ایسوپ – کچھوے کا خول کھردرا کیوں ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"مجھے اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ میں کتابی کیڑا نہیں ہوں۔ آپ ضرور یہ سوچیں گے بھئی کتابی کیڑا تو دور کی بات ہے پہلے یہ بتا کہ تو خود کون ہے۔ جیسے کمیشن کے امتحان کے دوران میرے ایک دوست نے دوسرے دوست سے پوچھا کہ عندلیب شادانی کا اصل نام کیا ہے تو اس نے برجستہ جواب دیا کہ اس نے محترم کا نقلی نام نہیں سنا تو اصلی کیسے بتا سکتا ہے۔ تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں جنید ہوں۔ میں نے گورنمنٹ کالج سے ادب میں آنرز کیا ہے اور ایک معاصر روزنامے کے ادبی شعبہ سے وابستہ مضمون نگار ہوں۔

ادب کے اوپر لکھنے کے لئے ادب پڑھنا ضروری ہے مگر بھلا ہو انٹرنیٹ کا کہ آپ کسی کتاب کا نام لکھیں اور وہ اس کا خلاصہ چند سیکنڈ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے اور وکیپیڈیا میں خلاصے سے نیچے اس کا عنوان (theme) بھی دے دیتا ہے جسے میرے جیسے تقریباً سبھی پڑھ کر بڑ ہانکنے لگتے ہیں کہ فلانا اس بارے میں ہے اور اس سے نیچے تنقید کو پڑھ کر تنقید نگاری شروع کر دیتے ہیں کہ اس کے اندر فلاں اغلاط نمایاں ہیں۔ اور یوں ایک مکمل پیکج تیار ہو جاتا ہے۔ چیخوف کے مطابق تہذیب یافتہ افراد ایسا نہیں کرتے۔ نتیجتاً عالمی ادب سے ہماری یہ ناآشنائی ہمیں اس حال تک لے آئی ہے کہ ہم اپنے لکھاریوں کو ان کے نام دے کر اپنا رانجھا راضی کر لیتے ہیں۔ جیسے اردو ادب کا کافکا، بورخیس یا موپاساں اور اسی طرح کے دیگر نام۔ لیکن قلعی تب کھلتی ہے جب انتظار حسین صاحب جنہوں نے اپنی بانوے سالہ زندگی جس میں تقریباً ستر سال تک مسلسل لکھا ہے ایک ادبی مقابلے میں پندرہویں پوزیشن لیتے ہیں۔ حالانکہ جناب پاکستان کے سب سے بڑے لکھاری مانے جاتے ہیں۔ اس کے مقابل کرن ڈیسائی یا اروندھتی رائے کب کی یہ انعامات جیت چکی ہیں۔
بات شروع ہوئی تھی میرے اعتراف سے کہ میں کتابی کیڑا نہیں ہوں، اس لئے کہ جب میں نے چینوا اچیبے کا ٹوٹی بکھرتی چیزیں (things fall apart ) پڑھا تو میں نے دھیان ہی نہ دیا کہ اس کے اندر ایک اور کہانی چھپی ہے جس کا نام ہے\” کچھوے کا خول کھردرا کیوں ہوتا ہے\”۔ شاید بہت سوں نے ابھی تک اس پہ غور نہ کیا ہو۔

\”آسمانی مخلوق کے بادشاہ نے پرندوں کی دعوت کی تو خبر ملتے ہی کچھوا بھی ان کے پاس چلا گیا کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ پرندوں نے پہلے تو پس و پیش کی بالآخر کچھوے کی چرب زبانی نے انہیں رام کر لیا اور وہ مان گئے۔ کچھوے نے کہا کہ کیا انہوں نے اس خاص دن کے لئے خود کے لئے کوئی خاص نام رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی کسی رسم سے واقف نہیں۔ کچھوے نے انہیں کہا کہ اس نے اپنا نام رکھا ہے۔ اس کا نیا نام ہے \”آپ کے لئے\”۔ وہ حیران ہوئے لیکن مان گئے۔ آسمان پر پہنچنے کے بعد کچھوے نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے خود کو ان کا سردار جتلانا شروع کر دیا اور ان کی نمائندگی اپنے سر لے لی۔ کھانا لگنے کے بعد کچھوے نے میزبان سے استفسار کیا کہ یہ دعوت کس کے لئے ہے تو بادشاہ نے کہا کہ\”آپ کے لئے\”۔ یہ سنتے ہی کچھوے نے سب کو کہا کہ دیکھو یہ سارا اہتمام میرے لئے کیا گیا ہے اور کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ کھانا ختم ہونے پر اس نے پرندوں کو اسے اٹھانے کا کہا لیکن بھوک کے غصہ کی وجہ سے انہوں نے انکار کر دیا۔ آخر اس نے منت سماجت کی کہ اس کی بیوی کو کہہ دیں کہ زمین پر روئی بچھا دے اور وہ چھلانگ لگا کر نیچے کود جائے گا۔ طوطا جو سب سے افسردہ تھا اس نے حامی بھر لی اور اس کی بیوی کو پتھر بچھانے کا کہا۔ کچھوے نے بیوی کو چیزیں جمع کرتے دیکھا اور چھلانگ لگا دی۔ پتھر پر گرنے کے سبب ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ مادہ کچھوے نے اسے مٹی سے جوڑا اور یوں کچھوے کا خول کھردرا بن گیا۔\”

اس کہانی سے ایک تو افریقی نسل کے وسیع ترین تخیل کی نشاندہی ہوتی ہے دوسرا ان کی تہذیب و ثقافت کا پتہ چلتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو کیسی کیسی حکایات سناتی تھیں۔ اسی طرح بچوں کے بلاوجہ رونے اور اس مسئلہ کی بھی کہ سیاہ بھینس سفید دودھ کیوں دیتی ہے۔ یہ مذاق نہیں لیکن وہ اس کو سچ ثابت کرنے کا تخیل رکھتے ہیں۔ اور جدید ادب میں افریقیوں کی کامیابی انہی روایات سے پیوستہ ہو کر امید بہار رکھنے میں مضمر ہے۔
ہم بھی اسی طرح کی کہانیاں بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ لیکن تخیل سے محرومی کی بدولت کسی کہانی کو اپنا کہنے سے قاصر رہے اور ہمارے ہاں کہانی فقط اخلاقی نتیجہ، نیکی اور بدی کی لڑائی اور گنے چنے موضوعات تک محدود رہی ہے۔ کیونکہ ہم نے کہانی کو تو پکڑ لیا لیکن تحقیق میں کورے رہے کہ کہانی کہاں سے آئی؟ بقول بورخیس کہانی اسباب و علل کا مرقع ہوتی ہے۔

جیسے کچھوا اور خرگوش کی کہانی یا لومڑی اور اس کے کھٹے انگوروں کی۔

دلچسپ یہ کہ ان تمام کہانیوں کا خالق ایک ہی شخص ہے۔ یہاں میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہاں میں نے اس شخص کو کھوج لیا ہے اور آپ مجھے واسکوڈے گاما کہیے یا کولمبس مجھے اس پہ کوئی اعتراض نہیں۔ اور میں اس دریافت کا انتساب گارشیا مارکیز کے نام کرتا ہوں جس نے کہا تھا کہ مختلف چیزیں پڑھئے کہ وہ آپ کو اردگرد کے ماحول یعنی ادبی ماحول سے مزید آگے لے جائیں گی۔

اس شخص کا نام ایسوپ (Aesop) ہے جس نے یہ ساری عظیم کہانیاں تخلیق کیں۔ افسوس کہ شاید ہمارے اردو یا انگریزی کے کسی استاد کو اس کے بارے آگاہی نہ ہوگی۔ ہو گی بھی کیوں! ان کا کام تو فقط یہ کہانیاں پڑھانا اور رٹا لگوانا ہے آگے طالب علم کی صوابدید ہے کہ وہ کتنے نمبر لیتا ہے۔ یاد رہے کہ اخلاقی سبق کے ہجے درست ہونے چاہیے ورنہ نمبر کٹ سکتے ہیں۔ مزید انہیں تنخواہ اس بات کی تو نہیں ملتی کہ ایسی فضول چیزوں پر سر کھپائیں اور سر کھپانے کی اتنی ہی عادت ہوتی تو آج وہ ماسٹر ہوتے۔

ارسطو کے مطابق ایسوپ چھٹی صدی قبل مسیح میں ساموس کے مقام پر پیدا ہوا۔ وہ کبڑا غلام تھا لیکن اپنی عقلمندی کے باعث آزاد کر دیا گیا۔ مشہور تاریخ دان ہیروڈوٹس کے مطابق بچپن میں وہ گونگا تھا لیکن معجزاتی طور پر ٹھیک ہو گیا۔ اس کے مالک نے ہی اس کو نام دیا جسے بعض اوقات ایتھوپ یعنی حبشی بوڑھا بھی کہا جاتا ہے۔

آزادی کے بعد اس نے معاشرے کے افراد کو ان کی خصوصیات کے باعث جانوروں کی شکل میں پیش کیا۔

اس کے مطابق کچھوے کی مانند سست رفتار لوگ اپنی دھن میں مست زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ شیر کی مانند جذباتی عقل سے نہیں دل سے کام لیتے ہیں اور لومڑی کی مانند چالاک ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔

ایک اور کہانی\” مینڈک بادشاہ کی خواہش کرتے ہیں\” میں اس نے درس دیا کہ ظالم قانون سے اس کا نہ ہونا ہی بہتر ہے۔

دوسری طرف وہ پہلا تمثیل نگار تھا جس نے نقل کے پردے میں اصل کو آشکار کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “ایسوپ – کچھوے کا خول کھردرا کیوں ہوتا ہے

  • 23/12/2016 at 9:12 pm
    Permalink

    برادرم، انتظار حسین کو اگر بُکر انعام نہیں ملا تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ انعام پانے والوں سے کمتر تھے۔ تقابلی ادبی مطالعہ میں سب کچھ ہوتا ہے سوا مجرد تقابل کے۔ ایسوپ کو ہماری تہذیب میں (یعنی اس تہذیب میں جو صرف عرب اور فارس سے ہی اپنا رشتہ جوڑتی ہے) لقمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لقمان کی کہانیاں اسی نام سے بچوں کی درسی کتابوں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔ انتظار صاحب نے اردو کو برّ صغیر کی روایتوں سے دوبارہ آگاہ کرانے کی سعی کی۔ کتھا سرت ساگر اور جاتکا کی کہانیاں، پنچ تنتر اور ہتوپدیش کی کہانیاں اور حکایات جو خود بےشمار ہیں۔ کہانیوں کا اتنا بڑا ذخیرہ، صرف دو زبانوں، سنسکرت اور پالی، کے حوالے سےشاید دنیا میں بے مثال ہے۔ ویسےاصل کو نقل کے پردے میں آشکار کرنے کا کام تو صدیوں سے ہوتا آرہا ہے، اور دنیا کے کونے کونے میں، جہاں بھی انسانوں نے بستیاں بسائی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے ایسوپ کو ڈھونڈ نکالا۔ ہر نئی نسل کو یہی کرنا چاہئے۔ یہ باتیں صرف اس امید سے لکھ رہا ہوں کہ شاید آپ تجسس کو مزید راہ دیں اور سنسکرت میں چھپے ان سوتوں کو بھی اپنا لیں جن سے اس برّصغیر کی ہر زبان کے فکشن نے توانائی حاصل کی ہے۔

  • 24/12/2016 at 8:24 am
    Permalink

    واجب صد احترام! محترم نعیم صاحب
    سب سے پہلے تو میں آپکے تنقیدی و تخلیقی مضامین پر آپکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں. آپ کا مطالعہ و مشاہدہ وسیع اور قابل ستائش ہے جو آپکے مضامین سے جھلکتا ہے. جیسا ندیم پراچہ صاحب کے مضمون میں تحقیق اور فرائڈے ٹائمز میں تنقید کے لحاظ سے دیکھا گیا.
    دوسرا نکتہ انتظار حسین صاحب کے متعلق ہے. بے شک وہ خود کو قدیم ہندوستانی تہذیب سے منسلک رکھتے ہیں اور اسی تناظر میں لکھتے ہیں, اور بے شک اعلئ پائے کے ادیب ہیں مگر صرف پاکستان یا ہندوستان تک, بین الاقوامی طور پر نہیں. اگرچہ ہرمن ہیسے نے بھی اپنے سوتے سدھارتا میں تلاش کیے, مگر اس وادی کے مکین ہو کر نہیں رہے. اور اسی طرح آرتھر سکافنر بھی براہما کو مانتا تھا. یعنی قدیم ہندوستان پہ بہت سوں نے طبع آزمائی کی ہے.
    میں آپ کی دوسری بات سے بھی متفق ہوں کہ آپکے دور طالبعلمی میں یہی کہانیاں لقمان کے نام سے پڑھائی جاتی رہی ہوں گی, جو یقینناً حکیم لقمان ہی ہوں گے. میرا مدعا ہے کہ ان کہانیوں کو لقمان کی کہانیاں کہنا زیادہ مناسب لگتا ہو گا کہ کون تحقیق کرے گا کہ یہ دراصل کس کی ہیں. ایسوپ کو تو آج بھی کوئی نہیں جانتا اور گلوبل ولیج کیبعد ٹیکسٹ بل بورڈ والوں نے لقمان بھی مٹا دیا ہے.
    تیسرا میں انشاءاللہ آپکی امید پہ پورا اترنے کی کوشش کروں گا, تجسس کروں گا اور سنسکرت میں چھپے سوتوں کو بھی اپنانے کی.
    شاید میں آپکو مطمئن نہ کر سکا ہوں, جسے ایک طالبعلم جان کر درگزر کیا جا سکتا ہے.

Comments are closed.