کرونا اور کائناتی اہمیت کا مغالطہ (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کائنات کس قدر پراسرار اور عظیم الشان ہے اور اِس میں ہماری کیا اوقات ہے، اِس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے قریباً تیرہ ارب سال پہلے جب یہ کائنات وجود میں آئی تو اُس’ لمحے میں وقت صفر تھا ‘ اور مادہ بھی کوئی وجود نہیں رکھتا تھا، سائنس دان اُس ’لمحے ‘کو singularity کہتے ہیں۔ آج اگر ہم singularity کی تخلیق کا ادراک کرنا چاہیں تو سب سے پہلے ہمیں پروٹون کے حجم کا اندازہ لگانا پڑے گا۔ ایک پروٹون کا حجم اتنا کم ہوتا ہے کہ سوئی کی نوک پر قریباً پانچ کھرب پروٹون اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اب فرض کریں کہ اِن میں سے ایک پروٹون کا حجم مزید کئی ارب گنا کم کرکے اسے ایک ایسے چھوٹے سے ’مکان ‘ میں گھسا دیا جائے جہاں یہ پروٹون (جو پہلے ہی اپنے اصل سائز سے کئی ارب گنا کم ہو چکا ہے) پہاڑ جیسا دکھائی دے اور پھر اس ادنی ٰ سے حجم کے ’مکان ‘ کو ایک اونس مادے سے یوں بھر دیا جائے کہ اِس ’مکان ‘ کے ’طول و عرض ‘ کا تعین ہی نہ ہو پائے تو کسی حد تک ایسی کیفیت کو singularityکہا جا سکے گا جو کہ ظاہر ہے آ پ اور میں کبھی تخلیق نہیں کر پائیں گے۔ (یہ مثال بل برائسن کی ایک لاجواب کتاب سے لی گئی ہے جس کا تفصیلاً ذکر پھر کسی کالم میں کروں گا)۔

اِس singularity سے یہ کائنات تیرہ ارب سال پہلے ’شروع ‘ ہوئی جس میں آج سو ارب کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں کئی سو ارب ستارے اور سیارے ہیں۔ اِن اربوں کھربوں سیاروں میں انسان کی اوقات اُس پروٹون کی طرح ہے جو تعداد میں اگر پانچ کھرب بھی ہوں تو سوئی کے نکے پر جمع ہو سکتے ہیں۔ غالب نے انسان کے ساتھ بڑی رعایت کی جو اسے قفس کے کونے میں رکھ کر کہا کہ یہ اڑنے کی طاقت سے محروم ہے، ایسے جیسے ابھی انڈے کے اندر ہو۔

بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کُنجِ قفس

از سر نو زندگی ہو، گر رہا ہو جائیے

سو، اِس کائنات میں میری طرح کا کوئی معمولی انسان اگریہ سمجھتا ہے کہ اُس کے لیے قوانین قدرت میں خصوصی طور پر تبدیلی کی جاتی ہے تاکہ اسے نوازا جاسکے تو ایسا انسان ’کائناتی اہمیت کے مغالطے ‘ کا شکار سمجھا جائے گا۔

میں معذرت خواہ ہوں کہ تمہید کچھ طویل ہو گئی۔ دراصل آج کا موضوع کرونا وائرس اوراِس سے جڑا انسان کی اہمیت کا مغالطہ ہے۔ اِس بیماری کے بارے میں اب تک کروڑوں الفاظ لکھے جا چکے ہیں لیکن نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ اب بھی ہمیں اِس کی مکمل فہم نہیں اور اِس کی وجہ ہماری غیر سائنسی سوچ ہے۔ اِس بیماری کے پھیلنے کی ایک سائنس ہے جو اب معلوم ہو چکی ہے، اِس وبا کو روکنے کی بھی ایک سائنس ہے جوثابت ہو چکی ہے اور اِس وبا کے علاج کی بھی ایک سائنس ہے جس پر پوری دنیا اب عمل کر رہی ہے۔ مگر اِن تمام مسلمہ باتو ں کے باوجود ہم میں سے بہت سے لوگ اِس بیماری سے غیر سائنسی انداز میں نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں اور نتیجتاً اپنا نقصان کروا بیٹھے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ نقصان اپنے پیاروں کی جان کی صورت میں نکلتا ہے۔

اِس بیماری میں پہلا غیر سائنسی کام کووڈ کے ٹیسٹ سے بھاگنا ہے۔ آج کل اگر کسی شخص کوبخار، کھانسی یاڈائریا وغیرہ ہو اور وہ اِس امید پر چار دن گذار دے کہ یہ کووڈ نہیں بلکہ موسمی بخار ہوگا تو سمجھ لیں کہ ایسا شخص کووڈ کا انکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لا شعوری طور پر ایسا شخص سمجھتا ہے کہ اسے کرونا نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس پر خدا کا خاص کرم ہے۔ یہی مغالطہ ہمارے ایک جید عالم دین کو بھی لے بیٹھا جنہوں نے کرونا سے شفا یاب ہونے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں اعتراف کیاکہ انہیں اِس بیماری کے بارے میں غلط فہمی ہو گئی تھی اورجب انہیں خود کووڈ ہوا تو پتا چلا کہ یہ وائرس نیک و بد میں فرق نہیں کرتا۔ مولانا کا شکریہ کہ انہوں نے حقیقت تسلیم کی اورپھر اپنے پیغام کے ذریعے لوگو ں کی رہنمائی فرمائی، یہ سائنسی اپروچ اگر وہ حور کا سراپا بیان فرمانے میں بھی اپنا لیں تو مہربانی ہوگی۔

غیر سائنسی سوچ کی ایک اور نشانی کرونا وائرس سے متعلق قصے کہانیوں کو بغیر کسی تصدیق کے درست تسلیم کرنا اور انہیں کامل یقین کے ساتھ آگے پھیلانا ہے۔ مثلا:”نہ جانے میرے ماموں کو کیسے کرونا ہو گیا، حالانکہ وہ ایک کمرے کے فلیٹ میں اکیلے رہتے ہیں، کسی سے ملتے ہیں نہ کوئی ان کے گھر آتا ہے، وہ کہیں باہر بھی نہیں جاتے، پس ثابت ہوا کہ کرونا کسی کو بھی ہو سکتا ہے لہذا احتیاط کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ “ اِس قسم کا کوئی نہ کوئی قصہ آ پ نے بھی سنا ہوگا، یہ مکمل نہیں بلکہ یہ ادھورا سچ ہوتا ہے۔ مجھے جب بھی کوئی شخص ایسی مثال سناتا ہے تو میں جواب میں اُس سے کچھ سوال پوچھتا ہوں، چوتھے یا پانچویں سوال میں پتا چل جاتا ہے کہ ’مامو ں جان‘ روزانہ بازار سے سودا سلف لینے باہر جاتے تھے اور اِس دوران انہوں نے ماسک بھی نہیں لگایا ہوتا تھا۔

اگر آپ اب تک کرونا سے بچے ہوئے ہیں تو رب کا شکر ادا کریں مگر اِس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ آپ پر کوئی خاص رحمت ہے۔ اوراگر خدا نخواستہ آپ کو وائرس چمٹ جائے تو بیماری کا انکار کرنے کی بجائے سائنسی انداز میں اُس کا مقابلہ کریں، آکسی میٹر خریدیں جس سے مسلسل اپنی آکسیجن کا معائنہ کرتے رہیں، کسی علامت کو معمولی نہ سمجھیں، کووڈ کا مثبت ٹیسٹ آتے ہی اپنے تمام ایکسرے اور بلڈ ٹیسٹ کروائیں اور ہر چار پانچ دن بعد ڈاکٹر سے ان کا موازنہ کروائیں۔ یاد رکھیں اگر یہ وائرس بگڑ جائے تو اسے قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے لہذا اسے بگڑنے مت دیں، ہومیو پیتھی اور جڑی بوٹیاں یقینا اچھی ہوں گی مگر اِن کے تجربات کسی اور وقت اور بیماری کے لیے اٹھا رکھیں۔ اِن تمام باتوں کے باوجود ممکن ہے کوئی شفا یاب نہ ہو، اُس صورت میں انسان کچھ نہیں کر سکتا، بے بس ہے، اُس کی رضا میں راضی ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

جو لوگ کرونا وائرس سے شفا یاب ہو جاتے ہیں یا بچ نکلتے ہیں اُن میں سے کچھ انسانوں کو اِس لا محدود کائنات میں اپنے اہم ہونے کا اِس قدر یقین ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے اُن پر کوئی خصوصی مہربانی کی ہے جبکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسّی /نوّے فیصد سے زائد کیسوں میں یہ ’خصوصی مہربانی‘ ہر کسی پر ہوتی ہے اور کسی انسان کے لیے آفاقی قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ تاہم اگر کوئی شخص یہ نظریہ رکھتا ہے کہ وہ خدا کا خاص الخاص ہے جس کے لیے کائنات کے قوانین میں خصوصی تبدیلی کر کے کرونا وائرس کی سائنس بدل دی گئی تھی تو پھر ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ تیرہ ارب سال پر پھیلی ہوئی اِس لا محدود کائنات کے قوانین میں ترمیم کا ٹھوس اور سکہ بند فارمولا ہم غریبوں کے ساتھ بھی شئیر کرے تاکہ وہ کروڑوں اربوں لوگ جو علاج کی جدید سہولتوں سے محروم ہیں اِس فارمولے کی مدد سے اپنا علاج مفت کروانے کے قابل ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 184 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada