ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟
چاروں اور پریشانی اور افراتفری کا راج ہی نظر آتا ہے۔ فضاؤں میں اداسی ہے جیسے اب یہ دنیا بزم طرب نہ رہی بلکہ غم کدہ بن گئی ہے۔ سکون ہم سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندگی صرف پریشانیوں، مصیبتوں، آزمائشوں اور غموں سے نبرد آزما ہونے کا نام ہے۔ یہ ایک شخص کا قصہ نہیں کہ جس کا چین و سکون غارت ہوا ہے بلکہ جس شخص کو بھی دیکھیے دیوانہ اور مجنوں بنا بیٹھا ہے۔ پریشان صرف غریب نہیں بلکہ امیر اور فراخ دست بھی ہے۔
اداسی اور پریشانی نے بلا امتیاز چھوٹے بڑے، مرد عورت، بچے بوڑھے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ غرض اس پریشانی اور بے چینی کی کشتی کے سب ہی مسافر نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ سب ہی مصیبت زدہ، گھائل اور زخمی ہیں۔ اس پریشانی، اضطراب، انتشار اور اداسی کی کیا وجوہات ہیں۔ کیوں سب ہی بے چینی، بے قراری اور بے آرامی کے شکار ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ جب یہ دنیا پائیدار نہیں تو اس پر رہنے والے کیسے دائم ہو سکتے ہیں۔ اسی پچاسی سال کا کوئی عمر رسیدہ شخص اس دنیا کو چھوڑ کر جائے تو زیادہ افسوس اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ اپنے حصے کی بہاریں دیکھ چکا ہے۔ ان بہاروں میں یہ پھولوں کی مہک اور کلیوں کی چہک سے آشنا ہوا تھا لیکن اگر اٹھارہ بائیس سال کا جوان اس دنیا سے کوچ کر جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور آنکھوں سے اشک کے بدلے خون بہتا ہے۔انسان کو بے حد پچھتاوا اور افسوس ہوتا ہے۔
یہ طے ہے کہ کسی کی موت خراب حالات سے نہیں ہوتی لیکن شکستہ حالی سے پریشانیاں ضرور آ گھیرتی ہیں۔ حالات کے ستم کے ساتھ ساتھ آس پاس کا ماحول جب وحشت زدہ ہو تو کوئی کیسے خوش رہ سکتا ہے۔ آس پاس کے لوگ اور عزیز و اقارب خوش ہوں تو ان کی خوشی کو دیکھ کر خوشی محسوس کی جا سکتی ہے یہ فطری امر ہے۔ پڑوس میں جب ماتم چھایا ہو تو کوئی کیونکر خوش رہ سکتا ہے۔
خراب حالات اور افراتفری سے قطع نظر ہم خوش کیوں نہیں ہیں ، اس کی بڑی وجہ مذہب سے دوری اور لاعلمی ہے۔ ہم خوشی دھن دولت، بڑے بڑے محلات، بڑی بڑی گاڑیوں، مخملی بستر، اعلیٰ سے اعلیٰ اور قیمتی کپڑے پہننے میں ڈھونڈتے ہیں۔ جب کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سکون مخملیں بستر کا محتاج نہیں بلکہ اگر خالق چاہے تو کانٹوں پر سونے میں بھی لذت اور سکون ہے۔ بڑا بننے کے خواب اور دولت کی پیاس نے ہمیں بے سکون کر دیا ہے۔ خواب دیکھنا برا نہیں ، ہاں ایسا نازیبا اور ناشائستہ خواب دیکھنا ضرور برا ہے جسں کو پورا کرنے کے لیے غلط طریقہ اپنانا پڑ جائے۔
غلط طریقہ اپنانے کے بعد انسان خوف اور ڈر میں مبتلا ہو کر وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ وسوسے حوصلوں کا خون کر دیتے ہیں اور انسان بے سکون ہو جاتا ہے۔ جس انسان کے پاس سچائی کی لاٹھی ہو، پاک ارادے ہوں، منزہ اور بے میل خواب ہوں، صاف راستہ ہو وہ نہ گمراہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی پریشان۔ جو سکون اپنے خالق کی پہچان، عبادت، اطاعت اور بندگی میں ہے وہ نافرمانی، ناشکری، سرکشی اور روگردانی میں نہیں۔اگر انسان عاجز ہو کر خدا کے احکامات کی پیروی کرے، ان رشتوں کو اہمیت دے جن کو چھوڑ کر وہ غیروں کو اپنا بنانے کی کوشش میں لگا ہے، ماں باپ سے حسن سلوک اور نرمی سے پیش آئے تو وہ یقیناً بے سکونی سے نجات پا سکتا ہے۔
ہم نے خود پر بہت مظالم ڈھائے۔ بڑا ظلم ہم نے خود پر یہ کیا کہ ہم ناجائز رشتوں کو جائز رشتوں پر فوقیت اور اہمیت دینے لگے۔ جو بھی ذی روح قانون فطرت کے خلاف ہو جاتی ہے وہ نقصان اور اس کا خمیازہ ضرور بھگتی ہے۔ ہم نے سرکشی کی جس کی سزا ہمیں یہ ملی کہ ہمیں سکون اور قلبی راحت سے محروم کیا گیا۔ ہمارا معاشرہ جو کہ کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن ہمارے طور طریقے، عادات و اطوار، رہن سہن، رسوم و رواج سارے غیر مسلم طرز کے اور فاسد ہیں۔
خدا کے احکام ماننے میں ہمیں شرم آتی ہے۔ ماں باپ کی نافرمانی کو ہم گناہ تصور نہیں کرتے۔ بھائی، بھائی سے ناراض ہی نہیں بلکہ اس کا یہ جانی دشمن بن گیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ بے سکون خونی رشتے کرتے ہیں ۔ اگر ان میں تنازعہ یا ان بن ہو تو ہر وقت انسان بے قرار اور بے چین رہتا ہے۔ کوئی اگر موجودہ دور میں نماز پڑھنے مسجد کا رخ کرتا ہے تو ہم اس کو طعنے دیتے ہیں۔ نمازی کو نمائشی اور دقیانوسی تصور کرتے ہیں اور غلط کام کرنے والوں کو ماڈرن، فیشن ایبل اور زمانے کے رنگ میں رنگنے والے سمجھتے ہیں۔
ہمارے پاس انصاف کی بات سننے کا وقت نہیں بلکہ ہم بے گناہوں پر ہونے والے مظالم کا تماشا وقت نکال کر بڑے مزے سے دیکھتے ہیں۔ جو قوم حق کا ساتھ نہیں دیتی، اپنی روایات کی پاسداری نہیں کرتی وہ غلامی کی بیڑیوں میں گرفتار ہو جاتی ہیں اور بے سکونی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خالق حقیقی کی طرف لوٹ آئیں، مذہب کو وہ اہمیت دیں جو اس کا حق ہے، احکام الٰہی کے پابند بنیں تاکہ وہ کریم رب اپنی کریمی کے صدقے ہمیں مصیبتوں، آزمائشوں اور بے چینیوں سے نکال کر سکون بخش اور پائیدار قرار والی زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔


