کیا مفکروں کے خواب سراب ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح پچھلے چند کچھ روز میں شاعر و مفکر اقبال کی شخصیت کو متنازع بنایا گیا ہے اور طرح طرح کی لفاظی کی گئی ہے ”جیسا خواب ویسا مجسمہ“ یہ دراصل ہم سب کا اقبال سے نا آشنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اقبال کی زیادہ تر شاعری سے مصنف خود اختلاف رکھتا ہے لیکن ایک قد آور شاعر و مفکر کے بارے میں ایسے خیالات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کارل مارکس کے نظریات سے یورپ کا ایک بڑا طبقہ اختلاف رکھتا ہے، لیکن اسے پھر بھی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ اقبال نے کارل مارکس کو ”مسیح بے صلیب لکھا ہے“ اختلاف کے باوجود مسیح بے صلیب کہنا دراصل اس کی سوچ و فہم کو داد دینا ہے۔

اگر بات اقبال کے خواب کی کی جائے تو وہ 1947 میں تعبیر پا گئی تھی لیکن اب تعبیر گو اس بحث میں بھی پڑے رہتے ہیں کہ خواب دراصل دو تھے ایک چین و ہندوستان ہمارا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مملکت کا۔ تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں اور دوسرے کچھ تاریخ آشنا سمجھتے ہیں کہ اقبال کا ہندوستان سے پاکستان تک کا سفر دراصل ہندو رہنماؤں کی تنگ نظری کی بدولت طے پایا تھا۔

اقبال کا ایک خواب دنیا پر مسلمانوں کا راج بھی تھا۔ اقبال کی ایک کتاب کا نام Reconstruction of religious thought ہے، اس میں اقبال نے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے کہ اجتہاد کے ذریعے ایک نیا سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو موجودہ دور کے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو ۔ اقبال آج کے ملاؤں جیسا نہیں تھا جو معاشرے کو جمود کی صورت دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج دنیا ایک ہی نظریے کے عتاب میں ہے اور وہ نظریہ دوسری ریاستوں کے معاشی اور سیاسی قتل کا نظریہ ہے۔ آج کے بین الاقوامی سیاسی تناظر میں اقبال کا خواب موجودہ دور کے سیاسی مفکروں کے خواب سے مماثلت رکھتا ہے۔

اقبال کا نظریہ مسلمانوں کو دنیا پر راج کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور یہ صرف اقبال نہیں جو ایسا چاہتا ہے، ہیگل کے مطابق صدیوں سے جاری جنگوں کی بنیادی وجہ نظریہ ہی رہا ہے۔ جب روس کے ٹکڑے ہوئے تو سرمایہ داری نظام کی جیت کا اعلان کر دیا گیا۔ ایک انگریز لکھاری ”Francis Fukuyama“ نے ایک کتاب The end of history لکھی جس کا لب لباب یہ ہے کہ اب پوری دنیا پر حکومت سرمایہ داری نظام کی ہو گی کیونکہ مسلم اور کمیونزم میں اتنی سکت باقی نہیں کہ وہ سرمایہ داری نظام کا مقابلہ کر سکیں۔

2018 میں اسی لکھاری کو دوبارہ منظر عام پر آ کر ایک اور کتاب Identity لکھنا پڑی جس میں وہ اقرار کرتا ہے کہ ایک نظریہ پوری دنیا کا ترجمان نہیں ہو سکتا، ہر قوم کی اپنی شناخت ہے، یہی اقبال کا بنیادی فلسفہ ہے کہ ہماری شناخت الگ ہے۔ آج پاکستان کو درپیش مسائل میں سب بڑا سے مسئلہ اپنی شناخت کا کھو دینا ہے۔

میرا ماننا ہے مفکروں، شاعروں اور فلاسفروں کے خواب سراب ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا خواب افلاطون نے دیکھا تھا جو ابھی تک خیالی ہے۔ اشتراکیت کا خواب کارل مارکس نے دیکھا تھا جو شکست سے دو چار ہے۔ اقبال کا مسلم امہ کے راج کرنے کا خواب بھی سراب معلوم ہوتا ہے۔ یاد رکھو! مفکروں کے خواب کی منزل نہیں ہوتی۔ ایک مفکر کا خواب پورا ہو جانے کے ساتھ ہی کچھ ردو بدل کے ساتھ دوسرے مفکر کا آغاز سفر ہوتا ہے۔

اختلاف اپنی جگہ اقبال ایک فلاسفر اور مفکر ہے ، اسے ہم سب کی طرف سے عزت و تکریم ملنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کامران مقبول کی دیگر تحریریں