میرے گاؤں میں بولے جانے والے چند کلیشے
میں اپنے گاؤں کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔ میں نہ تو سماجی ورکر ہوں نا کوئی کونسلر یا کوئی سیاستدان۔ ایک عرصہ تک میرے گاؤں پر دشمنی کے بادل چھائے رہے۔ اللہ کا شکر ہے اب ایسی کوئی صورتحال نہیں اور امن ہے۔ دکانیں دیر تک کھلی رہتی ہیں اور لڑکے آگے نکل کر ملک کی اچھی جامعات اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ایک دفعہ میرے گاؤں میں ایک سنوکر کلب کھلا اور ہم سارے لڑکے وہاں اکٹھے
Read more


