غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ اور کچھ ذکر محمود غزنوی میزائلوی صاحب کے احسانوں کا


آج پاکستان نے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ زمین سے زمین تک مار کرنے والے اس میزائل سے روایتی اور جوہری دونوں ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ شاید بعض پاکستانیوں کو اس بات پر حیرت ہو کہ اس میزائل کا نام افغانستان کے ایک بادشاہ کے نام پر کیوں رکھا گیا ہے؟ کسی پاکستانی کے نام پر کیوں نہیں رکھا گیا؟ حالانکہ حکومت کئی دہائیوں سے سکول کے بچوں کو غزنوی اور ابدالی جیسے بے نفس فاتحین کے کارنامے رٹوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

”غزنوی“ نام سے ذہن میں فوری طور پر محمود غزنوی صاحب کا نام ذہن میں آتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے ظہور سے قبل بھی اس خاندان نے اس خطے کے لئے جس پر ہمارا پیارا وطن واقع ہے بہت سی خدمات سرانجام دی تھیں۔ اس بارے میں چند حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ متعصب ہندو اور انگریز مصنفین کی عادت ہے کہ وہ ہر مسلمان فاتح میں کیڑے نکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے اس کالم میں صرف ایک مسلمان مصنف کی کتاب کے اصل الفاظ درج کیے جائیں گے تاکہ نئی نسل غزنوی خاندان کے کارناموں سے بھی واقف ہو۔ اس غرض کے لئے سید محمد لطیف صاحب کی کتاب ”تاریخ پنجاب“ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس خاندان کا بانی امیر ناصرالدین سبکتگین تھا۔ یہ اصل میں ترک نسل کا غلام تھا۔ جب وہ اپنے آقا الپتگین کی خدمت کر رہا تھا تو اس کے آقا نے اسے کئی مرتبہ ملتان کے لوگوں کی خدمت کے لئے روانہ کیا۔ اس لشکر کشی کے بارے میں لطیف صاحب لکھتے ہیں

” الپتگین نے اپنے جرنیل سبکتگین کے تحت کئی مرتبہ ملتان اور لمگھان کے صوبوں کو زیر کرنے کے لئے روانہ کیا۔ ان صوبوں کے ہزاروں باشندوں کو غلام بنا کر غزنی لے جایا گیا۔“

واضح رہے کہ پنجاب کے جن ہزاروں باشندوں کو غلام بنا کر غزنی لے جایا گیا تھا انہیں غزنی کی حکومت کی طرف سے فری میں خوراک اور رہائش مہیا کی جاتی تھی۔ اور ان میں جو لونڈیاں تھیں۔ خیر چھوڑیں یہ تفصیلات تاریخ میں بیان نہیں کی جاتیں۔

بہر حال سبکتگین نے الپتگین کی بیٹی سے شادی کر کے گھر دامادی اختیار کی۔ اور اپنے سالے کی موت کے بعد مجبوری میں حکومت بھی سنبھال لی۔ خدا کا دیا سب کچھ تھا لیکن سبکتگین کو پنجاب کے لوگوں کی خدمت کا جذبہ چین نہیں لینے دیتا تھا۔ چنانچہ اس نے خدمت خلق کے لئے 977 عیسوی میں پھر پنجاب پر حملہ کیا اور لکھا ہے :

”اس نے بہت سے قلعے تسخیر کیے اور مسجدیں تعمیر کرانے کا حکم دیا اور بہت سے مال غنیمت کے ہمراہ غزنی لوٹا۔“

یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ اسے ان اموال کا کوئی لالچ تھا۔ وہ ان اموال کو مستقبل میں مزید فلاحی منصوبوں پر خرچ کرنا چاہتا تھا۔ جب پنجاب کے راجہ جے پال سے اگلی جنگ ہوئی اور جے پال کو نظر آنے لگا کہ اب شکست ہو جائے گی۔ تو اس نے دس لاکھ روپے اور پچاس ہاتھی دے کر جان چھڑانا چاہی۔ تو سبکتگین نے یہ پیشکش محض رحمدلی کی وجہ سے قبول کر لی۔ لیکن جے پال نے بقایا ادا کرنے سے انکار کیا تو مجبوری کی حالت میں سبکتگین کو حملہ کر کے لاہور پر اپنا گورنر لگانا پڑا۔

بہر حال یہ صاحب دنیا سے رخصت ہوئے تو پنجاب بلکہ پورے ہندوستان کی خدمت کی ذمہ داری ان کے صاحبزادے محمود غزنوی کے کاندھوں پر آن پڑی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت گھوڑوں پر سفر کرنا پڑتا تھا عزیزم محمود غزنوی ثم میزائلوی صاحب نے اس غرض کے لئے ہندوستان کے تیرہ سفر کیے ۔

محمود غزنوی نے جب اگست 1001عیسوی میں ہندوستان کا پہلا سفر اختیار کیا تو اس کے متعلق لکھا ہے :

”اس فتح سے محمود کو بہت شہرت اور دولت حاصل ہوئی۔ مال غنیمت میں ہیرے جواہرات سے مزین سولہ ہار بھی اس کے قبضہ میں آئے جن کو صرف جے پال زیب تن کرتا تھا۔ ان کی مالیت 82 ہزار پاؤنڈ تھی۔ اس نے جے پال کو اس شرط پر رہا کر دیا کہ وہ اسے سالانہ خراج ادا کرے گا۔ لیکن اس نے اس کی پنجاب کی طرف پیش قدمی کے دوران مخالفت کرنے والے افغان سرداروں کو تہ تیغ کر دیا۔“

آخری جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمود غزنوی میں مذہبی تعصب بالکل نہیں تھا۔ مسلمان سرداروں کو اس لئے قتل کیا کیونکہ انہوں نے مزاحمت کی تھی۔ اور ہندو دشمن کو اس لئے رہا کیا کیونکہ اس سے خراج لینا تھا۔ چند سال بعد خراج آنا بند ہو گیا۔ اس پر محمود غزنوی جھنجھلایا کہ اب غریبوں کی خدمت کس طرح ہو گی۔ چنانچہ اس نے ہندوستان پر دوسرا حملہ کیا اور اس کے نتیجہ میں :

”بے شمار کو تہ تیغ کر دیا گیا۔ ایک حملہ کے ذریعہ بھاٹیہ پر قبضہ کر لیا گیا۔ دو سو اسی ہاتھی، بے شمار غلام اور دیگر مال غنیمت بادشاہ کے ہاتھ لگا۔“

محمود غزنوی نے تیسرا حملہ اس لئے کیا تھا کہ ملتان کے مسلمان حکمران داؤد غزنوی نے خراج ادا نہیں کیا تھا۔ جب جنگ کے بعد داؤد صاحب کو دن میں تارے نظر آنے لگے تو اس نے اس شرط پر معافی حاصل کی کہ وہ 20 ہزار طلائی درہم ہر سال ادا کرے۔ محمود غزنوی کا چوتھا حملہ بھی ایک ایسے مقامی حکمران کے خلاف تھا جو ایک بزرگ ابو علی کی تبلیغ سے مسلمان ہو چکا تھا۔ اور اس حملے کے نتیجے میں محمود غزنوی 4 لاکھ روپے سمیٹ کر لے غزنی لوٹا۔ پانچویں حملے میں محمود غزنوی کے پانچ ہزار فوجی تو مارے گئے لیکن عظیم فائدہ یہ ہوا کہ

”سونے اور چاندی کی سلاخوں، جواہرات اور سچے موتیوں، مونگوں، ہیروں اور لعلوں کی شکل میں محمود کے ہاتھ لگا جو اس وسیع و عریض خزانے کے سمیت غزنی لوٹا۔“

ساتویں حملہ کے بارے میں لکھا ہے :

”محمود نے کشمیر کی تمام عظیم دولت کو لوٹ لیا۔ وہ لوٹ مار کے بیش بہا سامان کے ساتھ اپنے دارالحکومت لوٹا۔“

نویں حملے کا انجام یہ تھا

” تمام بتوں کو یا تو پاش پاش کر دیا یا جلا دیا گیا۔ زیادہ تر مندروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اور سونے چاندی کی صورت میں بہت بڑا خزانہ لوٹ لیا گیا۔“

گیارہواں حملہ کالینجر کے راجہ کے خلاف تھا۔ لیکن یہ راجہ عقلمند تھا

”نندا رائے نے بر وقت اطاعت اور قیمتی تحائف پیش کر کے اپنے آپ کو آفت سے بچا لیا۔ انہیں قبول کر لیا گیا اور اسے اپنے علاقے پر بحال رکھا گیا۔“ بارہواں حملہ سومنات کے خلاف تھا۔ سومنات پہنچنے سے پہلے اجمیر کے علاقے میں لوٹ مار مچائی گئی اس کے بعد سومنات کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔ اس کے بارے میں لکھا ہے :

”محمود کے درباریوں نے بھی مشورہ دیا کہ ایک بت کی تباہی سے بت پرستی ختم نہیں ہو گی۔ لیکن محمود نے اس خیال کی تضحیک اڑائی کہ آئندہ نسلوں میں اس کا نام بت فروش رکھا جائے گا۔“

Tomb of Mehmud Ghaznavi

جب 23 سال ہندوستان کی بے لوث خدمت کے بعد محمود غزنوی کی وفات کا وقت قریب آیا تو اسے ہندوستان اور خاص طور پر پنجاب کی محبت نے مجبور کیا کہ وہ حکم کرے :

”اس نے اپنے انتقال کے دو روز پیشتر حکم دیا کہ سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی شکل میں اس کی ساری دولت کو اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس نے ان خزانوں کی جدائی کے خیال سے آنسو بہانے شروع کر دیے۔“

[ملاحظہ کریں تاریخ پنجاب مصنفہ سید محمد لطیف ص 187 تا 204 ]

محمود غزنوی صاحب کی ان بے لوث خدمات کی وجہ سے ہم اپنے میزائلوں کا نام غزنوی میزائل رکھتے ہیں۔ ان سائنسدانوں کے نام پر نہیں رکھتے جن کی کاوشوں کی وجہ سے یہ میزائل بنائے گئے۔ کیونکہ محمود غزنوی فوت ہوتے ہوئے بھی ان خزانوں کو دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے جو انہوں نے ہندوستان سے لوٹے تھے۔ اور اسی اشکبار حالت میں وہ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔

Facebook Comments HS