پہاڑوں کا بیٹا علی سدپارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کے شہر سکردو کے نواحی گاؤں سدپارہ کو اگر ہیروز کی جنم بھومی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ سدپارہ وہ زرخیز گاؤں ہے جہاں سے ہر بار پاکستانی قوم کو ایک ایسا ہیرو ملا جس نے نہ صرف ملک کا نام روشن کیا بلکہ جب بھی موقع ملا یہاں سے تعلق رکھنے والے ہیروز نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ سدپارہ کے رہنے والے بنیادی طور پر پورٹر کا کام کرتے ہیں۔ پورٹر کوہ پیماؤں کا سامان لے کر ان کے ساتھ جاتے ہیں، پہاڑ پر راستے بھی تلاش کرتے ہیں اور ٹریک پر رسیاں بھی لگاتے ہیں۔ شکم کی آگ کو بجھانے کے لیے وزن کندھوں پہ اٹھا کر خطرناک پہاڑوں میں سفر کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اور یہ کام سدپارہ کے باسی ہنستے کھیلتے سرانجام دیتے ہیں۔

سدپارہ کا نام دنیا کے سامنے اس وقت آیا جب اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے حسن سدپارہ نے بطور کوہ پیما کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ حسن سدپارہ نے کوہ پیمائی کا آغاز 1994 میں کیا اور پانچ سال بعد 1999 میں قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کر کے پیشہ ور کوہ پیما بن گئے۔ حسن سدپارہ نے 2004 میں کے ٹو، 2006 میں گیشا بروم 1 اور گیشا بروم 2 کو سر کر لیا۔ اگلے سال 2007 میں براڈ پیک کو سرکر کے پاکستان میں واقع 8 ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیوں کو سرکر کے ہیرو بن گئے۔

2008 میں حسن سدپارہ کو تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ براڈ پیک کی فتح کے بعد حسن سدپارہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر وسائل ہوں تو وہ ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی پر سبز پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش کو اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے 80 لاکھ روپے ادا کر کے پورا کر دیا۔ اپریل 2011 میں حسن سدپارہ اپنے چھوٹے بھائی صادق سدپارہ کے ہمراہ نیپال گئے اور دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو بغیر سلنڈر کے سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ حسن سدپارہ 21 نومبر 2016 کو کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔

حسن سدپارہ

حسن سدپارہ کے بعد اس گاؤں کے ایک اور نوجوان محمد علی سدپارہ نے پے در پے کامیابیوں سے دنیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرا لی۔ 2 فروری 1976 کو سدپارہ گاؤں میں پیدا ہونے والے علی سدپارہ نے سکردو میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی اور سکردو میں فٹ بال کے کھلاڑی مشہور ہو گئے۔ علی سدپارہ کے گھر والے چاہتے تھے کہ علی یا تو فوج میں بھرتی ہو جائے یا پھر پولیس کی نوکری کرلے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

تاہم علی سدپارہ نے اپنے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کوہ پیما بننے کا فیصلہ کیا۔ علی سدپارہ نے 1995 سے 2004 تک پورٹر کا کام کیا اور بطور پورٹر پہلی مرتبہ کے ٹو پر سفر کیا۔ تاہم 2006 میں باقاعدہ ماونٹینگ شروع کرتے ہوئے 8 ہزار میٹر گیشر برم کی چوٹی کی طرف سفر کیا تو علی سدپارہ کے پاس کوہ پیمائی کا مخصوص سامان موجود نہیں تھا۔ اس لیے سکردو سے سیکنڈ ہینڈ سامان خرید کر اپنے اس شوق کو پورا کیا۔

2006 میں ہی علی سدپارہ نے سپانتک پیک کو سر کیا۔ 2008 میں قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد اسی سال چین میں مزتاغ اتا کو بھی سر کر لیا۔ علی سدپارہ کی کامیابیوں کا سفر جاری رہا۔ 2009 میں دوبارہ نانگا پربت کو سر کیا۔ 2010 میں گیشر برم 1 کی چوٹی پر پاکستانی پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔

علی سدپارہ اکثر کہتے تھے کہ پہاڑ جنون مانگتے ہیں اور پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے آپ کی پہاڑوں کے ساتھ دل لگی ہونی چاہیے۔ یہی دل لگی اور یہی جنون تھا کہ علی سدپارہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سردیوں میں سر کرنے والے پہلے عالمی کوہ پیما بن گئے۔

اس سے قبل علی سدپارہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ 2015 میں نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے تاہم 2016 کے موسم سرما میں نانگا پربت کو سر کرنے والے پاکستانی بن گئے۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت کو چار بار سر کرنے کا ریکارڈ بھی بنایا ہے۔ 2017 میں علی سدپارہ نے تین کامیابیاں سمیٹیں اور اس ایک سال میں براڈ پیک، نانگا پربت اور نیپال کی پوموری پیک کو سر کر لیا۔

 2018 میں علی سدپارہ کے ٹو کو بھی سر کر چکے ہیں اور اسی سال 2018 میں علی سدپارہ نے ہسپانوی کوہ پیما الیکس ٹیکسون کے ہمراہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو بغیر آکسیجن سر کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ 2019 میں علی سدپارہ نے نیپال کی لوہٹسے، مکالو اور مانا سلو چوٹی کو بھی سر کر لیا۔

16 جنوری 2021 کو نیپالی ٹیم کی کے ٹو کی کامیاب سرما مہم کے بعد علی سدپارہ نے عزم کر لیا کہ وہ اسی سرما میں کے ٹو کو بغیر آکسیجن سر کریں گے اور ٹیم ممبران آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے پوبلو موہر اور بیٹے ساجد سدپارہ کے ہمراہ کے ٹو کا رخت سفر باندھا۔ علی سدپارہ نے 2 فروری کو کے ٹو کے بیس کیمپ پر اپنی سالگرہ کی تقریب میں رقص کر کے کے ٹو کی فتح کا جشن پہلے منا لیا۔

علی سدپارہ اور ان کے ساتھی

پانچ فروری کو علی سدپارہ ٹیم کے ہمراہ کے ٹو کی چوٹی کی طرف روانہ ہوا۔ 8 ہزار میٹر کی بلندی پر پہنچ کر موسم خراب ہو گیا۔ جبکہ ساجد سدپارہ کے آکسیجن سلنڈر کا ریگولیٹر خراب ہو گیا جس پر ساجد سدپارہ واپس بیس کیمپ کی طرف لوٹ آیا۔ ساجد سدپارہ کے مطابق انہوں نے دن بارہ بجے علی سدپارہ ٹیم کے باقی دو ممبران کے ہمراہ بوٹل نیک سے بلندی کی طرف جاتے دیکھا۔ تاہم اس کے بعد علی سدپارہ اور اس کی ٹیم کے سیٹلائٹ فون کا بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

علی سدپارہ اور اس کی ٹیم کی تلاش جاری ہے۔ آرمی ایویشن سمیت الپائن کلب اور دیگر کوہ پیما علی سدپارہ کی تلاش میں ہیں مگر ماہرین کے مطابق وقت اتنا گزر چکا ہے کہ کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی معدوم ہو چکے ہیں۔ مگر دل میں امید پھر بھی موجود ہے کہ علی سدپارہ جیسا سخت جان کوہ پیما شاید اس برفیلے جہنم میں زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے اچانک تلاش کرنے والوں کو مل جائے۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے اور اگر ایسا ہو گیا تو بلاشبہ پاکستانی قوم علی سدپارہ کی واپسی پر ایک بھرپور جشن منائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •