اور اب پھر عربی زبان اسکول کے نصاب کاحصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلاس پنجم تک مجھے بھی عربی پڑھائی گئی۔ عربی پڑھانے کے لئے ایک قاری صاحب مخصوص تھے۔ باریش اور کرخت قسم کے۔ کسی کو سبق یاد نا ہوتا تو الٹے ہاتھ پر ڈنڈے برسانے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔

انت، ابی۔ انا ایسے بے شمار الفاظ ہمیں بآسانی یاد ہو جاتے تھے لیکن پورے پورے جملے بولنے میں دقت آتی تھی کیونکہ عام بول چال میں عربی استعمال نہی ہوتی تھی۔

دوسری طرف شام کو باقاعدگی سے سپارہ پڑھانے ایک قاری صاحب گھر پر تشریف لاتے تھے قریب گھنٹہ بھر وہ قرآن پاک پڑھاتے، نماز سکھاتے، وضو کلمہ سب ہی میں نے ان سے ہی سیکھا۔ ان کی بدولت میں کم عمری میں ہی باترجمہ قرآن پاک پڑھنے کے قابل ہوئی۔

مدعا یہ ہے۔ کہ کیا اسکولوں میں عربی سندھی فارسی پڑھانا چاہیے؟

ہماری قومی زبان اردو ہے اور بین الاقوامی زبان انگریزی۔ اور ہمارے سرکاری اسکولوں میں انگریزی پڑھانے میں بے شمار غلطیاں کی جاتی ہیں، بلکہ ایک بڑے اسکول میں بھی بچوں کو انگلش صحیح نہی پڑھائی جا رہی۔

ٹیوشن پڑھنے تیسری کلاس کا بچہ آتا رہا ان کی انگریزی کی استانی اسے younger اور elder کے معنی الٹے بتائے بیٹھی تھیں۔ ان کی یہ غلطی درست کروائی لیکن جماعت کے اندر وہ کتنی غلطی کرتی ہوں گی؟

اسکولوں میں نصاب بڑھانے سے صرف بستے بھاری ہو رہے ہیں۔ پانچ سے سات سال کے بچوں پر کتابوں کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ اس کا ذہن کھلنے کے بجائے منجمد ہو رہا ہے۔ ہنستے کھیلتے ہوئے بھی بچوں کو بہت سکھایا جا سکتا ہے لیکن ہم اپنی نسلوں کو آگے بڑھنے سے خود ہی روک رہیں ہیں ان پہ بے تحاشا بوجھ ڈال کر۔

بین الاقوامی معیار تعلیم سے اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کا مقابلہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ ان کا درس تدریس دوستانہ ہے بچوں کو ایک ہی سبجیکٹ بڑھایا جاتا ہے اور ہم اپنے معصوم بچوں کو کچی عمر سے ہی سائنس دان منانے لگ جاتے ہیں۔ اردو اسلامیات معاشرتی علوم انگلش اور سائنس کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانیں پڑھانے پہ زور۔ اس سے حاصل کیا ہے؟

الحمدللہ ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم دینے کا انتظام ہر گھر میں ہوتا ہے اور بچے ترجمے کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرلیتے ہیں اور اسے جاری بھی رکھتے ہیں۔

ہمارے مذہب اسلام سے بچے اسکول میں اسلامیات پڑھنے سے اور دین اسلام میں رونما واقعات سے واقف ہوتے ہیں ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اور یہ نصاب کا لازمی جز ہونا چاہیے۔

دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ آئے روز نئی نئی سائنسی ایجادات ہو رہی ہیں۔ سیارے دریافت ہو رہے ہیں۔ ان سب کے پیچھے جو عوامل ہیں وہ بنیادی طور پر اسکول کی تعلیم ہے۔ ایک ہم ہیں روز بروز اپنے آپ کو الجھاتے جا رہے ہیں۔ اپنی آنے والی نسل کو دنیا کے مقابلے پہ لا کھڑا کرنے کے بجائے سطحی چیزوں میں لگا رکھا ہے۔

اسکول میں عربی سندھی فارسی پڑھا کر ہم کیا حاصل کر لیں گے اور جب یہ زبانیں عام طور پر بولی نہیں جاتی تو ان کے سیکھنے کا کیا فائدہ۔ ؟

بچے پانچویں جماعت تک عربی اور آٹھویں تک فارسی اور سندھی پڑھتے ہیں۔ لیکن کچھ یاد نہیں رہتا کہ کیا پڑھا تھا۔ اس اضافی بوجھ کی وجہ سے انگریزی اور اردو کمزور رہ جاتی ہے۔ پھر جب نوکری کرنا ہو درخواست تک لکھنا نہیں آتی۔

انگلش میڈیم اسکول کے بچوں کو ایسی دشواریاں نہیں ہوتی کیونکہ ان اسکولوں کا نصاب ہی آکسفورڑ کا ہوتا ہے اور فیسیں بھی اسی حساب سے ہوتی ہیں۔ لیکن سرکاری یا کم مہنگے پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت پڑھ لکھ جائیں تو بڑی بات ہے ورنہ اسکول کا طرز تعلیم صرف خانہ پری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب ہر گلی نکڑ پر بڑے بڑے ٹیوشن سینٹر کھل گئے ہیں۔ ایک الگ ہی مقابلہ ہے ان ٹیوشن سینٹرز کے درمیان۔ یہ نوبت اسی لئے آتی ہے کہ ہم بنیادی تعلیم سے اپنے بچوں کو محروم رکھتے ہیں۔ ہم اپنی نسل کے جوہر اجاگر کرنے کے بجائے اسے مختلف طریقوں سے دبائے جا رہے ہیں۔

اگر زبانیں پڑھانا اتناہی ضروری ہے تو میں سمجھتی ہوں ہمیں ان زبانوں کو پڑھانے کے لئے الگ سے لیگویج سینٹر اور وہ بھی سرکاری سطح پر قائم کرنے چاہیے جہاں لوگ اپنی مرضی سے جو زبان چائیں آ کر سیکھیں۔ ان کے سرٹیفکٹ انہیں ملیں تاکہ آکے جاکر ان کے کام بھی آسکیں۔

جرمنی میں ایسے طلباء کو تعلیم مفت دی جاتی ہے جو ان کی زبان پر مکمل عبور رکھتے ہوں۔ اور کئی لوگ جرمن زبان سیکھ کر تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

کسی بھی زبان کو سیکھنا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اس طرح نصاب کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔ ہمارے ملک میں کئی ماہر تعلیم ہیں اگر ان سے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لئے رہنمائی حاصل کی جائے تو یقیناً ہم اپنی بنیادی ستون کو مضبوط کرسکیں گے۔ اپنے بچوں کو معاشرے میں ایک برابری کا مقام دلاسکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •