سینیٹ ویڈیو: غریبوں کو دیہاڑی لگانے سے مت روکو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ویڈیو پر ہنگامہ برپا ہے حالانکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چند لوگ سکون سے بیٹھے اپنے بال بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں لیکن شور ایسے مچا دیا گیا ہے کہ نہ جانے کیسا گناہ کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قوم شرفا کی پگڑیاں اچھالنے کی شوقین ہے ورنہ اس ویڈیو میں تو اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ دیہی پس منظر رکھنے والے چند ممبران اسمبلی اپنی فصل بیوپاریوں کو بیچ رہے ہیں۔ آواز اگر خاموش نہ کر دی جاتی تو گندم، گنے اور آلو کے نرخ پر بھاؤ تاؤ بھی سنائی دے جاتا۔ اس پر ان غریبوں کا سکینڈل بنا دینا ہماری رائے میں تو مناسب نہیں۔

ویسے اس ویڈیو سے قطع نظر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ملک میں کتنی زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ممبر اسمبلی کی زندگی کتنی زیادہ مشکل ہے؟ ہم جیسے مڈل کلاسیے محدود سوچ رکھتے ہیں۔ بس یہ سوچ لیتے ہیں کہ ان ممبران کی اتنی لمبی چوڑی گاڑی ہوتی ہے، لاکھوں کے برانڈڈ بیگ اور کپڑے ان کے پاس ہوتے ہیں، اپنے حلقے کی اتنی گندی نالیاں پکی کرواتے ہیں تو ان کے پاس پیسے بہت ہوں گے۔

ایسی محدود سوچ تو ہمارے گھروں میں کام کرنے والی ماسی بھی رکھتی ہے کہ وہ مہینے کے بیس ہزار کماتی ہے جبکہ جس گھر میں وہ کام کرتی ہے اس کی آمدنی پچاس ہزار لاکھ ماہانہ ہے تو وہ صاحب لوگ کتنے امیر ہیں۔ جبکہ گھر والے ہی جانتے ہیں کہ وہ اپنا گزارا کس مشکل سے کر رہے ہیں۔

کیا کبھی آپ نے سنجیدگی سے اپنے نمائندوں کی مالی مشکلات پر غور کیا ہے کہ وہ کیسے کم پیسوں میں گزارا کرنے پر مجبور ہیں یا بس ہم بھی ماسی کی طرح تنگ ذہن سے سوچتے ہیں؟

ہم آپ نے تو بس یہ سوچنا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کا خرچ کیسے چلاتا ہے۔ بال بچوں کی فیس کتنی ہو گی؟ کھاتا پیتا کیسے ہو گا؟ بجلی گیس کے بل کیسے دیتا ہو گا؟ گاڑی کی قسط کیسے ادا کرتا ہو گا؟ خاندان کے شادی بیاہ اور مرگ کا خرچہ کیسے اٹھاتا ہو گا؟ ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جائے تو بل کیسے ادا کرتا ہو گا؟ ادھر عوامی نمائندے تو عیش کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کو مفت میں مل جاتا ہے۔ یعنی وہی ایک مڈل کلاسی محدود سوچ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے۔

اب یہ متحدہ مجلس عمل کے مولویوں کی صوبہ سرحد کی حکومت تو ہے نہیں کہ ایک ممبر سائیکل پر اسمبلی جا رہا ہوتا تھا تو وزیر عوامی بس کے ڈنڈے سے ٹنگا ہوتا تھا کہ اجلاس میں پہنچا دے۔ یہ تو دنیا داری کا دور ہے۔ آپ خود سوچیں کہ آپ خود اگر پھٹے پرانے کپڑے پہنے پھر رہے ہوں تو آپ کا حلقہ انتخاب یعنی بال بچے کیسے آپ سے ناراض ہوتے ہیں کہ ان کی بے عزتی کر دی۔ عوامی نمائندے کا خاندان اس کے ووٹر ہوتے ہیں، اسے ان کی عزت کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے اور اہل خانہ کے لیے الگ الگ لینڈ کروزر بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حلقے میں نکلے تو لوگ مطمئن ہوں۔ ان بڑی گاڑیوں کا پٹرول کا خرچہ بھی بہت ہو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ذاتی کاموں کے علاوہ حلقے کے عوام کے کام بھی کرنے ہوتے ہیں، کبھی تھانے کا چکر کبھی ہسپتال کا تو کبھی قبرستان کا۔

