افغان امن عمل کا مستقبل: خدشات اور امکانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

20 جنوری کو امریکی صدر کا حلف اٹھانے کے چند روز بعد صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سولیوان نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کرنے اور ان کو اعتماد میں لینے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان طالبان کے ساتھ گزشتہ برس فروری میں سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پرنظرثانی کرے گی۔ نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر نظرثانی کے اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

اس بیان کے بعد اب ہرکوئی یہی سوال کرتا ہوا نظرآ رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے جاری ان کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا نئی انتظامیہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو برقرار رکھ سکے گی یا نہیں؟ اگر نئی انتظامیہ امن معاہدے میں کوئی کمی یا بیشی کرنا چاہتی ہے تو کیا طالبان ان کے ساتھ راضی ہوں گے یا نہیں؟

افغان امن معاہدے پر نظرثانی کے اس بیان نے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ طالبان کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے، وہ امریکا کی ریاستی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضد اور انا تھی کہ وہ ہر قیمت پر افغان جنگ کو ختم کر کے وہاں سے اپنی مسلح افواج کو واپس بلانا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ اس امن معاہدے میں افغانستان سے افواج کے انخلا پر وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون کے درمیان واضح اختلافات موجود تھے۔ اسی طرح طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں افغانستان حکومت کو شامل نہ کرنے پر بھی پینٹاگون کو تحفظات تھے لیکن صدر ٹرمپ نے ان تمام اختلافات اور تحفظات کو پس پشت ڈال کر طالبان کے ساتھ ان ہی کی شرائط پر مذاکرات شروع کر دیے اور پھر ان کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا۔

نظرثانی کے اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی بھی اس معاہدے سے خوش نہیں۔ جب امریکا نے ان کو طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں شامل نہیں کیا تو انہوں نے کئی دفعہ ان مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امن معاہدے کے مطابق رواں برس مئی کے مہینے تک امریکا نے افغانستان سے افواج کو نکالنا ہے جس پر ڈاکٹر اشرف غنی رضا مند نہیں تھے اور اب بھی اس کے خلاف ہیں۔ افغانستان سے افواج کے انخلا پر نیٹو کے بھی سابق صدر ٹرمپ سے اختلافات تھے۔

بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں امریکا کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی متعلقہ فریقین افغانستان اور نیٹو کو اعتماد میں لیا گیا ہے ، اس لئے وہ امن معاہدے پر نظر ثانی کرنے جا رہے ہیں لیکن اب سوال یہ ہے کہ نظرثانی کی ممکنہ صورتیں کیا ہو سکتی ہے؟ اگر امریکا اور طالبان کے درمیان کیا گیا امن معاہدہ مکمل طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضد، انا اور خواہش ثابت ہو گئی تو پھر امکان یہی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاہدے کو ختم کر دے گی، جس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ بنیادی معاہدے کو برقرار رکھنے پر راضی ہو جائے لیکن طالبان سے کچھ رعایتیں حاصل کرنے کے لئے ان سے بات چیت کرے۔

وہ ممکنہ صورتیں کیا ہو سکتی ہے؟ ممکن ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ طالبان کو افواج کے انخلا کے نظام الاوقات میں تاخیر پر راضی کر لے یعنی مئی 2021ء کی بجائے افواج کے انخلا کے مرحلہ وار کئی برسوں پر محیط نظام الاوقات پر اتفاق رائے ہو جائے۔ ممکن ہے یہ دورانیہ دو سال سے زیادہ نہ ہو۔ نئی امریکی انتظامیہ اور کابل کی خواہش ہے کہ طالبان کو افغانستان میں تشدد میں کمی یا جنگ بندی پر آمادہ کر لیں۔ جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے تو اس پر طالبان کبھی بھی راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ ان کو معاہدے کے تحت اپنا حصہ عملی طور پر مل نہیں جاتا۔

رہی تشدد میں کمی کی بات تو ممکن ہے کہ طالبان سیاسی طور پر امریکا کے ساتھ اس معاہدے کی حد تک راضی ہو جائیں لیکن عملی طور پر ایسا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا، اس لئے کہ محاذ پر موجود جنگجو ان کے اختیار میں نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تشدد میں کمی کے معاہدے پر امریکا اور طالبان راضی ہو جائیں گے لیکن عملی طور پر کمی نہ ہونے کی صورت میں کابل انتظامیہ اور بائیڈن انتطامیہ کی طرف سے کبھی بھرپور طریقے سے اور کبھی دبے الفاظ میں ان پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہیں گے۔

نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے اگرچہ ابھی تک کوئی واضح نقطۂ نظر سامنے نہیں آیا ہے لیکن امریکی وزیر دفاع الائیڈ آسٹن نے نیٹو کے سربراہ جینس سٹولٹن برگ کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ متعلقہ فریقین، افغانستان اور نیٹو کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر نظرثانی کر رہی ہے تاکہ اتفاق رائے سے کوئی نیا معاہدہ ہو یا جو کمی گزشتہ معاہدے میں رہ گئی ہے اس کو ختم کیا جا سکے۔

اب رہا یہ سوال کہ کیا یہ سب کچھ جلدی سے ہو جائے گا؟ تو ایسا ممکن نہیں، اس لیے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے پاس وقت ہے جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی بھی خواہش ہے کہ وہ اپنی دوسری مدت صدارت پوری کریں۔ نیٹو کو بھی زیادہ جلدی نہیں۔ ان کی بھی کوشش ہے کہ وہ مزید چند برس تک افغانستان میں رہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے بھی خطے کی صورت حال کو دیکھنا ہے۔ چین کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ، روس کی ابھرتی ہوئی طاقت، ترکی اور ملائیشیا کی اسلامی دنیا میں نئے بلاک بنانے کی کوششیں، مشرقی وسطی کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال اور ایران کے ساتھ معاملات کوہ ہمالیہ جیسے مسائل ہیں۔

نئی امریکی انتظامیہ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھ کر طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر نظرثانی کرے گی جس کے لئے ان کو جلد بازی کی نہیں بلکہ تحمل، جوش کی نہیں بلکہ ہوش کی ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ وہ اس لئے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ کرے گی کہ ابھی اس کے پاس بہت وقت ہے جبکہ ٹرمپ کے ساتھ مہلت ہی نہیں تھی، اس لئے انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ سب کچھ جلد بازی میں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •