مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت کا انداز بدلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ایک بات لڑکیوں کو کہی جاتی ہے کہ تم تو پرائے گھر کی ہو ، کل کو بیاہ کر دوسرے گھر چلی جاؤ گی، اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے ، ہانڈی روٹی ہی تو کرنی ہے اور پھر جب کوئی لڑکی گھر داری میں دلچسپی نہ لے تب بھی یہ کہا جاتا ہے کچھ سیکھ لو ، کل کو کسی کے گھر جاؤ گی تو ہماری ناک کٹواؤ گی۔

مگر ہمارے معاشرے میں کبھی بھی لڑکوں کو گھر کا کوئی کام نہ کرنے پر یہ نہیں کہا جاتا کہ وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا ، آج ماں اور بہن موجود ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم زندگی گزارنے کا طور طریقہ نہ سیکھو بلکہ الٹا ہمارے ہاں مائیں اس بات کو بڑھاوا دیتی ہیں کہ لڑکے ہو ، کچن میں نہیں آؤ، کمرہ سمٹ جائے گا، کپڑے استری تم کیوں کرو گے ، یہ سب کام بیویوں کے کرنے کے ہوتے ہیں ، میں ان ماؤں سے کہنا چاہوں گی ، آئیے مل کر تربیت کا انداز بدلیں ۔ اپنے بیٹوں کی زندگی ان کے لیے بھی آسان کریں اور آنے والیوں ان کی بیویوں کے لیے بھی۔

کچھ باتوں پر عمل کیجیے تاکہ کل کوئی آپ سے یہ کہہ سکے کہ آپ نے اس ہیرے کی پرورش کی ہے جس کا ساتھ اس کے لیے قابل رشک ہے۔

1) کمرہ درست کرنا

عمومی طور پر لڑکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ اپنے کپڑے، کتابیں اور دیگر استعمال کی چیزیں کمرے میں پھیلا کر رکھتے ہیں اور ماؤں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ کمرہ صاف کرتے ہوئے چیزیں سمیٹ کر رکھیں اور پھر جب چیزیں ادھر ادھر ہو جاتی ہیں تو شور مچتا ہے ، بہتر ہے انہیں چھوٹی عمر سے ہی یہ بات سمجھائی جائے کہ وہ چیزیں سمیٹ کر رکھیں تاکہ آپ کی زندگی میں بھی آسانی ہو اور بے وجہ کے شور شرابے سے بچا جا سکے۔

2) کھانا پکانا

آج کے دور میں تو خیر سے لڑکیوں کو بھی کھانا پکانے میں دلچسپی نہیں کجا یہ کہ لڑکوں کو ہو ، مگر یہ کہ چائے بنانے اور انڈا تلنے سے بھی نے بہرہ ہونا بالکل ہی غلط ہے یا پھر یہ سوچنا کہ لڑکوں کا کچن میں کوئی کام نہیں۔ اپنے بیٹوں کو سمجھائیں کہ کچن میں آنا ان کی انا کو قطعی مجروح نہیں کرے گا ، اس تربیت کے نتیجے میں وہ آپ کی مدد کرے ، اگر اسے کل کو جاب کے سلسلے میں باہر بھی جانا پڑے تو وہ خود سب کچھ کرنے کے قابل ہو گا۔

3) کپڑے دھونا اور استری کرنا

آج کے مشینی دور میں ہر گھر میں کپڑے دھلنے کے لیے مشین موجود ہے ، اس سب کے باوجود لڑکوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ میلے کپڑے کمرے میں ڈال کر چلے جاتے ہیں ۔ ایسے میں کم از کم بیٹوں کو یہ عادت ڈلوانی چاہیے کہ میلے کپڑے ڈرم میں یا پھر مشین میں ڈالیں اور اگر آپ کے گھر میں کپڑے استری کرنے ملازمہ نہیں آتی تو پھر تو یقینی طور پر چودہ، پندرہ سال کی عمر سے بیٹوں کو استری کرنا سکھائیں۔

4) الماری اور اس کی حالت زار

وہ مائیں جو بیٹوں کو کچھ زیادہ ہی لاڈ پیار سے پالتی ہیں ، ہی ان کی الماریاں اور دیگر چیزیں سنوار کر رکھتی ہیں اور اگر وہ نہ کریں تو الماری کا حال تو پوچھو ہی مت ، بہتر ہے بچپن سے چھوٹی الماریوں میں بیٹوں کا سامان رکھیں اور ان کو اس بات کا عادی بنائیں کہ وہ خود اپنی الماری سیٹ کریں اور آپ پر انحصار نہ کریں۔

 5) چائے کا کپ

یوں تو ہمارے معاشرے میں ملازماوں سے استعمال شدہ برتن دھلوانے کا رواج ہے مگر ہم پاکستانی چائے پینے کے شوقین ہیں ، دن میں دو سے تین بار چائے کا اہتمام ہوتا ہی ہے اور پھر لڑکے اپنا استعمال شدہ مگ تک دھونا گوارا نہیں کرتے ،  یہ کام بھی مائیں سر انجام دیتی ہیں۔ بہتر ہو گا کہ وہ بیٹوں سے کہیں کہ دن میں کسی بھی وقت اگر وہ چائے کا کوئی مگ استعمال کریں یا پھر کوئی اور برتن ، تو اسے خود دھو کر رکھیں تاکہ آپ کے لیے آسانی ہو اور انہیں بھی چھوٹے کاموں کی عادت ہو۔

کچھ باتیں سن کر یا پھر پڑھ کر بڑی عجیب لگتی ہے کہ پاکستانی ماؤں کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ اپنی تربیت کا انداز بدل لیں مگر سچ تو یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں پوری دنیا میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے اور وہ قومیں ہی ترقی کرتی ہیں جو تبدیلی کو قبول کرتی ہیں۔ اس لیے آئیے آپ بھی تبدیل ہوں، اپنی زندگی میں بھی آسانی لائیں اور اپنے بیٹوں کی زندگی میں بھی تبدیلی لائیں کیونکہ  شادی کا مطلب اپنی ذات کی قربانی نہیں بلکہ دو افراد کا ساتھ ہوتا ہے جس کا خوشگوار ہونا زندگی میں رنگ بھر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •