ٹی وی ڈرامے اور ان کے اثرات


گزشتہ برس 23 نومبر کو Queen’s Gambit نامی ڈرامہ جونہی نیٹ فلکس پلیٹ فارم پر ریلیز ہوا اس نے ہر سو دھوم مچا دی اور فوراً ہی نیٹ فلکس کے دس سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی پروگراموں کی فہرست میں جگہ بنا لی۔ نقادوں کی جانب سے خوب خوب تعریف سمیٹنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے بھی اسے پسند کیا، یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ جلد ہی نیٹ فلکس کے کامیاب ترین ڈراموں میں شامل ہو جائے گا۔

ڈرامے کی بنیادی کہانی سیدھی سادی سی ہے، یہ ساٹھ کی دہائی کے دوران شطرنج کی نوجوان کھلاڑی، بیت ہرمن، کی شطرنج کی دنیا میں آگے بڑھنے کی کہانی ہے۔

یہ ڈرامہ آپ کو بھی اپنے سحر میں جکڑ پاتا ہے یا نہیں یہ ایک بالکل ہی الگ معاملہ ہے۔ اس حوالے سے مختلف لوگوں کی مختلف دلچسپیوں کے پیش نظر اس چیز کو تو ایک جانب رکھیں تاہم یہ دیکھنا بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ کیسے اس ڈرامے نے دُنیا بھر میں موجود سماجی گروہوں پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کی افادیت کس قدر زیادہ اثرات کی حامل ہے۔

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والا ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ جیسے ہی یہ ڈرامہ ٹی وی سکرینوں کی زینت بنا فوراً ہی انٹر نیٹ کے مختلف پلیٹ فارم شطرنج سے متعلق پوسٹوں سے بھر گئے۔ آن لائن خریداری کی ویب سائٹ ای بے پر شطرنج کے سیٹ بارے خریداری کی معلومات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں دو سو پچاس فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ آن لائن شطرنج کھیلنے والی ویب سائٹ chess.com پر کھلاڑیوں کی تعداد میں تقریباً پانچ گُنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گوگل پر شطرنج اور اس سے متعلقہ معلومات کے حصول کے لیے تلاش کی تعداد نو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس ڈرامے نے بڑے ہی مؤثر انداز میں شطرنج کے بارے میں ایک پوری نسل کے خیالات کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔

اس حوالے سے یہاں ہمارے سیکھنے کے لیے کچھ سبق موجود ہیں۔ ڈیٹا ہمیں بالکل واضح طور پر بتاتا ہے کہ کسی بھی معاملے پر رائے عامہ کی وسیع پیمانے پر تشکیل اور اسے اپنے مقصد کے مطابق توڑنے مروڑنے میں ٹی وی ڈرامے بھی (میڈیا کی دیگرشکلوں کی مانند) اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں جانکاری پھیلانے کے لیے تعلیمی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتاہے اور انہیں ایک ایسے مؤثر اوزار کے طور پر برتا جا سکتا ہے جو کسی بھی اہم سماجی رویے کے حوالے سے معاشرتی مباحثوں کو جنم دے سکے، خاص طور پر وہ معاملات یہاں آسانی سے موضوعِ بحث بنائے جا سکتے ہیں جو عموماً متنازعہ ہوتے ہیں اور ان کے حوالے سے بات چیت یا رائے زنی کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، پاکستان میں، بہت سے ایسے اہم ترین معاملات پر بحث و بات چیت کا فقدان ہے جن سے لاعلمی خرابی کی بنیادی جڑ ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف ملک بلکہ عوام بھی نقصان سے دوچار ہیں۔ حتیٰ کہ 2020میں بھی پاکستان ایسا ملک ہے جہاں تعصب اور عورت دشمنی کا رویہ عام دکھائی دیتا ہے۔ اکثر ایسے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں عورت بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم ہے اور اگر اس رویے کے خلاف کھڑا ہونے یا اس پر آواز بلند کرنے کی کوشش کی جائے تو شدید مخالفانہ سماجی ردِ عمل ایسی آوازوں کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔

ٹی وی ڈرامے (اور سینما بھی بالعموم) اپنے ناظرین پر بہت مؤثر طریقے سے اثر انداز ہو تے ہیں۔ اس حوالے سے کیے جانے والے تجزیات و جائزے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عام لوگوں کے خیالات پر ان فلموں یا ڈراموں کی وجہ سے جو فرق مرتب ہوتا ہے وہ کوئی ایسی شے نہیں جسے ایسے ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ میڈیم کسی بھی خاص موضوع کی طرف لوگوں کی سوچ کو مکمل طور پر تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج کے زمانے میں ایسی صورتحال میں جہاں ٹی وی ڈرامے تعصب اور عورت دشمنی کے رویے کے خلاف ایک تگڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں وہاں پاکستانی ٹی وی پر دکھایا جانے والا مواد اس حوالے سے اپنے ناظرین کو بالکل کوئی مثبت چیز نہیں دِکھاتا۔

یہ ڈرامے بری ہدایت کاری اور بے معنی کہانیوں کا مرکب ہیں جن کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اُن چھوٹے چھوٹے خاندانی معاملات کو اُجاگر کرنے کے لیے، مبالغہ آمیزی سے بھرپور، ایسا مواد نشر کرتے ہیں جس کا مقصد اکثر اوقات پیسے کے حصول کی جدوجہد پر مبنی ہوتا ہے۔ تھوڑی بہت اہمیت کے حامل کسی سماجی مسئلے کے بارے میں بھی ان چینلوں سے کبھی کو ئی تربیتی مواد نشر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے برعکس اِن ڈراموں میں تو عورت پر تشدد اور طلاق جیسے معاملات کوعام معمول کی چیزیں بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کیسی بد نصیبی کی بات ہے کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی اکثریت دُنیا کو درپیش بہت سیسنجیدہ نوعیت کے مسائل کے حوالے سے بالکل لا علم ہے، صرف اس لیے کہ آج تک کسی نے مؤثر انداز میں اُن کی توجہ اِن مسائل کی جانب دلائی ہی نہیں۔

مثال کے طور پر آپ پاکستان کے کسی بھی کسان سے گلوبل وارمنگ جیسی کسی شے کے بارے میں اُس کی رائے دریافت کریں تو اس کے فرشتوں کو بھی ایسی کسی شے کاکوئی علم نہ ہو گا اور ممکن ہے اُس نے کبھی اس کا نام تک نہ سنا ہو۔ گلوبل وارمنگ کے بارے میں کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ یہ تو ایک بالکل ہی الگ بحث ہے لیکن اگر یہ معاملہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ اقوام متحدہ میں اس پر بات ہو سکتی ہے تو یقینا ہماری عوام بھی اس کے متعلق جاننے کی حقدار تو ہے۔

مجھے اِس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ جن ناظرین کو ذہن میں رکھ کر یہ طویل ڈرامہ سیریز بنائی جاتی ہیں یقینا میں اُن میں فِٹ نہیں بیٹھتا تاہم یہ بات بہت ہی دِل شکنی کا باعث بنتی ہے کہ ایک ایسا میڈیم جو بڑے مؤثر طریقے سے پاکستان سے جہالت کا مکمل خاتمہ کر سکے وہ اس طریقے سے ضائع کیا جا رہا ہے۔

ہمارے وزیر اعظم پاکستانیوں کو ترک ٹیلی وژن کے بنائے ہوئے ڈرامے دیکھنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں لیکن اب شاید وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس اہم میڈیم کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے ٹیلی وژن کے لیے ایسا مواد پیدا کریں جو ہمارے اپنے سماجی مسائل سے نپٹنے میں ہمارا معاون ثابت ہو۔

ہم دوسری قوموں کے ہیروؤں کی تلاش میں مصروف رہ کر اپنے سماجی مسائل سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ جیسے بیت ہرمن نے ساری دُنیا میں ہزار ہا لوگوں کو شطرنج میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ویسے ہی ہمیں بھی اپنے ایسے ہی ہیروز ڈھونڈنے ہیں جو ہمیں متاثر کرسکیں۔

Facebook Comments HS