کہا جاتا ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں۔ نیز نوجوانوں کی تعلیم و تربیت جتنے اچھے اور معیاری ماحول میں ہو گی مستقبل اتنا ہی شاندار ہو گا۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس ماحول میں پروان چڑھتا ہے ، اس ماحول میں ہونے والے کچھ عمل اس کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی نوجوان نسل آج اپنے اداروں، اور افسران کے جو رویے مشاہدہ کر رہی ہے ، وہ کسی نہ کسی طرح ان کے دل و دماغ پر اثرات مرتب کر رہے ہیں اور آج کا یہ مشاہدہ مستقبل میں ان کی روزمرہ زندگی کا معمول بن جائے گا۔

موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر ملک کے ہی نوجوان اکثر کسی نہ کسی غیر نصابی سرگرمی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی امتحانات کا فیصلہ ہوتے ہی طالب علموں کی جانب سے پرامن مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔

ہمارے ہاں طالب علموں کی جانب سے اکثر و بیشتر اس طرح کے مظاہرے کیے جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد تعلیمی میدان میں ہونے والے نا انصافی پر مبنی فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانا ہوتا ہے۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اس طرح کے فیصلوں کی بنیادی وجہ طلبا تنظیموں کا فقدان ہے۔ اول تو ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیوں کا وجود ہی نہیں ہے اور اگر کہیں طالب علموں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی تنظیم بنا لی ہے تو کسی بھی قسم کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔

معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ تعلیمی اداروں کی یہی نا اہلی طالب علموں کو سڑکوں پر نکلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں طالب علموں کی رائے لینا ذمہ داران شاید اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں جامعات کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں نے طالب علموں کو پر تشدد مظاہروں پر مجبور کیا۔

ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے جو لائحہ عمل اپنایا گیا ، اس نے مزید سوالات کھڑے کیے ۔ ملک کی تمام جامعات کے طالب علموں پر لاٹھی چارج کی نوبت کیوں نہ آئی؟ جن جامعات نے آن لائن امتحانات کی منظوری دے دی ، کیا وہ نوجوانوں کے مستقبل کے لئے فکر مند نہیں ہیں؟ یا یہ کہ کسی نہ کسی بات کو بہانہ بنا کر ہمارے ملک میں نوجوانوں پر تشدد کر کے ان میں کسی کو آئی سی یو پہنچایا جانا ضروری ہے؟

ان تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیمیں وقت کی اشد ضرورت ہیں۔ ہر ادارے کی پالیسی مرتب کرتے وقت اس ادارے کے نمائندگان کانفرنس کا حصہ ضرور ہوتے ہیں۔ طالب علم جو کہ اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ، ان کے لئے کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے انہیں خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اس وقت تعلیمی میدان میں ہم طالب علموں کو شدید مسکلات کا سامنا ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج ملک کے کئی نامور سیاست دان ماضی میں طلبا تنظیموں کا حصہ رہ چکے ہیں نیز طلبا تنظیموں کی نمائندگی نوجوانوں میں لیڈر شپ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ مجھ سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن میری ذاتی رائے کے مطابق نوجوانوں کے شاندار مستقبل کے لیے طلبا تنظیموں کی بحالی لازمی ہے۔

تعلیمی میدان میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی میں طلبا کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ماضی میں بہت سے فیصلوں کو ہم نے تسلیم کر لیا جن میں فیسوں میں اضافہ، تعلیمی بجٹ میں کمی جیسے نہایت افسوس ناک فیصلے بھی شامل ہیں کیونکہ کسی بھی کانفرنس میں طالب علموں کو شامل نہیں کیا گیا۔

میری ذمہ داران سے اپیل ہے کہ طلبا تنظیموں کی بحالی پر توجہ دی جائے اور تعلیمی میدان میں کیے جانے والے فیصلوں میں ہماری رائے شامل کی جائے۔ طلبا تنظیمیں مستقبل کی ذمہ دار لیڈرشپ پیدا کرنے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں ماضی جیسی ہنگامہ آرائیوں سے بچنے کے لئے طلبا یونینوں کی بحالی ضروری ہے۔

میرے نزدیک اگر ہم ملک و قوم کی ترقی اور شاندار مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں حال میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے والوں پر کوئی پابندی نہ ہو بلکہ ایسا ماحول بنایا جائے کہ انہیں اپنی آواز ذمہ داران تک پہنچانے میں کوئی دقت نہ ہو۔ میری دعا ہے کہ ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی کی طرح تابناک ہو۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، کھلا رہے صدیوں،

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).