بائیڈن کے فیصلے امریکی تاریخ بدل سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی خارجہ پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیوں کا عندیہ دے دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عالمی صورتحال اور سیاسی حالات کی نبض ان کی گرفت میں آ چکی ہے۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو بھی سابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے منفرد اور ممتاز رکھا ہے۔ ان کی انتظامیہ کے جو فیصلے ابھی تک منظر عام پر آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتاہے کہ بائیڈن کا سیاسی نظریہ دیگر امریکی سیاست مداروں سے جدا ہے۔ وہ ٹرمپ کے احمقانہ سیاسی فیصلوں کو مسترد کرنے کے حق میں ہیں اور بعض فیصلوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

بائیڈن نے مشرق وسطیٰ میں جاری کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کو بھی ختم کرنے کے منصوبے پر غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ یمن، شام، عراق اور افغانستان سمیت دیگر ممالک میں امریکی پالیسیوں نے جس طرح جنگ کے شعلے بھڑکائے ہیں، اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ یہ الگ بات کہ دنیا امریکی دادا گیری کے خوف سے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کتراتی رہی کہ عالمی سطح پر امن کی بربادی کا ذمہ دار امریکہ ہے مگر گاہے بہ گاہے یہ کڑوی سچائی کسی نہ کسی پلیٹ فارم سے سامنے آتی رہی۔

عراق میں جس طرح جارج بش اور اس کے ہم نواؤں نے خون کی ہولی کھیلی ، اس کی سچائی عیاں ہو چکی ہے۔ یہی حال افغانستان، یمن اور شام میں جاری خونریز جنگوں کی اصلیت کا ہے۔ امریکہ نے بلا جواز اپنی چودھراہٹ برقرار رکھنے کے لیے انسانیت پر جنگوں کو تھوپا اورمکروہ سازشیں کیں۔ آج نو منتخب صدر بائیڈن امریکی غلط پالیسیوں اور مکروہ سازشوں کے خلاف پرعزم نظر آرہے ہیں۔ ان کے ابتدائی اقدامات اور فیصلوں کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں جنگوں سے زیادہ امن کی فکر ہے۔ وہ امریکی سیاست میں خوش آئند تبدیلیاں چاہتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے جو امریکہ کا مکروہ چہرہ پیش کیا گیا ہے اس کو بہتر کیا جا سکے۔

بائیڈن انتظامیہ نے غیر ملکی مزاحمتی تنظیموں کے خلاف امریکی رویے کو بھی غلط قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے یمن میں حوثیوں کی مزاحمتی تنظیم ’انصار اللہ‘ کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرنے پر غور و خوض کا فیصلہ کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ بخوبی جانتی ہے کہ انصار اللہ ایک مزاحمتی تنظیم ہے جس نے یمن میں جاری سعودی جارحیت کے خلاف مزاحمت و مقاومت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے عرب و غیر عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر عرب دنیا کے انتہائی غریب ملک یمن کو چھ سال سے اپنی بہیمانہ جارحیت اور دہشت گردی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

مختلف انسانی حقوق کی محافظ تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔ یمن غذائی قلت اور وبائی امراض کا شکار ہے۔ یمن کی موجودہ صورتحال کی ساری ذمہ داری سعودی عرب اور اس کے عرب و غیر عرب حلیف ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ کی سیکورٹی کونسل کے ایک سینئر رکن جیک سولیوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن یمن کے خلاف جاری جارحیت کی حمایت سے دست بردار ہونے میں یقین رکھتے ہیں۔

جیک سولیوان کے بیان سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ امریکہ یمن کی تباہی میں سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک کی بھرپور حمایت کرتا رہا ہے۔ بائیڈن کا دعویٰ ہے کہ وہ یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کو ہتھیار نہ دینے کا بھی اعلان کر کے دنیا کو چونکا دیا۔ ان کے اس اعلان سے یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی کہ یمن میں جاری جنگ کے پس پردہ استعماری طاقتوں کی سرمایہ کاری تھی۔

سعودی عرب استعماری طاقتوں کا زرخرید اور آلۂ کار ہے جس نے عالم اسلام کی ذلت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ سعودی عرب نے یمن کے اقتدار پر اپنے حامی اور زرخرید افراد کو مسلط کرنے کے لئے یمن کے امن کو آگ لگا دی گئی۔ کیا عالم اسلام سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک کا احتساب کرے گا؟ کیا یمن کی بے گناہ عوام کو عالم اسلام سے انصاف کی امید رکھنی چاہیے؟ اگر ہاں! توپھر سعودی عرب کا عالمی سطح پر احتساب ضروری ہے۔

بائیڈن نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا بھی اشارہ دیا ہے مگر وہ پابندیاں ختم کر کے مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران بلا شرط مذاکرہ کی میز پر آئے۔ بائیڈن کے مطابق ایران کے ساتھ صرف مذاکرات کے لئے پابندیوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر ایران کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ ماضی میں ہونے والی ڈیل پر از سرنو بات چیت کی جا سکے۔ جب کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کا واحد راستہ غیر قانونی پابندیوں کا عملی خاتمہ ہے۔

بائیڈن جانتے ہیں کہ ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی بلکہ ٹرمپ نے اس معاہدے سے فرار اختیار کیا تھا، لہٰذا ایران کی طرف سے مذاکرات کے لئے پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بلا جواز نہیں ہے۔ بائیڈن اگر خطے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے صورتحال کو تبدیل کرنا ہو گا۔ لہٰذا موجودہ حالات میں بہتر یہی ہے کہ جوہری معاہدے کو بحال کیا جائے اور مذاکرات سے پہلے اقتصادی پابندیوں کو ختم کر کے ایرانی عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ امریکہ ان کے حقوق اور آزادی کی پاسداری کے لئے پرعزم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے ماضی میں مذاکرات ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ طے شدہ نکات پر جوہری معاہدے میں واپسی کے ساتھ پابندیوں کا خاتمہ کرے۔ ان کا یہ مطالبہ قانونی اور اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے۔

اگر بائیڈن خطے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں مشرق وسطیٰ کے اہم اور بڑے مسائل کو سلجھانا ہو گا۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ فلسطین کا ہے۔ فلسطین ٹرمپ کی صہیونیت نوازی کی سزا بھگت رہا ہے۔ صدی ڈیل کا نفاذ فلسطینیوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیا بائیڈن صدی ڈیل کے نفاذ پر قدغن لگا کر دنیا کو امن کا پیغام دے سکتے ہیں؟ دنیا بخوبی واقف ہے کہ صدی ڈیل یک طرفہ ہے جس کی بنیاد امریکہ کی اسرائیل نوازی ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کے ذریعے اپنے صہیونی داماد جارڈ کشنز کو فلسطین کی زمین جہیز کے طور پر دے دی تھی۔ اس معاہدے کی منسوخی آسان نہیں ہے لیکن امریکہ کے لئے مشکل بھی نہیں۔ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کروانے کے لئے جو تحریک ٹرمپ نے شروع کی تھی، صدی ڈیل اس تحریک کا اہم پڑاؤ ہے۔

بائیڈن اپنے دانش مندانہ فیصلوں کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل قریب میں وہ دنیا کو کس قدر محفوظ اور پر امن مقام پر لا کر کھڑا کرتے ہیں۔ انہوں نے زمام اقتدار سنبھالتے ہی اپنی دور اندیش سیاست کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن کیا وہ امریکہ کی روایتی سیاست سے الگ ہو کر کچھ نیا کر سکتے ہیں؟ اگر انہوں نے امریکہ کی روایتی سیاست میں رد و بدل کر دیا تو ان کے فیصلے امریکی سیاست میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •