کیا پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی؟
پی ڈی ایم نے وزیراعظم عمران خان پر الزامات کی چارج شیٹ جاری کی اور ان سے 31 جنوری 2021ء تک مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ 31 جنوری گزر چکی ہے۔ وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔ چنانچہ کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم گیدڑ بھبھکیوں کا مجموعہ ہے حکومت کے لئے سنجیدہ خطرہ نہیں۔ حالانکہ یہ مسلمہ بات ہے کہ (ایک) سیاسی مطالبے پر ہمارے ملک میں مستعفی ہونے کی روایت نہیں، (دوسرا) پی ڈی ایم ایسی قوت تو نہیں کہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد وہ حکومتی ایوانوں پر حملہ آور ہو کر حکومت کو نکال باہر کرتی۔ ڈیڈ لائن دینے کا واضح مقصد یہ ہے کہ اس تاریخ کے پی ڈی ایم حکومت گرانے میں اخلاقی طور پر بھی مجاز ہوگی کہ اس نے قبل از وقت آبرو مندانہ طور پر حکومت چھوڑ دینے کا موقع دیا تھا۔ صاحب یہ سیاسی جدوجہد ہے یوں نہیں کہ پی ڈی ایم یکم فروری کو حکومت کا سرکٹ بریکر بند کر کے اقتدار کا خاتمہ کر دیتی جیسا کہ دسمبر میں ہوا اور پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ اس حوالے سے اب کچھ ناقد احباب یہ بھی فرماتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے وغیرہ وغیرہ
بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے مطالبے کے ساتھ یہ تو نہیں کہا تھا کہ اگر 31 جنوری تک جناب عمران خان نے استعفیٰ نہ دیا تو ہم خود انہیں برطرف کر دیں گے ہاں استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں پی ڈی ایم نے سخت احتجاجی اقدامات کا عندیہ واشگاف طور پر ضرور دیا تھا۔ دسمبر کی 27 تاریخ کے بعد پی ڈی ایم کے اتحاد پر باہمی، داخلی اختلافات اور مفادات کے ٹکراؤ کے مشکوک سائے گہرے ہونے لگے تھے جب جناب بلاول بھٹو نے لانگ مارچ اور دھرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک عوامی اجتماع میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت ختم کرنے کے لئے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے اسے تیر بہدف نسخہ بھی قرار دے دیا تھا۔ اب پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس فروری کی چار تاریخ کو طلب کیا گیا ہے جس میں تحریک عدم اعتماد کی تجویز پر شرکا غور کریں گے۔ اگر جناب بلاول نے تحریک کی کامیابی کے لئے درکار مطلوبہ ووٹوں کے متعلق ٹھوس اعداد شواہد کے ساتھ سیاسی یقین دہانی پیش کی تو پی ڈی ایم کے لئے اس تجویز کو قبول کرنا ممکن ہو جائے گا بصورت دیگر جناب بلاول بھٹو کو اپنی تجویز یا موقف سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
غور طلب نکتہ یہ ہے کہ تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ووٹ کہاں سے آنے کی امید نما یقین دہانی ہو سکتی ہے؟ مخلوط مرکزی حکومت میں ایک یا دو جماعتوں نے جو دس پندرہ ارکان قومی اسمبلی رکھتی ہوں اور حکومتی کارکردگی سے نالاں بھی۔ ان کے گلے شکوے اور مایوسی نے بھی انہیں قومی اسمبلی میں اپنا پارلیمانی کردار بدلنے پر مجبور کیا ہو اور انہوں نے جناب بلاول تک اپنی تبدیلی فکر و عمل کی مصدقہ اطلاع بھجوائی ہو یا پھر یہ کہ خود پی ٹی آئی میں موجود ان کے سابقہ پارٹی ساتھی ایم این ایز کے کسی موثر گروپ نے جو حکومتی فیصلہ سازی میں موجود کوتاہیوں سے ناخوش ہو باہمی طور پر طے کر لیا ہو کہ وہ اپنا فارورڈ بلاک بنا کر ان ہاؤس تبدیلی لانے میں کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں غیر منتخب مشیران و معاونین خصوصی اور ترجمانوں کی فوج کو وزیراعظم کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے اور وہ منتخب ارکان سے زیادہ بارسوخ بھی ہیں۔ منتخب اراکین پارلیمان ان کی اس بالادستی اور "کارکردگی” سے سخت ناراض و نالاں ہیں تو گمان ممکن ہے انہوں نے اپنی راہیں جدا کرنے کا ادارہ کر لیا ہو۔
البتہ کھنڈت ان مذکورہ دونوں ممکنہ گروہوں کے "آزادانہ خودمختار فیصلہ کرنے کی استعداد یا امکان کی موجودگی” کے سوال سے پیدا ہوتی ہے۔ سیاسی حلقے بالعموم خیال ظاہر کرتے اور شاید درست فرماتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی کسی جماعت میں من حیث الجماعت یا اس کے ارکان میں اتنی سکت ہے نہ حوصلہ کہ وہ مذکورہ نوعیت کے فیصلے اپنے طور پر کر سکیں البتہ اگر انہیں کارخانہ حکمرانی سے اشارہ مل جائے تو پھر یہ کاغذی شیر بھی اصلی جنگلی شیر بن سکتے ہیں۔
پی ڈی ایم اپنے مجوزہ سربراہی اجلاس میں جہاں دستیاب ہونے والے ووٹوں کی بابت جناب بلاول سے مفصل معلومات کا تقاضا کرے گی تو لازمی طور پر وہ اس پہلو پر بھی سوال اور غور کرے گی کہ "شاہی محل” سے ملنے والے مذکورہ خیراتی ووٹ صرف حکومت گرانے کے لئے دستیاب ہوں گے یا وہ اگلی حکومت کی ہیئت سازی میں مرکزی کردار بھی ہوں گے؟ اور اپنے جثے سے زیادہ حصہ طلب کریں گے؟ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی ممکن بنانے کی ہر ممکن سعی کریں گے کہ ممکنہ طور پر نئی حکومت جواب سیاسی مداخلت بند کرانے سے متعلق اپنے بیانہ عزائم سے عملاً دست کش ہونے کا یقین بھی صاحبان اقتدار کو دلائیں؟
قرائن بتا رہے ہیں کہ اس مباحثے یا اجلاس میں پی ڈی ایم کی قیادت عدم اعتماد کی مجوزہ تحریک کے نئے حامیوں اور ان کے پس پردہ کرداروں، عوامل اور مقاصد کے مضمرات اثرات اور دیگر امور کو قطعی طور پر اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے۔ نواز لیگ کا موقف تو اس کی پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس سے کم و بیش سامنے آ چکا ہے دیگر جماعتیں بھی مفاہمت و مصلحت پسندی کے مرض میں مبتلا ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں گو کہ مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ روز کے بیان میں نرم خوئی بدرجہ اتم موجود تھی جسے احباب نے "معاملہ بندی” سے تعبیر کیا ہے۔ ممکن ہے معاملہ یونہی ہو لیکن اس کے برعکس کی صورتحال کا امکان بھی برقرار ہے۔
ممکن ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کا یہ بیان سفارتی آداب کا مظہر نکلے جو فریق مخالف کو معاملات بگاڑنے کے الزام سے بچنے کی پیش بندی ہو کہ جناب ہم نے تو لچک کا اظہار کیا تھا مگر دوسرے فریق نے ہمارے رویے کو پذیرائی نہیں دی۔ یہ واضح ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں رکھتا وگرنہ وہ حکمران ہوتا۔ لہذا تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا انحصار ان امدادی ووٹوں پر ہی ہو سکتا ہے جن کا سطور بالا میں ذکر اور ان کی نوعیت اور ما بعد اثرات بھی جزوی طور پر رقم کر دیے ہیں۔ دریں حالات میں نہیں سمجھتا کہ سربراہی اجلاس میں جناب بلاول بھٹو دیگر جماعتوں کو اپنا ہمنوا بنا پائیں گے۔ لہذا امکان یہی ہے کہ پی ڈی ایم ان ہاؤس تبدیلی کے لئے فوری طور پر آمادہ نہیں ہو گی۔
نظام کے تسلسل کی خواہش اور آئینی ذرائع سے تبدیلی لانے کے موقف میں دو چیزیں کردار ادا کر سکتی ہیں اول جناب عمران خان حالات کی ستم ظریفی دیکھتے ہوئے مستعفی ہو جائیں، کابینہ تحلیل کر دی جائے اور قومی اسمبلی کو آزادانہ طور پر خودمختاری کے ساتھ نئی حکومت سازی کا موقع دے دیا جائے یا پی ٹی آئی سے کثیر تعداد میں ارکان بغاوت کریں، اتحادی بھی ساتھ چھوڑ دیں اور یہ باغی گروپ پیپلز پارٹی کی شراکت داری سے نئی حکومت قائم کر لیں۔ یوں موجود ہائی برڈ نظام بھی چلتا رہے گا اور طاقتوروں کو لاحق سیاسی خطرات و خدشات بھی زائل ہو جائیں گے شاید پی ڈی ایم بھی ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہو جائے یا کم از کم پیپلز پارٹی اس سے علیحدگی اختیار کر کے سندھ کے بعد مرکز میں بھی حکمران بن جائے۔
بحث کو آگے بڑھانے سے قبل مناسب ہوگا کہ پی ڈی ایم کی ناکامی سے متعلق ابلاغی بیانیہ کے جواب میں کچھ معروضات پیش کروں کہ اس تحریک نے اب تک کیسی اور کتنی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں
یہ کہنا بہت سہل بھی ہے اور شاید لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے تسلیم بھی کر رہی ہو کہ پی ڈی ایم کی تحریک تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی۔ اس تصور کو پروان چڑھانے والے لکھاری البتہ یہ نہیں بتاتے کہ وہ اس تحریک کی کامیابی کو کس انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ ان کی متضاد خیالی یہ ہے کہ وہ دوران تحریک، حکومت کو آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دینے اور سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حکومتیں گرانے بدلنے کے سخت ناقد بھی تھے (آئینی مدت کے متعلق وہ کسی بھی مباحثہ میں آئین کی وہ شق پیش نہیں کر پاتے تھے جس میں ایک بار قائم ہو جانے والی حکومت کی پانچ سال تک مدت متعین کی گئی ہو۔)
کسی بھی سیاسی تحریک کی اپنی کیمسٹری ہوتی ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ تحریکوں میں عوامی جوش و جذبہ بھرنے اور کارکنوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے جلد کامیابی کی نوید کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ تحریک کے دوران احتجاج کے اثرات نیز حکومت کی مزاحمتی قوت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت عملی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے۔ ایک قدم آگے بڑھنے کے لئے کبھی کبھار ایک قدم پیچھے ہٹنا بھی حکمت عملی شمار ہوتا ہے۔ بنیادی سوال جس پر موجودہ تحریک منظم ہوئی سیاست میں مسلسل غیر سیاسی مداخلت کا سلسلہ بند کرانے کے لئے جمہوری جدوجہد کرنا تھا۔ اسی مداخلت کے نتیجے میں 25 جولائی 2018 کے انتخابات چوری ہوئے تھے اور مال مسروقہ پی ٹی آئی سے برآمد ہوا تھا۔
چوری شدہ مینڈیٹ کو رد کرتے ہوئے عوامی رائے کو تبدیل کرنے والے کرداروں کی سیاسی گوشمالی لازمی ٹھہرائی گئی تھی۔ حکومت کو مسلط زدہ کہنے اور مسلط کرنے والوں پر تنقید ان کے پس پردہ کردار کا علی الاعلان اظہار اس مقصد کو عوامی سطح پر آگے بڑھانا تھا تاکہ مداخلت کار اپنے آئینی فرائض منصبی تک خود کو محدود رکھنے پر مجبور ہوں یا مائل ہو جائیں۔ یوں پارلیمان کی بازیابی عمل میں آئے، پارلیمنٹ آزادانہ طور پر اپنے تمام فرائض سرانجام دے سکے۔
تحریک کا مذکورہ مقصد بہت بنیادی مگر کٹھن تھا اور اب بھی ہے۔ چنانچہ عوامی احتجاج جلسے جلوسوں کے ذریعے سیاسی دباؤ کی حدت میں اضافہ کر کے حکومت اور اداروں کے "ایک پیج پر” ہونے کے غیر آئینی موقف یا صورتحال میں دراڑ تراشنا پی ڈی ایم کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ گوجرانوالہ کے جلسے سے اس کا جس طور آغاز ہوا وہ ان لوگوں کے لئے حیرت انگیز بلکہ خطرے کی گھنٹی کا درجہ رکھتا تھا جن کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ قومی جمہوری تحریک کے رہنما واشگاف الفاظ میں "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کی ایسی تشریح کرتے ہوئے عوام کو کھل کر بتائیں گے کہ ووٹ کی عزت پامال کرنے والے کون ہیں؟
اس جلسہ کے بعد درباری دانشوروں کی جانب سے چیخ و پکار اور پھٹی آنکھوں کے ساتھ غصیلے پن سے سچ عوام کے سامنے لانے والوں پر ملکی دشمن کے الزامات وارد ہونے لگے۔ یہ سب کچھ پی ڈی ایم کے طرز بیان و فغاں کو مدھم کرنے، اتحاد کو تقسیم کرنے کی سعی لاحاصل تھی جسے سیاسی اکابر نے یوں بیان بھی کیا کہ اب تو پی ڈی ایم سے این آر او مانگا جا رہا ہے
لیکن تمام رہنماؤں نے بالاتفاق جبکہ بالخصوص میاں نواز شریف نے آئین و پارلیمان کی بالا دستی کے موقف بارے ٹھوس اور سرخ لکیر کھینچ دی تو تمام رابطہ کاروں کو غیر مبہم طور پر کہا گیا کہ آئین پاکستان کی سرخ لکیر کی جس جانب ان کے فرائض منصبی طے شدہ ہیں وہ انہی پر اکتفا کریں تو ٹھیک لیکن اس سرخ لکیر کو مٹانے کی کسی کوشش کو قبولیت ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس دو ٹوک اور واضح موقف کے اثرات تواتر سے بڑھ رہے تھے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر نے پاکستان سمیت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا حکومت نے اس موقع کو اپنے لئے غنیمت جانا۔ ہر روز وزرا اور ترجمان پی ڈی ایم کے جلسوں پر کورونا پھیلانے کا الزام دہراتے، سیاسی جماعتوں کو بے حس کہتے جو لوگوں کو کورونا سے بچانے کی بجائے اجتماعات کے ذریعے کورونا پھیلانے میں مصروف ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ احتجاجی جلسوں میں آئے تعطل کے ساتھ ہی کورونا اور کورونا کے عقب میں چھپ کر عافیت کی متمنی حکومت کی آہ و بکا بھی گہرے سکوت میں ڈوب گئی ہے۔ تحریک میں آہستگی اور جلسوں کے انعقاد میں وقت کے طویل وقفوں کی غلطی پھر سینیٹ انتخابات کا سر پر آن پہنچنا، اس کے نتیجے میں تحریک جس ٹھہراؤ کا شکار ہوئی، اسے حکومتی ہمنواؤں نے ناکامی کا عنوان دینے عجلت دکھائی ہے حالانکہ یہ عرصہ بدلے ہوئے حالات اور تحریک کے مرتب کردہ اثرات کے جائزے اور حکمت عملی پر از سر نو غور کر کے آگے بڑھنے کا وقفہ ہے۔
سوال یہ بھی تھا کہ سینیٹ کے ذریعے ایوان بالا میں آ جانے والی عددی تبدیلی کے اثرات کو کیسے روکا جائے؟ اس کا ایک جواب سینیٹ کے الیکٹرول کالج کو ختم کرنے میں مضمر تھا جو صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا متقاضی تھا۔ حکومت نے سینیٹ کے مجوزہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی کے ذریعے پی ڈی ایم کی حکمت عملی کو مخمصے کا شکار کیا۔ استعفوں کی صورت میں ایک خدشہ جسے مکمل یقین سے رد کرنا ممکن نہ تھا کہ حکومت دستیاب عرصہ میں اپنے سرپرستوں کی اعانت سے اگر سینیٹ کے انتخابات کرانے پر مصر رہے تو پھر اسے ایوان بالا میں مکمل اکثریت مل سکتی ہے جسے اقتدار و اختیار کے فریقین فوری طور پر آئین میں من پسند ترامیم کے لئے استعمال کریں گے بھلے بعد میں اس پر جتنا بھی شور اٹھے ان کی بلا سے۔
اس سوال کا تقاضا تھا کہ پی ڈی ایم مستعفی ہونے کی بجائے سینیٹ میں اپنی طاقت میں کمی آنے کے امکانات کا تدارک کرے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی تھا کہ اگرچہ جنوری 21 میں دھرنا اور استعفے دینے کا اعلان کیا جا چکا ہے مگر سیاسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عملیت پسندی کی راہ اپنائی جائے اور دھرنے یا مستعفی ہونے کے فیصلے کو کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کر لیا جائے۔ پی ڈی ایم نے یہی راستہ اپنایا ہے جسے عمومی ملکی مباحثے میں بوجوہ اوجھل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟ لیکن اس گفتگو سے پہلے پی ڈی ایم کی سیاسی کامیابی کے دوررس پہلوؤں پر بات کرنا برمحل ہوگا۔ یوں تو قیام پاکستان سے ہی پاکستان میں قومی سوال ایک سلگتا مسئلہ رہا ہے جس کی شدت میں مختلف ادوار میں تیزی و کمی آتی رہی ہے تاہم آمر جنرل پرویز مشرف کے سیاہ ترین دور نے وفاق پاکستان کے کم آبادی والی وفاقی اکائیوں میں اس سوال کو از سر نو توانائی بخشی۔ گوادر بندرگاہ منصوبے کی دستاویز کو خفیہ رکھنے اور بعض دیگر غیر آئینی اقدامات نے بلوچستان اور کے پی میں خاص کر جبکہ سندھ میں ذرا کم شدت کے ساتھ عوام کے ایک بڑے حصے میں وفاق سے ناراضی اور مایوسی کو جنم دیا۔ تاحال ان علاقوں میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے۔ یہ بعید از قیاس نہیں کہ ریاست سے نبرد آزما عناصر کو ملک کے ازلی دشمن کی معاونت میسر ہو تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ ان ناراض نوجوانوں کو ریاست سے ناراض کس نے، کن اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے کیا ہے؟ کیا ہمارے با اختیار حلقے کے مروج مائنڈ سیٹ اور پالیسی کو ملکی سلامتی کو لاحق کرنے سے بری الذمہ قرار دینا ممکن ہے؟ ہمارے ملک میں باہم برادر کش مسلح جدوجہد کے نتیجے میں بہنے والے خون کی ذمہ داری سے ان کی روایتی پالیسیوں اور ڈنڈے کے زور پر سب کچھ درست کر لینے کے خود ساختہ زعم کو بری الذمہ سمجھنا قرین حقیقت یا حب الوطنی کے آفاقی اصول سے ہم آہنگ ماننا درست ہوگا؟ اس کا جواب نفی میں ہے اور پی ڈی ایم وہ سیاسی پلیٹ فارم ہے جس نے پورے ملک کے حساس علاقوں میں ریاست سے بیگانگی میں مبتلا وفاقی اکائیوں کی معتبر سیاسی جماعتوں کو تمام تر خدشات کے باوجود وفاق پاکستان کے جھنڈے تلے اکٹھا کر کے وفاق کو مضبوط سہارا نہیں دیا؟
میری رائے ہے کہ پی ڈی ایم موجود ہائی برڈ سیاسی تجربے سے ملک و عوام کو بچانے میں کامیاب ہو یا ناکام، مگر اس نے تاحال جس طرح ملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوں، دائیں بازو کے اکابر، مذہبی سیاسی جماعتوں، قوم پرست قیادت اور رائٹ ونگ کی سوشل و لبرل جمہوری جماعتوں کو دستور پاکستان کے سائے تلے ایک جمہوری وفاقی پارلیمانی ریاست کے ساتھ مربوط کر دیا ہے تاریخ اس عمل کی کامیاب سیاسی جدوجہد کو ہمیشہ شاندار الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھے گی۔
یاد رہے کہ یہ عمل پنجابی سیاسی رہنما اور اس کی جماعت کی جانب سے ریاست کے اوپر ریاست کے ناپسندیدہ کردار کو بے نقاب کرتے اور ہدف تنقید بنا کر حاصل کیا گیا ہے جسے ملک گیر عوامی مقبولیت ملی ہے اور جمہوری سیاسی مزاحمت کہا جا رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مزاحمتی جدوجہد کو توانا بنانے کے لئے ملک کے تمام طبقات ہم آواز ہوں اور پاکستان کو آزاد مستحکم خوشحال جمہوری مملکت بنانے میں اپنا ہاتھ بٹائیں۔
فروری کا پہلا عشرہ ملکی سیاست کے مستقبل کا رخ متعین کرنے جا رہا ہے حکومت سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے درپے ہے۔ اس بحث کے دو پہلو ہیں ایک سیاسی اور دوسرا آئینی۔ 2 فروری کو صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے سوال اٹھایا کہ اگر آئین میں انتخابات / رائے شماری کا طریقہ درج نہیں تو حکومت الیکشن قواعد میں ترمیم کر سکتی ہے۔ جناب چیف جسٹس نے استفہامیہ لہجے میں اپوزیشن کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ اس حوالے سے تعاون کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟ (مفہوم نقل کیا ہے)
اگر آئین میں سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانے کی دفعہ/شق موجود نہیں تو سوال یہ ہے حکومت کس لیے صدارتی ریفرنس لے کر سپریم کورٹ گئی ہے؟ علاوہ ازیں وہ کون سی آئینی دفعات ہیں پر جن میں ترمیم کے لئے مسودہ مرتب کیا گیا ہے؟
آئین کا آرٹیکل 226 واضح طور پر بتاتا ہے کہ "تمام الیکشن آئین کے تحت اور سوائے وزیراعظم وزرائے اعلیٰ کے بذریعہ خفیہ رائے شماری ہوں گے” (یہ دفعہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت تبدیل ہوئی تھی)
اس شق میں سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری سے کرانے کی غیر مبہم پابندی موجود ہے جبکہ شق نمبر 59 کی ذیل دفعہ کے مطابق "سینیٹ میں ہر صوبے کے لئے متعین نشستوں کو پر کرنے کے لئے انتخاب واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت کیا جانا ہے۔ دریں اثنا سینیٹ کے آمدہ انتخابات سے قبل آئین کی شق 59 الف میں بھی ترمیم کی ضرورت ہوگی جس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے لئے آٹھ ارکان سینیٹ مختص ہیں۔ چونکہ اب فاٹا کے پی کے کا حصہ بن چکا ہے تو پھر متذکرہ صدر آٹھ سینیٹرز کا انتخابات کیسے ہو سکتا ہے؟ نیز ایوان کی عمومی 104 نشستوں میں فاٹا کے آٹھ ارکان کی کمی کس طرح پوری ہوگی؟ کیا یہ ترمیم طلب آئینی دفعات نہیں؟
سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر کیا رائے دے گی۔ اس بارے میں پیشگی تبصرہ مناسب نہیں تاہم یہ قانونی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا سپریم کورٹ آئین کی کسی غیر مبہم اور غیر متناقض شق کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ نیز واضح آئینی شق کی موجودگی میں اس کے منافی قانون سازی کے لئے احکامات جاری کر سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اسی کے ساتھ بذریعہ پارلیمان آئینی ترامیم کرانے کی حکومتی جستجو سینیٹ انتخابات کے علاعہ سیاسی صورتحال کی سمت اور شدت بھی متعین کرے گی!
اگر حکومت نے پارلیمنٹ بلڈوز کرتے ہوئے آئینی ترامیم کرائیں تو اس کے نتیجے میں بعید از قیاس نہیں کہ پی ڈی ایم سینیٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے سے چند روز قبل صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر ساری صورتحال کو چوپٹ کر دے۔ 4 فروری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اگر جناب بلاول بھٹو کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تجویز قبول کر لیتا ہے تو سینیٹ انتخابات سے قبل عدم اعتماد کی تحریک کا آنا ممکن ہو گا بصورت دیگر استعفے یا لانگ مارچ کی تاریخوں کا اعلان ہوگا شاید ایسا مارچ کے پہلے ہفتے میں ہو تاہم ترامیم کا انداز اور سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لئے مشکل تر حالات پیدا کر سکتے ہیں ادھر براڈ شیٹ نے 2.2 ملین ڈالر جرمانے کی مد کی بقیہ رقم کے لیے فوری ادائیگی کا نوٹس دیا ہے جو حکومتی مشکلات میں اضافہ لائے گا۔ گزشتہ تین ہفتوں میں وزیراعظم, آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی ٹرائیکا کی چوتھی ملاقات درون خانہ مسائل کی نشاندہی کرتی ہے، اس کے کیا نتائج ہوں گے؟


