بینک کا سود حرام نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا بینک کا سود لینا اور دینا حرام ہے؟ کیا یہ سود وہی الربا ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے؟ الربا کی حرمت کی علت کیا ہے اور کیا یہ علت آج کے دور کے بینکنگ کے سود کو حرام قرار دینے کا جواز فراہم کرتی ہے؟ اگربینک کا سود حرام ہے تو کیا اس کاکوئی حقیقی متبادل موجودہے؟ کیا اسلامی بینک حقیقت میں بلا سود بینکاری کرتے ہیں یا سود ہی کو ایک مختلف جامہ پہنا کر عربی ناموں سے سامنے لے کر آتے ہیں؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات ہر با شعور اور مخلص مسلمان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک طرف تو بینکنگ اور سرمایہ کاری اور ان کے بیشتر باہمی تعاملات میں سود ایک لازمی جزو ہے اور دوسری طرف، بہت سے علما کی رائے کے مطابق، خود کو ان سودی معاملات سے بچانا ایمان کا تقاضا ہے۔

اگرچہ مذہبی علما کی اکثریت مروجہ بینکنگ کے سود کو قرآن و سنت کے منع کردہ الربا کے مترادف سمجھ کر حرام قرار دیتی ہے یا الربا اور سود کی مشابہت کی وجہ سے سودی معاملات سے احتراز کو ایک بہتر ایمانی رویہ قرار دیتی ہے لیکن، جیسا کہ آئندہ عنوانات میں وضاحت کی جائے گی، یہ رائے الربا اور سود کی محض ظاہری شکل و صورت میں پائی جانے والی کچھ مماثلت کی بنیاد پر ہے۔ سود اور الربا کے تشکیلی عوامل، خصوصیات اور اثرات باہمی طور پر مختلف بلکہ کئی صورتوں میں تو متضاد ہیں۔

علما کی سود پر کی گئی تنقید کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اس مسئلے میں مقاصدشریعت اور احکام کی روح کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ قرآن و سنت کی اصل علت حرمت، معاشی ظلم، کا تو کہیں خال خال ہی ذکر ملتا ہے۔ شریعت کی روح سے زیادہ اس کے لبادہ کو اہمیت دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ ”اسلامی بینکنگ“ کی صورت میں اجتہادی غلطی کا ایک شاہکار نمونہ سامنے آتا ہے۔

”اسلامی بینکنگ“ کا ایک اجمالی جائزہ ہی اس حقیقت کے اظہار کے لیے کافی ہے کہ عملی طور پر سود کا واحد ”متبادل“ عربی زبان میں مختلف ناموں سے سودہی ہے۔ اگر سود قرض پر مدت کے لحاظ سے اضافے کا نام ہے تو آپ اس کو مضاربہ کہ لیں یا مشارکہ، مرابحہ کا نام دے لیں یا اجارہ کا، کیا فرق پڑتا ہے۔ اگرروایتی بینکنگ کا سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے اور جو 1ضافہ اسلامی بینکنگ میں ہوتا ہے وہ ایک عربی نام اور طریقہ کار میں جزوی تبدیلی سے عین اسلامی بن جاتا ہے تو اہل ایمان کے لیے اس معاملے میں متذبذ ب ہونا ایک فطری امر ہے اور اس مسئلے کا نئے سرے سے جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

علما کی اس اجتہادی غلطی میں بنیادی طور پر دو عوامل کار فرما ہیں۔

1۔ قرآن و سنت کے مطابق رباکی حرمت کا اصل مقصد معاشی ظلم، نا انصافی، اور ضرورت مند کے استحصال کو روکنا ہے۔ لیکن علما نے اس علت حرمت اور اس کے سدباب کے مسئلے پر عمومی طور پر توجہ نہیں دی ہے۔ وہ نہ تو روایتی مالیاتی اور بینکنگ کے نظام میں مجموعی حوالے سے معاشی استحصال کے عناصر شناخت کر سکے ہیں اور نہ ہی اس امر کی وضاحت کر سکے ہیں کہ وہ کون سا مالی ظلم ہے جس کو اسلامی بینکنگ کا نظام روک رہا ہے۔

2۔ علما، مہاجنی سود ( یوزری ) اور بینکنگ کے سود (انٹرسٹ ) میں جو واضح فرق ہے، اس کو نہیں سمجھ سکے ہیں۔ انٹرسٹ مالیاتی مارکیٹوں میں پیسے کی طلب اور رسد کے باہمی تعامل سے طے ہوتا ہے اور اس کی شرح کے استحصالی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کہ یوزری کی شرح ہمیشہ ظالمانہ حد تک زیادہ ہوتی ہے اور اس کا تعین ضرورت مند کی مالی مجبوری کی شدت سے ہوتا ہے۔

اسلام میں دنیا کے دیگر مذاہب اور تہذیبوں کی طرح اسی یوزری کی ممانعت کی گئی ہے۔

ان دو اصطلاحوں میں اس واضح فرق کی وجہ سے آئندہ صفحات میں روایتی بینکنگ کے سود کے لیے انٹرسٹ، اور مہاجنی اور استحصالی سود کے لیے یوزری کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں تا کہ ان دوبہت مختلف معاملوں میں امتیاز قائم رکھا جا سکے۔ اور جہاں یوزری اور انٹرسٹ دونوں مراد ہیں وہاں سود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

انٹرسٹ اور یوزری کے حوالے سے ہمارے علما کے طرزعمل سے ملتا جلتا رویہ علمائے عیسائیت نے بھی یورپ میں ایک عرصے تک اختیار کیے رکھا۔ یورپ میں قبل از عیسائیت رومی سلطنت میں سادہ انٹرسٹ کی اجازت تھی لیکن مرکب انٹرسٹ اوریوزری کی ممانعت تھی۔ لیکن چوتھی صدی عیسوی سے جب یورپ میں حکومتی سطح پر عیسائیت کا فروغ شروع ہوا تو مذہب کے زیراثر بتدریج ہر طرح کے انٹرسٹ کو ممنوع سمجھا جانے لگا، بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے آج کل کے علما سمجھتے ہیں۔

پادری کسی ایسے شخص کے مرنے کے بعد کی رسوم تک میں شریک نہ ہوتے تھے جو اپنے دیے گئے قرض پر انٹرسٹ یا یوزری وصول کرتا ہو۔ چرچ کو اپنے نقطہ نظر کے لیے مزید دلائل بارہویں صدی میں اس وقت میسر آئے جب یورپ میں (مسلمانوں کے توسط سے ) ارسطو کے نظریات کا احیا ہوا۔ 1رسطو کا نظریہ، کہ پیسہ ایک مجرد چیز ہے جو بذات خودکچھ پیدا نہیں کرتا اس لیے اس لیے اس کو قرض کے طور پر دے کر اضافے کے ساتھ طلب کرنا مقروض کے ساتھ زیادتی ہے، ہمیں بعد میں آنے والے علمائے عیسائیت کی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے اور علمائے اسلام بھی انٹرسٹ کو شرعی طور پر حرام قرار دینے کے لیے اس بوسیدہ دلیل کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں۔

چرچ کا معاشی زندگی میں عمل دخل اور انٹرسٹ کی ممانعت کا دائرہ کار سولہویں صدی عیسوی میں کم ہونا شروع ہو گیا جب تجارتی مقاصد کے لے سرمائے کی فراہمی کے عمل اور بینکنگ نے یورپ بالخصوص اٹلی میں فروغ پانا شروع کیا۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں صنعتوں اور علم معیشت کی ترقی اور پھیلاونے تو قرض، سرمائے اور انٹرسٹ کے حوالے سے ماضی کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا۔ اس تبدیلی کی دو بنیادی وجوہات تھیں :

1۔ قرض ایک مجرد چیزاور محض پیسوں کا لین دین نہ رہا بلکہ اس نے پیداواری عمل میں ایک بنیادی عامل بن کر سرمائے کی شکل اختیار کر لی اور انٹرسٹ کی شرح کا تعین سرمائے کی طلب اور رسد سے وابستہ ہو گیا۔

2۔ قرض زیادہ تر تجارتی اور صنعتی ضروریات کے لیے لیا جانے لگا۔ ظالم ساہو کار اور مظلوم مقروض والا تعلق اس معاملے میں نہیں چل سکتا تھا۔ مالیاتی مارکیٹوں کے پھیلاو اور استحکام، ریاست کے دائرہ کار میں وسعت اور معاشی اداروں میں اس کے عمل دخل کی وجہ سے نہ تو بینکرزانٹرسٹ کی شرح استحصالی حد تک زیادہ کر سکتے تھے اور نہ ہی تاجر اور صنعت کار متوقع منافع سے زیادہ انٹرسٹ اداکرنے کے لیے تیار تھے۔

نتیجتاً، 1500 سو سال تک ہر طرح کے سود کی حرمت پر اصرار کرنے والے چرچ نے اٹھارہویں صدی میں پوپ کی طرف سے اٹلی کے پادریوں کو خاموشی سے ایک خط بھیج کر اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔ اور اس کے بعد سے انٹرسٹ کا مسئلہ عیسائیت کے نئے لٹریچر میں نظر آنا بند ہو گیا۔ ہم مغرب سے صنعتی، علمی اور ذہنی ترقی میں کئی صدیاں پیچھے ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم انٹرسٹ کے مسئلے کی گتھی کو اتنی جلدی سلجھا لیں جبکہ ہمیں تو اس مسئلے سے واسطہ ہی پچھلی صدی میں اسلامی دنیا میں مغربی معاشی اداروں کی آمد کے بعد پڑا ہے۔

چنانچہ غالب امکان ہے کہ ابھی آئندہ کئی دہائیوں تک، علما کو اس مسئلے کی سمجھ آنے تک، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بینکنگ، انشورنس اور سرمایہ کاری کی شرعی حیثیت کے بارے میں تذبذب کا شکار رہے گی۔ اور ایک دن خاموشی سے کسی دارالافتا سے فتویٰ جاری ہو گا کہ بینکنگ کا انٹرسٹ وہ الربا نہیں ہے جس سے قرآن و سنت میں منع کیا گیا ہے۔

علما کی یہ اجتہادی غلطی کسی فروعی یا معمولی مسئلے کے بارے میں نہیں ہے کہ جس کو نظر انداز کر دیا جائے اور اس کے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا جائے۔ سود کا معاملہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مسئلے پر علما کے پیدا کردہ ابہام کی وجہ سے کتنے ہی لوگ بینکنگ، انشورنس اور سرمایہ کاری کے ممکنہ معاشی فوائد سے محروم ہیں یا عملی ضروریات کے تحت کراہت کے ساتھ انٹرسٹ کے معاملات کر رہے ہیں۔

انٹرسٹ کو شرعی طور پر حرام سمجھنا اور عملی ضروریات کے تحت انٹرسٹ والے نظام کا حصہ بننا ایک ایسے تضادانہ رویہ ہے جو کتنے ہی افراد کو ایک ناکردہ گناہ کے احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ لوگ انٹرسٹ کے عنصر کی وجہ سے اپنی آمدن اور اخراجات کے حلال ہونے کے حوالے سے ایک تشکیک کے زیراثر نفسیاتی حوالے سے ایک ناقابل رشک زندگی گزارتے ہیں۔ اجتماعی حوالے سے بھی اس مسئلے میں یکسوئی نہ ہونے کی وجہ سے ہم بینکنگ اور فنانس کے شعبوں کے معا شی ترقی میں کردار کا پوری طرح سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس موضوع کا قرآن و سنت اور جدید زندگی کے معاشی حقائق کی روشنی میں از سر نو جائزہ لیا جائے اور علما کے فہم کی اس فاش غلطی کو واضح کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “بینک کا سود حرام نہیں ہے

Leave a Reply