تین پارٹیاں تین دکانیں

رات کو سونے سے قبل کتابیں پڑھنا اور صبح ناشتے کے دوران نیوز چینل پر خبریں سننے کی عادت مجھے ورثے میں ملی ہے، کتابیں نہ پڑھیں تو نیند نہیں آتی اور ناشتے کے دوران خبریں نہ سنیں تو ناشتے کا مزہ کر کرا ہو جاتا ہے ، آج بھی ناشتہ کرتے ہوئے خبریں سننے میں مگن تھا کہ اسی دوران گلی میں اچانک شور شرابے  نے پریشان کر دیا۔ سب کچھ وہیں چھوڑا اور بھاگ کر گلی میں پہنچا تو دو نوجوان اور ایک بزرگ کو آپس میں شدید بحث و تکرار کرتے پایا، قریب جا کر معاملہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ تینوں اپنی اپنی سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرنے میں اس قدر شور مچا رہے تھے کہ لڑائی کا گمان ہونے لگا تھا۔

اب آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ بحث کرنے والے تینوں افراد کون ہیں تو آپ اس کتھا کو آخر تک پڑھنے پر مجبور ہو جائیں گے، یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں تین بڑی سیاسی جماعتیں ملک میں ہونے والے ہر قسم کے بحران کی بنیادی وجہ ہیں اور ان کے کارکنان اپنے اپنے لیڈرز کی ہر اچھی بری حرکت پر اندھا دھند ان کی تقلید میں مصروف ہیں۔

برسر اقتدار پارٹی کے کارکنان بھلے سیاست کی الف بے سے بھی ناواقف ہوں مگر انہوں نے ہر سیاسی بحث میں اس طرح حصہ لینا ہوتا ہے جیسے ان سے بڑا سیاسی ناقد کہیں نہیں ، حکومت کی ہر ناقص ترین پالیسی کو اس طرح ڈیفنڈ کر رہا ہو گا جیسے پالیسی بنانے میں اسی شخص کا ہاتھ ہو اور تمام مشورے انہی صاحب نے دیے ہیں حکومت کیا کر رہی ہے ، آئندہ کون کون سے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا، ملک میں بیرون ملک حکومتی ارکان کی پذیرائی ہو رہی ہے ، خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے ، داخلہ پالیسی پر سابقہ ادوار میں کس کس وزیر  نے کون کون سی غلطیاں کیں اور آج ہم کس حکومتی پارٹی کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔

یہ سب باتیں آپ اور ہم سب روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی چائے خانے پر، سستے مہنگے ہوٹل پر، گلی محلوں اور سربازار سن رہے ہوتے ہیں، اسی طرح اپنی اپنی باریاں لے کر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی پارٹیوں کے کارکنان بھی اسی جوش و خروش سے ہر سیاسی بحث میں حصہ لینا اور تنقید برائے تنقید کرنا اولین فرض سمجھتے ہیں، ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ملک کے ہر گلی محلے، اداروں اور بازاروں میں اس قدر مہان پالیسی میکرز موجود ہیں تو انہیں حکومت سازی میں شامل کیوں نہیں کیا جاتا اور فیصلے لینے والے وزرا اتنی عقل کیوں نہیں رکھتے جتنی سیاسی پارٹیوں کے کارکن سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ اگر ہمارے ملک کا ہر شہری اس قدر سمجھ دار ہے تو یہ ملک ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے کی بجائے تنزلی کی جانب کیوں گامزن ہے۔

آپ آج کے اس دور میں بچوں سے بھی بڑی امیدیں وابستہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ موجودہ صدی کی نسل نو گزشتہ صدیوں کا تجربہ لے کر پیدا ہوئی ہے اور بچے بھی اچھی خاصی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں کہ ہماری تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

میں بات کر رہا تھا کہ گلی میں سیاسی شور شرابے کی تو جناب قصہ کچھ یوں ہے کہ گھر کی دیوار سے متصل عمارت کی پہلی دکان برسر اقتدار پارٹی کے سرگرم کارکن کی ہے جو اپنی پارٹی اور لیڈر کے خلاف بات سننا گوارا نہیں کرتا، کیونکہ وہ اس عمارت میں واحد دکاندار تھا اور کافی عرصہ تک اکیلا ہی اپنی بادشاہت کے مزے اڑاتا رہا ہے مگر جب اسی عمارت میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون کے کارکن نے قدم جمائے تو اس کی بہت آؤ بھگت کی گئی خوش آمدید کہا گیا، اپوزیشن پارٹی کے کارکن نے بھی کبھی بحث کی کوشش نہیں کی تھی مگر جناب کہانی کا رخ اس وقت تبدیل ہوا جبکہ اس عمارت میں ایک تیسری جماعت کے بنیادی کارکن نے اپنی دکان شروع کی اور یہ تیسری جماعت تھی پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے نظریات پر چلنے والے کارکن کی۔

لیں جناب اب مسلم لیگ نون کے کارکن کو حوصلہ ملا اور اس نے پیپلز پارٹی کے کارکن کو اپنا ہم خیال بناتے ہوئے برسر اقتدار پی ٹی آئی کے کارکن پر حکومتی ناقص پالیسیوں پر تابڑ توڑ حملے شرو ع کر دیے کیونکہ اپوزیشن کی دو جماعتوں کے کارکن اکٹھے ہو چکے تھے لہٰذا پی ٹی آئی کے کارکن نے بھی ہار ماننے کی بجائے اپنی آواز کو اونچا کرتے ہوئے دونوں کو جھوٹے سچے حکومتی اقدامات کی فہرست سنانا شروع کی ، جس پر تینوں پارٹیوں کے یہ کارکنان اپنی بحث و تکرار میں اس قدر محو ہو چکے تھے کہ انہیں آس پاس، اڑوس پڑوس کی کوئی خبر نہ رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے گلی میں کافی لوگ جمع ہو گئے جس کے بعد تینوں دکانوں اور تینوں سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اپنی آوازوں کو دھیما کرتے چلے گئے اور کچھ دیر میں یہ بحث ختم ہوئی۔

مگر یہ بحث صرف کہانی میں ختم ہوئی ہے ، عملی طور پر جب بھی تینوں سیاسی دکانیں کھلی ہوں تو بحث اسی زور شور سے جاری دیکھی گئی ہے اور اب ان کی یہ بحث وتکرار معمول بن چکی ہے ۔ گلی کے لوگوں نے بھی پریشان ہونا چھوڑ دیا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم 74 سالوں کے بعد بھی صرف سیاسی شعبدہ بازوں کے درمیان پھنسی رہے گی اور حقیقت سے منہ موڑ کر اپنے قیمتی وقت اور ٹیلنٹ کو ضائع کرتی رہے گی یا پھر اپنے اپنے شعبہ میں رہتے ہوئے ملکی ترقی میں فعال کردار اداکرنے کے لیے سیاستدانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words