مطالعے کے شوقین لوگ اور ہمارا مزاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان نے تفریح کی خاطر مختلف ادوار میں مختلف شوق اختیار کیے ۔ کبھی انسان غم غلط کرنے کے لیے تلوار بازی میں اپنے کرتب دکھایا کرتا تھا تو کبھی شکار کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنے میں لطف کشید کرتا تھا۔ گھڑ دوڑ یا گھڑ سواری اور دیگر کھیل بھی شوق کی تسکین کے لیے کھیلے جاتے تھے۔ جب سے انسان کے ماتھے سے جنگلی اور وحشی کی پٹی ہٹا کر اس کی پیشانی پر مہذب ہونے کا لیبل لگایا گیا تب سے اس کے شوق، کھیل اور تفریح کا سامان بھی بدل گیا۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے ایسے نئے مشغلے ایجاد کیے جو اس کی تفریح کا سبب بنے۔ جہاں بہت سارے شوق اور مشغلے رائج تھے وہیں کتاب بینی اور مطالعے کا شوق بھی ایک خاص طبقے اور مخصوص فکر کے لوگوں میں عام تھا۔ جن لوگوں کو سیکھنے، جاننے، نئی دنیاؤں کی جستجو کرنے کی تڑپ رہی ، انہوں نے ہی مطالعہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ اس راہ پر چل کر انہیں منزل کے ساتھ ساتھ نام اور شہرت ملی اور ان کے نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوئے۔

مطالعہ نہ صرف شوق کی تسکین کے لیے کیا جاتا تھا بلکہ معلومات اور نئی دنیا کی جستجو، کھوج اور تلاش کے لئے بھی کیا جاتا تھا۔ چونکہ ہمارے اسلاف اس راز سے واقف تھے کہ کتاب سے بڑا کوئی دوست، ہمدم اور ساتھی نہیں۔ اس لیے وہ کتابوں کو الماریوں کی زینت نہیں بناتے تھے بلکہ ان کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے تھے۔ مطالعہ کو وہ روح کی غذا سمجھتے تھے۔ جس طرح جسم کو تندرست و صحت مند رکھنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے ، اسی طرح روح کو تر و تازہ اور بیدار رکھنے کے لیے کتاب کا مطالعہ اہم ہے۔

مطالعہ کیا ہے؟ مطالعہ کسی چیز سے واقفیت حاصل کرنے کا نام ہے۔ مشاہدے دھیان، توجہ اور غور سے تحریر کی غرض و مراد کو پانا مطالعہ ہے۔ علامہ غلام نصیر الدین لفظ مطالعہ کی شرح کرتے ہیں کہ مطالعہ کا مادہ ”طلوع“ سے ہے اور طلوع پردہ غیب سے عالم ظہور میں آنے کو کہتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ مطالعہ باب ”مفاعلہ“ سے ہے اور مفاعلہ میں جانبین سے برابر کے علم کو کہتے ہیں۔ ادھر طالب علم نے اپنی پوری توجہ کتاب کی طرف مبذول کی ادھر کتاب نے اسے اپنے فیوض و برکات سے نوازا۔

موجودہ دور میں علمی انحطاط و قحط الرجال کا بڑا سبب مطالعے سے عدم مناسبت اور کم دلچسپی ہے۔ ہر کام کو انجام دینے کے کچھ اصول و قواعد ہوتے ہیں۔ مطالعہ کرنے کے بھی اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ مطالعہ اگر بے ترتیب اور بنا مربی و رہبر کے کیا جائے تو فائدہ نہیں دیتا۔ رہنما کے بغیر مطالعہ مضر اور خطرناک ہے۔ علمی تشنگی، طلب اور تڑپ کو صحیح سمت دینے کے لیے رہنما ضروری ہے تاکہ وقت اور صحت کو بچایا جا سکے اور وسائل کا زیاں اور جسمانی طاقت کا نقصان نہ ہو۔

مطالعہ کی راہ میں رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔ سستی، کاہلی، بے توجہی اور غیر سنجیدہ طعبیت والے کو اگر مطالعے کی اہمیت کا علم ہو جائے تو وہ کاہلی اور سستی کو چھوڑ کر مطالعے میں ہمہ وقت غرق رہے۔ عدم فرصتی اور وقت کی تنگی بھی مطالعہ میں حائل ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو بندہ روزی روٹی کمانے میں لگ جائے اسے مطالعہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ”وہ شخص کامیاب نہیں ہے جو علم کو کاہلی اور لا پروائی سے حاصل کرے بلکہ جو شخص نفس کی ذلت اور معاش کی تنگی کے ساتھ حاصل کرے گا وہ کامیاب ہو گا“ ۔

تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی مورخ نے کاہل، راحت طلب، سہولت پسند کو تاریخ میں جگہ نہ دی بلکہ وہ ان کا نام تاریخ میں درج کرتا ہے جو طرح طرح کی قربانیاں دیتے ہیں، محنت و مشقت اور دنیا کے سرد و گرم کو سہہ لیتے ہیں۔ آپ بیتیاں اگر غائر نظری سے پڑھی جائیں یا اسلاف کے واقعات پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ بنا کوشش، قربانی، محنت سے نام اور بلند مرتبہ نہیں ملتا۔

ہمارے اسلاف آج بھی اس لیے زندہ ہیں کہ انہوں نے اذیتیں سہیں اور تکلیفیں اٹھائیں۔وہ ہر وقت مطالعے میں غرق رہتے تھے۔ جہاں انہیں موقع ملتا کچھ نہ کچھ پڑھ لیتے تھے۔ حضرت امام حسن بصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ”مجھ پر چالیس سال اس حال میں گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی تھی۔“ حضرت عبداللہ علیہ الرحمہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے سب سے ملنا جلنا موقوف کر دیا تھا اور قبرستان میں رہنے لگے تھے۔ ہمیشہ ہاتھ میں کتاب رہتی تھی۔ فرماتے تھے کہ ”میں نے قبر سے زیادہ واعظ، کتاب سے زیادہ دلچسپ رفیق اور تنہائی سے زیادہ بے ضرر ساتھی کوئی نہیں دیکھا“ ۔

حضرت خطیب بغدادی علیہ الرحمہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چلتے چلتے بھی مطالعہ کیا کرتے تھے تاکہ آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو۔ ابو الوفا بن عقیل علیہ الرحمہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کھانے کے وقت کو مختصر کرنے کی کوشش کرتے۔ اکثر روٹی کے بجائے چورہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتے تاکہ مطالعہ کے لیے زیادہ وقت بچ جائے۔ امام ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میری طعبیت کتابوں کے مطالعے سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی تھی۔

جب کسی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تو ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ حکیم ابو نصر الفارابی فرماتے ہیں کہ ”تیل کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں سے کھڑے کھڑے کتاب کا مطالعہ کرتا تھا“ ۔ امام زہری ؒ کے مطالعے کا یہ عالم تھا کہ ادھر ادھر کتابیں ہوتیں اور ان کے مطالعہ میں ایسے مصروف ہوتے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی، بیوی ان کی اس عادت سے سخت پیچ و تاب کھاتی، ایک دفعہ بیوی نے بگڑ کر کہا، ”اللہ کی قسم یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔

علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ ہم دونوں ( شبلی اور آرنلڈ ) جہاز میں سفر کر رہے تھے۔ صبح اٹھا تو پتا چلا کہ جہاز کا انجن ٹوٹ گیا ہے۔ چنانچہ انجن بالکل بیکار ہو گیا تھا اس لیے سب گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نہایت اضطراب کی حالت میں آرنلڈ کے پاس گیا وہ نہایت اطمینان کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا آپ کو کچھ پتا بھی ہے۔ فرمایا اگر جہاز کو برباد ہونا ہی ہے تو یہ تھورا سا وقت اور بھی قدر کے قابل ہے اور ایسے قابل قدر وقت کو رائیگاں جانے دینا بے عقلی ہے۔

یہ اسلاف کے واقعات پڑھ کر بھلے ہم حیرت زدہ اور مبہوت ہو جائیں اور ہمیں لگے کہ یہ مبالغہ آرائیاں ہیں۔ یہ سچے اور حقیقت بر مبنی واقعات ہیں۔ بزرگان قوم میں مطالعہ کا شوق اور جنوں ہی نہیں تھا بلکہ بعض لوگ تو ایسے بھی گزرے ہیں جو کثرت مطالعہ سے رحلت فرما گئے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ کتابوں تلے دب کر ان کی وفات ہوئی۔ علامہ جاحظ کو کتاب میسر آتی تو اس کا مطالعہ کرتے۔ کتاب کو کرائے پر لے کر رات بھر مطالعہ میں مصروف رہتے۔ زندگی کے آخری ایام میں فالج کا حملہ ہوا، جسم ناکارہ ہوا لیکن پھر بھی مطالعہ کرتے۔ ایک دن مطالعہ کتب میں مشغول تھے کہ اچانک کتب کا عظیم ذخیرہ ہر طرف سے اوپر آ پڑا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ انتقال کر گئے۔

موجودہ دور میں وہ غور و فکر کرنے والے، مدبر، عالم نہیں رہے جن کی بات قابل قدر اور آب زر سے لکھنے کے قابل ہوا کرتی تھی کیونکہ مطالعہ معدوم ہو گیا ہے۔ اب ہم کتاب پڑھنے سے کتراتے ہیں۔ فضولیات کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے، لغو باتوں کو ہم مزے لے لے کر سنتے ہیں لیکن جس سے ہماری زندگی سنورتی، اخلاق درست ہوتے ان کتب کو پڑھنے کی ہمیں فرصت نہیں۔ ہمارے اسلاف مطالعے کی بدولت مختلف علوم و فنون سے واقفیت رکھتے تھے۔ مطالعہ کی برکت سے ہی وہ کامیاب و کامران ہوئے اور آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں۔ مولانا حبیب خان شیروانی صاحب لکھتے ہیں۔ ”امام زہری ہوں یا امام مزنی، حکیم فارابی ہوں یا شیخ الرئیس ان کے علمی کمالات کی بنیاد مطالعہ کی ہی کثرت تھی کہ ایک ایک کتاب کو سو سو بار پرھتے اور پچاس پچاس برس دیکھتے تھے“ ۔

مطالعہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اچھی سوچ اور مثبت خیال سے کتاب کو پڑھا جائے تاکہ اپنے آپ کو نئی معلومات، نئی باتوں اور نئے خیالات سے مزین کر سکے۔ مطالعہ سے نہ صرف معلومات میں وسعت آتی ہے بلکہ یہ حافظے کو بھی تیز کرتا ہے۔ یادداشت کو تیز کرنا ہو تو مطالعے سے بڑی دوا کوئی نہیں۔ حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ سے عرض کی گئی کہ حافظے کی دوا کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کتب بینی۔ گویا کتب بینی سے حافظہ درست ہوتا ہے۔

آج کے تیز رفتار دور میں جہاں سائنسی ایجادات سے انقلاب برپا ہوا وہیں کتب و رسائل، اخبار و جرائد کی بھی بہتات ہیں۔ آئے روز مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں چھپ کر سامنے آتی ہیں۔ ان ہزاروں کتب میں کون سی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو مفید ہو، معلوماتی ہو، جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہو، عادات و اطوار کو درست کرتی ہو اور فردیت کو جلا بخشتی ہو، اس کا انتخاب بڑا مشکل کام ہے کیونکہ بعض کتابوں سے شخصیت پر برا اثر پڑتا ہے۔

بداخلاقی، بدتہذیبی اور بے حیائی پھیلاتی ہے۔ اچھی کتاب نہ صرف انسان کی بہترین دوست ہے بلکہ اس کے علم و ہنر میں اضافہ اور ذہنی استعداد کو نکھارتی ہے۔ کتاب انسان کو خود آگاہی کا درس دینے کے ساتھ ساتھ گرد و پیش کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتی ہے۔ مطالعہ کرنے کے لیے کون سی کتب کا چناؤ کرنا چاہیے ، اس بارے میں مبتدی کو صلاح و مشورہ کرنا چاہیے۔ میکالے کا قول ہے کہ ”وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں“ ۔

مشہور انگریز شاعر شیلے کہتا ہے، ”مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لیے اور اس کی ترقی کی لیے بہت ضروری ہے“ ۔ ابراہام لنکن کا خیال ہے کہ ”کتابوں کا مطالعہ دماغ کو روشن کرتا ہے“۔ والٹیئر کا قول ہے، ”وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں“ ۔ رینے ڈیس کارٹیس کہتا ہے کہ ”تمام اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ماضی کے بہترین اشخاص کے ساتھ گفتگو کی جائے۔

مطالعہ کرنے سے کثیر فوائد اور عظیم منافع ہوتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ مطالعہ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ مطالعہ نہ صرف معلومات کے لیے ضروری ہے بلکہ سوچ و فکر کو بیدار کرنے اور کامیابی کے لیے بھی اشد ضروری ہے۔ اگر انسان مطالعے کی برکت اور رحمت سے فیض یاب نہ ہوتا تو اتنی علمی ترقی کے سمندر میں نہ ہوتا بلکہ ساحل پر تماشا دیکھ رہا ہوتا۔ انسان کی کامیابی اور کامرانی کا راز مطالعے میں ہی مضمر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •