ہم فکری طور پر کرپٹ ہیں
پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی، فکری اور ذہنی طور پر کرپٹ ہو چکی ہے۔ یقیناً سب نہیں لیکن اکثریت فکری طور پر بانجھ ہو چکی ہیں۔ معاشرتی اقدار آہستہ آہستہ معدوم ہو رہی ہیں اور کچھ زاویوں سے تو ہو بھی گئی ہیں۔ چالاکی تو کمال کی ہے مگر عقل مندی سے کوئی تعلق نہیں، ایک سے بڑھ کر ایک جگاڑ کا سامان ہے مگر محنت سے عاری نظر آتے ہیں۔
ہمیں اپنی برائیوں اور غلطیوں کا صرف گمان ہے اور دوسروں کے بارے میں یقین اور ایمان ہے۔ منہ سے گالی بکنا انداز تکلم کا ایک نہایت ہی عام اور مشہور انداز ہے۔ گالی کو گالی نہیں یارانہ انداز سمجھنا عام ہے۔ گالی میں جنس مخالف کے جسمانی اعضا کی بات کرنا مردوں کے معاشرے میں غصے کا ایک انداز ہے۔ مردوں کی آپسی گفتگو میں تذکرہ زنا کرنا ہوس کی یومیہ خوراک ہے۔
نوکری کی عمر آتی ہے تو گورنمنٹ جاب کی تلاش کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قابلیت سے نہیں رشوت سے حاصل کرنے کا کھلم کھلا اعلان ہے۔ پھر ان شعبوں کی تلاش ہے جن میں اوپر کی کمائی کا امکان ہو۔ یہ صرف دوستوں کی نہیں اکثر والدین کی بھی دلی خواہش ہے کہ بیٹا سیلری سے نہیں اوپر کی کمائی سے ہی خوش رہ سکتا ہے۔
پھر مطلوبہ محکموں میں نوکری حاصل کر کے خون چوسنے کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ پہلے رشوت کو رشوت کہا جاتا تھا مگر اب رشوت کو رشوت نہیں کمیشن، چائے پانی اور مٹھائی بھی کہا جاتا ہے۔ اس نوکری کی وجہ صرف رشوت ہی نہیں بلکہ محنت سے بچنا بھی ہے کیونکہ یہ فکر عام ہے کہ سرکاری نوکری میں بڑے فائدے پنہاں ہیں اور آرام ہی آرام ہے ، زندگی کے آخری ایام تک۔
ہم بڑی بھلکڑ قوم ہے۔ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر ہم بھول جاتے ہیں، دوسروں کا حق غصب کر کے ہم اس پر فخر سے اپنا لیبل لگا لیتے ہیں۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کی تو معافی ہے مگر گناہ کی معافی خود اقرار کر کے مانگنی پڑے گی۔ آپ کو کیا لگتا ہے یہ جو آپ دوسروں کے ساتھ غلط کرتے ہو ، کیا یہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور اس کا مقدمہ کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا، نہیں نہین، قدرت کا بھی ایک رجسٹر ہے، جہاں پر سب درج ہوتا ہے، کچھ کاموں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی، آپ نے اچھا کیا ہے تو پلٹ کر آئے گا اور اگر برا کیا ہے تو وہ بھی پلٹ کر آنا ہی آنا ہے۔
یہ جو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے ناں، ممکن ہے کہ مکافات عمل کے نتیجے میں ہمارے مقدر کا حصہ بنی ہوں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی کو تکلیف پہنچا کر سمجھتے ہیں کہ یہ عام سی بات ہے مگر کسی کا دل اگر آپ کی بات سے دکھ جائے تو وہ پھر وہ درد کسی اور عدالت میں پہنچ جاتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں بہت سے معاملات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
ہمارے نزدیک اب تک اخلاقی معیار کا تعین نہیں ہے، جب تک غلط کو غلط اور صحیح کوصحیح نہیں سمجھا جائے گا ، اس وقت تک یہ معاملات بہتر نہیں ہو سکتے۔ ویسے اخلاقی فکر کی سب سے پہلی نشانی یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ جو کام میں نے کیا ہے ، یہ غلط ہے نہ کہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے تاویل دیں اور بلاشبہ یہ فکر آ جانا بھی بہت سکون کا باعث ہے، کیونکہ یہ فکر زندہ ضمیر ہونے کی ایک علامت ہے۔
باتیں تو بہت ہیں اور بہت اچھی اچھی ہیں، دیواروں پر بھی لکھی ہیں، کتابوں میں بھی موجود ہے مگر عمل تو یہی ہے کہ صرف باتیں نہ ہو، غلط باتوں کو سمجھنے کا ادراک بھی ہو اور اس سے دور ہونے کی تڑپ، ہمیں بس ڈیڑھ ہوشیار بننے سے گریز کرنا ہو گا، ہمیں انسان کو انسان سمجھنا ہو گا اور زبان اور ہاتھ سے احتیاط برتنی پڑے گی تاکہ زندگی میں سکون قائم رہے، ۔پھر سزا اور آزمائش میں فرق بھی سمجھ آ جائے گا اور جس دن مشکل کے وقت یہ فرق سمجھ آ جائے تو سمجھیے گا کہ ابھی ”حقیقی زندگی“ میں رمق باقی ہے۔