پھر ممبر اسمبلی نے صرف اپنا باورچی خانہ نہیں چلانا ہوتا، ڈیرہ ہوتا ہے اس کا جہاں ہر وقت چائے کی دیگ چڑھی ہوتی ہے اور کھانے کے وقت دسترخوان پر بھی اتنا اہتمام کرنا پڑتا ہے جتنا مڈل کلاسیے اپنے ولیمے پر کرتے ہیں ورنہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نمائندگی کا حق ادا نہیں ہوا اور اگلی مرتبہ ووٹ کسی دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ اسی ڈیرے داری کا بل وغیرہ بھی اسی حساب سے آتا ہے۔

لباس اور رکھ رکھاؤ بھی ایسا کرنا پڑتا ہے کہ دور سے پتہ چل جائے کہ کلف زدہ سفید کپڑوں میں کھڑ کھڑ کرتا یہ شخص ”مراد آباد میں زندہ ہونے والے مردے“ سے بھی زیادہ دہشت ناک ہے کیونکہ وہ ایک عوامی نمائندہ ہے۔ پھر جہاں بھی جانا ہو درجن بھر مصاحبین اور محافظ الگ ہوتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے رہائش کا خرچ بھی کم نہیں ہوتا۔ اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت تک سفر اور قیام طعام کا خرچہ الگ سر پر دھرا ہے۔

پھر الیکشن کا خرچہ بھی کم نہیں ہوتا۔ بچارے ایک طرح سے جوا کھیلتے ہیں۔ چار چھے کروڑ ایک الیکشن پر لگ جاتا ہے، اور یہ بھی گارنٹی نہیں ہوتی کہ الیکشن جیت جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پے در پے دو تین الیکشن ہار جائیں اور آٹھ دس کروڑ ضائع ہو جائیں۔ ایک حلقے میں چار پانچ اہم امیدوار تو ہوتے ہیں جن میں سے صرف ایک کے نصیب میں ممبر بننا لکھا ہوتا ہے اور باقی سب کے نصیب میں نقصان۔

آمدنی کتنی ہوتی ہے ان بچاروں کی؟ دو چار لاکھ ماہانہ کی تنخواہ ملتی ہے۔ چلو الاؤنس وغیرہ بھی ڈال لیں تو پانچ چھے لاکھ ماہانہ ہو جاتی ہے۔ پھر یہ کروڑوں کا خرچہ کہاں سے پورا کریں؟ ان کی وہی حالت ہوتی ہے جو ہم مڈل کلاسیوں کی ایک لاکھ ماہانہ آمدنی کے بعد سوا لاکھ فیس، بلوں، اور دیگر گھریلو امور پر سوا لاکھ کے اخراجات دیکھ کر ہوتی ہے۔

بچاروں کی آمدنی کے ذرائع بھی محدود ہوتے ہیں۔ بلکہ آمدنی کہاں، خدمت خلق کرتے ہیں اس لیے ثواب کہیے۔ کسی بیروزگار کو ملازمت دلوانے، حلقے میں ترقیاتی کام کروانے اور ایسی چیزوں کا کچھ ثواب ملتا ہے جس سے بمشکل مہینے کے اخراجات ادا ہوتے ہیں۔ اب ایسا کال پڑا ہے کہ حکومت نوکریاں دینے کی بجائے چھین رہی ہے اور ترقیاتی اخراجات ختم کیے جا چکے ہیں۔ یعنی ادھر بھی خسارہ ہی خسارہ ہے۔

ایک طریقہ ہوتا ہے کہ بندہ پارٹی لائن کی بجائے ضمیر کی آواز پر کسی وقت ووٹ دینے پر مجبور ہو جائے تو کچھ یافت ہو جاتی ہے۔ ایک ٹرم اگر پوری ہو جائے تو دو تو سینیٹ کے الیکشن مل جاتے ہیں، یا کبھی کوئی عدم اعتماد وغیرہ کی تحریک پیش ہو جاتی ہے یا کوئی اہم قانون پھنس جاتا ہے جس کے لیے ووٹ درکار ہو تو ایسے میں راہ راست پر رہنے کا کچھ فائدہ ہو جاتا ہے۔

ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں ذہن کو وسعت دیتے ہوئے ان غریبوں پر نکتہ چینی سے گریز کرنا چاہیے اور انہیں اپنی فصل بیوپاریوں کو بیچنے کی چھوٹ دینی چاہیے تاکہ وہ ہماری نمائندگی کا حق ادا کر سکیں۔ ویسے بھی لوک دانش کہتی ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے یعنی جیسی قوم ویسے نمائندے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1363 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply