کشمیر۔ ایک اور امن معاہدے کی ضرورت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ تیس برس سے ہر سال فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہوتی ہے، جلسے، جلوس اور احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر میں سلامتی کونسل کی کشمیر پر قرارداد کی یاداشت پیش کی جاتی ہے۔ مری۔ مظفر آباد، روڈ پر کوہالہ کے مقام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ کبھی کبھار پاکستان کے وزیراعظم بھی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرنے مظفر آباد چلے جاتے ہیں۔

جہاں آزاد کشمیر کے اکابرین ہندوستان کے مقبوضہ وادیٔ کشمیر کے باسیوں پر ظلم و ستم، کرفیو اور انسانی حقوق کی پامالی پر ہندوستان کی زبانی کلامی درگت بناتے ہیں۔ ہندوستان کو مکے دکھاتے ہیں۔ جب کہ ہر دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پرذاتی طور پر اٹھانے کا وعدہ کر کے واپس اسلام آباد آ جاتے ہیں۔

اگلے دن پوری قوم سب کچھ بھول کر اپنے اپنے غم روزگار میں مشغول ہو جاتی ہے۔ میں اس سارے عمل کو رونا دھونا کہتا ہوں۔ ہم جس کے عادی ہوچکے ہیں۔ جب آپ کے پاس کسی مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل نہ ہو یا آپ وئی حل چاہتے ہی نہ ہوں توپھر رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ اس موضوع پر کشمیر ہی کے ایک فرزند، صوفی شاعر، میاں محمد بخش کا ایک شعر ہے :

” بس میرا کجھ وس نہ چلدا، کیہ تہاڈا کھوہنا
لسے دا کی زور محمد، نس جاہنا یا روہنا ”(سیف الملوک)

عرصہ 70 سال سے کشمیر پر پاکستان اور بھارت کا تنازعہ چلا آتا ہے۔ کشمیر کو بزور جنگ حاصل کرنے کے لئے تین جنگیں بھی ہو چکیں۔ مگر اس معرکہ آرائی کا جانی اور مالی نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ کشمیر کے کسی ایک ملک سے الحاق کے لئے استصواب رائے کروانے کی قراداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتنی دیر سے دفن ہے کہ اب اس کا مسؤدہ راکھ کا ڈھیر بن چکا۔

اس ضمن میں پاکستان کا موقف یہ ہے کہ جموں و کشمیر بشمول لداخ پر ہندوستان کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ اور یہ کہ و ہاں کے باشندوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق ملنا چاہیے۔ دوسری طرف ہندوستان کا یہ موقف ہے : کہ آزادیٔ ہند کے ایکٹ 1947 ء کے مطابق کشمیر کے حکمران کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کر دیا تھا جس کو بعد میں ہندوستان کی پارلیمنٹ نے منظور کر لیا۔ اور پاکستان کا آزاد کشمیر بشمول گلگت بلتستان پر قبضہ ناجائز ہے۔

31 اکتوبر 2019 ء کو ہندوستان نے اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے کشمیر کا متنازعہ اور خود ار ہونے کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اور وادیٔ کشمیر اور لداخ کو ہندوستان کی ہی دو ریاستوں یا صوبوں کا مقام دے دیا۔ جس پر سری نگر، بارہ مولا، اور اننت ناگ اسلام آباد میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ نتیجتاً گزشتہ دو سال سے وادی کشمیر کے اندر کرفیو نافذہے اور انسانی حقوق معطل ہیں۔

سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کیوں خاموش ہے؟ دنیا کے کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے ملک نے بھی پاکستان کے موقف کی حمایت کیوں نہیں کی؟ ہماری خارجہ پالیسی کمزور ہے یا ہمارا موقف ہی کمزور ہے؟ کیا دنیا اندھی ہو گئی ہے؟

ان سوالات کے جوابات شاید تاریخ کے کچھ تلخ حقائق میں پوشیدہ ہوں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ تقسیم ہندوستان ایکٹ کے مطابق مطق العنان ریاستوں، جو تعداد میں چودہ تھیں، کے حکمرانوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ تقسیم کے بعد ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ مل جائیں۔ البتہ ان کے دفاع، خارجہ اور رسل و رسائل کے محکمے کے علاوہ تمام امور مملکت ان حکمرانوں کے پاس ہی رہیں گے۔ اب اس کا فیصلہ ریاست کے حکمران نے کرنا تھا۔ اس فارمولے کے تحت ہی تقسیم کا عمل مکمل ہوا تھا۔ مگر کشمیر کے اس وقت کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے دو ماہ تک چپ سادھ لی۔ اس کا موقف، جو اس نے ایک خط میں، جو اس نے وائسرائے ہند کو 1947 ء میں اپنی ریاست بچانے کے لئے مدد مانگنے کے لئے وائسرائے ہند کو لکھا، میں یوں بیان کیا ہے :

”ریاست کشمیر کی عوام کی اکثریت مسلمان ہے۔ میری ریاست کا جغرافیائی، ثقافتی اور قدرتی الحاق پاکستان سے بنتا ہے۔ میں مسٹر جناح سے کچھ معاملات طے کرنے کے بعد پاکستان میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ مگر میری کوششوں کے باوجود میری ملاقات مسٹر جناح سے نہیں کروائی گئی۔ الٹا ایک ایک ہزار کے دس لشکر، مظفرآباد کی جانب سے سری نگر کی جانب میری ریاست میں داخل ہو گئے ہیں۔ میری حکومت اور ریاست کو بچایا جائے۔

”مرحوم لیفٹینینٹ جرنل حمید گل، سابق اے۔ ڈی۔ سی۔ ٹو گورنر جنرل۔ اپنی خود نوشت میمائرز آف گل حسن {Memoirs of Gul Hassan}میں یوں رقمطراز ہیں :

”اکتوبر 1947 ء میں گورنر جنرل، محمد علی جناح نے پنجاب کے گورنر عبدلرب نشتر کے ذریعے اس وقت کے قائم مقام کمانڈر انچیف جرنل ڈگلس گریسی کو حکم دیا کہ وہ کشمیر کے دارلخلافہ، سری نگر پر حملہ کر کے کشمیر پر قبضہ کر لے۔ جرنل گریسی نے یہ حکم ماننے سے معذرت کر لی۔ کیونکہ ہندوستان کا متحدہ سپریم کمانڈر اس وقت تک جرنل آکن لک تھا۔ جس نے برٹش انڈین افسرز کو سٹینڈ ڈاؤن کے احکامات دے رکھے تھے۔ اس کے ایک فرمان امروز کے مطابق، نو مولود ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فوجی شورش کی صورت میں برطانوی فوجی افسرز حصہ نہیں لیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ آنے والا مورخ یہ لکھے کہ میرے احکامات پر برطانوی فوجی افسرز نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس پر قائد نے اپنے احکامات واپس لے لئے۔“

اسی موضوع پر قدرت اللہ شہاب اپنی آپ بیتی۔ ”شہاب نامہ“ میں ایک بھیانک تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ جس کا خلاصہ یوں ہے :

”اکتوبر تک ریاست کشمیر کا فیصلہ نہ ہو سکا تھا۔ 22 اکتوبر 1947ء کو قبائلی علاقوں سے مسلح مجاہدین پر مشتمل لشکر وادیٔ جہلم سے وادی ٔ کشمیر میں داخل ہو نا شروع ہو گئے۔ ان کا مقصد سری نگر پہنچ کر اس کا نظم و نسق سنبھالنا تھا۔ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ جو اپنے موسم گرما کے دارلخلافہ سری نگر میں رنگ رلیاں منا رہا تھا۔ یہ خبر پا کر اپنی سردیوں کی راجدہانی “جموں” کی طرف بھاگا۔ وہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ ہندوستان کی جانب سے اس کو ایک ایلچی ملا۔ جس نے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی صورت میں اس کو ہندوستان کی جانب سے فوجی مدد کی پیشکش کی۔ 25 یوں اکتوبر کو ہری سنگھ نے الحاق ہندوستان کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

دوسری طرف وہ مجاہدین جو کشمیر پر قبضہ کرنے نکلے تھے۔ بارہ مولا پہنچ کر، کشمیر کا حسن اور زرخیزی دیکھ کر وہیں رک گئے۔ وہ چھ دن اور چھ راتیں بارہ مولا میں کیا کرتے رہے؟ قدرت اللہ شہاب کے بقول وہ اسے سری نگر سمجھ کر اس کے ارد گرد گھومتے رہے تھے۔ بعض مورخین کے بقول جہاد برائے کشمیر جہاد برائے خواتین و دولت میں تبدیل ہو گیا تھا۔

حتی ٰ کہ 27۔ اکتوبر 1947 ء کا منحوس دن آن پہنچا۔ ہندوستان نے ایک ہوائی جہاز کے ذریعے بھارتی افواج کشمیر کے درالخلافہ سری نگر میں اتار دیں۔ پھر کشمیر کی آزادی کی جنگ ( 1947۔ 1948 ) شروع ہو گئی جس میں پاکستانی فوج اور مجاہدین کشمیر نے حصہ لیا۔ ”

آج کا آزاد کشمیر جو پورے کشمیر کا تیسرا حصہ ہے۔ اسی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کا حصہ بنا تھا۔

ان تلخ تاریخی حقیقتوں کے ہماری قومی سوچ کے ساتھ جڑے ہوتے ہوئے۔ اب دنیا کی سنجیدہ اقوام اس معاملے میں پڑنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اقوام جو تنازعات کے تصفیے کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔ اور جانتی ہیں کہ ایٹمی صلاحیت سے لیس یہ جنوب ایشیائی پڑوسی دنیا کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ دونوں کو سنجیدہ ہو کر کشمیر سمیت تمام معاملات بات چیت سے طے کرنے کا تو کہتے ہیں۔ مگر ہند و پاک کی غیر ذمہ دارانہ تاریخ کے تناظر میں کشمیر پر کوئی نوٹس نہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کی وہ طاقتیں جو اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں وہ ہماری بات سے قائل سکھائی نہیں دیتی۔ (اس کی ایک مثال گزشتہ سال ہندوستان کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر کے وہاں کرفیو لگانے کے اقدام پر، پاکستان کی فرمائش پراور چین کی درخواست پر بلایا گیا سلامتی کونسل کا جائزہ اجلاس ہے۔ سلامتی کونسل نے باقاعدہ اجلاس بلانے سے اس لئے انکار کر دیا تھا کہ پاکستانی حکومت کی نمائندہ یہ باور کروانے میں ناکام رہی تھی کہ کشمیر میں پاکستان کا کوئی کیس بھی بنتا ہے۔ ) اس صورت حال میں کیوں نہ ہندوستاں اور پاکستان خود ہی مل بیٹھ کر اس کا کوئی مسقل حل نکال لیں؟

(نمبر ایک ) : ہندو اور مسلم آبادی کے تناسب سے کشمیر کو تقسیم کر دیا جائے یا
(نمبر دو) : لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنا دیا جائے۔
اس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کو ا یک اور پچیس سالہ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا چاہیے۔ اور
دونوں ممالک لائن آف کنٹرول اور سیاچن سے اپنی افواج واپس بلا لیں۔
اوربین الاقوامی غیر جانب دار افواج پانچ سال تک اس معاہدے پر عمل درآمد کروائیں۔

مگر جو بھی حل ہو مستقل بنیادوں پر ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں اطراف کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ، کشمیر کی سر زمین پر اپنی مفادات کی فصلیں اگانا بند کر دیں۔ دونوں طرف ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کی فوجی طاقت کے تناظر میں، ہماری رائے میں، ایٹمی جنگ کی صورت میں ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے اس علاقے کواجتماعی خود کشی سے بچانا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ بھی کوئی اور حل ہے تو بھی کر گزریں مگر کم از کم یہ احتجاج والا رونا دھونا تو بند کریں۔ اب تو عوام بھی اس کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ بقول احمد فراز:

”رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا نہیں ملال ہمیں ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •