پاکستان کی سیاسی، مذہبی اور ادبی قیادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائیو سٹار ہوٹل میں ننھے بچے کو بھوک لگی تو ماں نے ایک کپ دودھ کے سو روپے ادا کیے۔ راستے میں بچہ بھوک سے دوبارہ بلک پڑا۔ گاڑی روک کر ایک ڈھابے والے سے جب دودھ لیا تو پیسے پوچھنے پر اس بچے کی ماں کو جواب ملا ”بیٹی! ہم بچے کے دودھ کے پیسے نہیں لیتے، اگر ضرورت ہے تو اور بھی مل جائے گا“ ۔ ڈھابے والے بوڑھے کے چند الفاظ سن کر وہ امیر زادی چند لمحوں میں زندگی کی حقیقت تک پہنچ گئی۔

ملی تھی زندگی کسی کے کام آنے کے لیے
ہر لمحہ بیت رہا ہے کاغذ کے ٹکڑے کمانے کے لیے
کیا کروگے! اتنا پیسہ کما کر؟
نہ کفن میں جیب ہے نہ قبر میں الماری

جس طرح اختیار، دولت اورطاقت کانشہ اٹل حقیقت ہے اسی طرح اختیار، دولت اور طاقت کی جیت ایک کڑوا مگرتلخ سچ ہے۔ روز ازل سے یہ سلسلہ چل رہا ہے اور اب تک اس ظالم اختیار، دولت اورطاقت کا نہ نشہ کم ہو رہا ہے اور نہ جیت میں فرق آ رہا ہے۔ اسی لیے کسی بھی کمزور اور لاچارفرد کے لییسوائے طاقتور کے سائے کے کوئی پناہ گاہ نظر نہیں آتی۔ یہ طاقت کاسایہ ہی ہیجس کے نیچے کوئی بھی بے بس انسان اپنی انا کو بیچ کر اور خودی کا سودا کر کے ناآسودہ زندگی کے چند لمحات بے فکری سے گزار کر لطف اندوز ہوتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر جگہ طاقت کا ہی سکہ چلتا ہے جو جتنا وسائل سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ سخت جان اور مضبوط اعصاب کا مالک ہوگاوہ اتنا ہی بڑا سکندر کہلائے گا۔ یاد رہے! زندگی کے ہرمیدان اور شعبہ کے استاد ہوتے ہیں جن کی رہنمائی اور شاگردی میں ہی اس شعبہ یا کھیل کے داؤ پیچ کو سیکھا جاتا ہے۔ ان ہی میدانوں میں سیاست کا میدان بھی شامل ہے۔ سیاست کا میدان بھی کیا خوب میدان ہے جہاں مرضی والاسب جائز ہے اور بغیر مرضی سب ناجائز۔

دنیا کے اکثر ترقی پذیر ممالک کے سیاسی پہلوانوں کے کردار میں بے ضمیری، مکاری، مطلب پرستی، موقع شناسی، فریب، دغا بازی اور ان سے ملتی جلتی چند اور خصوصیات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور مزیدار بات یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں اس کھیل کے کھلاڑی بھرپورجوش اور جذبے کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری دم تک کھیل سے دستبردار نہیں ہوتے۔ بد قسمتی سے پاکستان کو بھی آزادی حاصل کرنے کے بعد سے اسی قبیل کے سیاست دانوں سے واسطہ پڑا ہے۔ ان نا خداؤں کے شروع دن سے ہی بس چند نعرے رہے ہیں۔ ”انا پرستی اور خود ستائشی کے آگے سب قربان“ ، ہمارا مقصود ”غلام عوام اور اقتدار پاکستان“ ۔ ”اقتدارمیں حصہ دو یا پھر مالیاتی تحفظ دو“ ۔ ”ہماری جند، ہماری جان، ایک نہیں بلکہ دو پاکستان“ ۔

اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی
اور اپنے گریبانوں میں جھانکا نہیں جاتا
چور اپنے گھروں میں تو نقب نہیں لگاتے
اپنی ہی کمائی کو تو لوٹا نہیں جاتا۔

اپنے فائدے کے لیے کروڑوں افراد کو سولی پر لٹکا دو، قتل عام کرو ادو، بیواؤں کو رلا دو، یتیموں کا حق کھا لو، انصاف کا گلا دبا دو، اخلاقیات کو بھلا دو۔ بس یہ چند اسباق ہیں جو پاکستان میں اب تک آنے والے تمام حکمران، سیاست دان، مذہبی رہنماء اور موم بتی کی سرکار باقاعدگی سے پڑھتی رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا شہری بھی اس سوچ سے متاثر رہا ہے اور اسی سوچ کے برے اثرات کی وجہ سے اب ہمارے معاشرے میں انسانیت کا دن بدن دم گھٹتا جا رہا ہے۔

آج بد قسمتی سے نفسا نفسی کے اس دور میں ہر فرد کی نظر اپنی ذات سے آگے سوچتی ہی نہیں اور بالغ نظری صرف اپنے اہل خانہ اور عزیز، دوست و احباب تک محدود ہو چکی ہے۔ اس سوچ میں کتنی قباحت ہے اس کا ہمیں اندازہ قائد اعظم کے کوئٹہ میں خطاب کے ایک مختصر اقتباس سے ہو جائے گا۔ آپ نے فرمایا ”کمزور سہاروں کے ساتھ چمٹے رہنا بہت بڑی غلطی ہے۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب نئی مملکت بہت زیادہ خطرات اوربے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل میں گھری ہوئی ہے توایسے موقع پر مملکت کے وسیع تر مفاد کو صوبائی، مقامی یا ذاتی مفاد کے تابع کرنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے خود کشی“ ۔

اگر ہم اپنے قائد کے فرمان کو یاد رکھیں تو یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ آج ہماری پوری کی پوری سیاسی، مذہبی اور ادبی قیادت نہ اپنی ذات سے باہر دیکھنے پر راضی ہے اور نہ سوچنے پر۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیاپچھلے چند ماہ سے ”گواچی گاں وانگوں پھرن والا“ موجودہ سیاسی لٹیروں کا ٹولہ عام آدمی کی بات کرتا ہے؟ کیا عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے؟ کیا عوامی مسائل کی بات کرتا ہے؟ کیازراعت کی بات کرتا ہے؟ کیاصنعت کی بات کرتا ہے؟

کیامعیشت کی بات کرتا ہے؟ کیا انصاف کی بات کرتا ہے؟ کیا آئین کی بات کرتا ہئے؟ جواب ملے گا ”نہیں“ ۔ پھر یہ کیا بات کرتا ہے؟ جواب ملے گا کہ یہ ٹولہ صرف ”اپنی ذات کی، اپنے خاندان کی، اپنی دولت کی، اپنے وسائل کی، اپنی آزادی کی بات کرتا ہے“ ۔ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا کر یہ گماشتوں کا گروہ سمجھا تھا کہ اب حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمی بڑھے گی اورمہنگائی سے تنگ عوام اپنی فوج کے خلاف علم بغاوت بلند کرے گی۔

مگر غیور عوام نے اپنے قائد کے فرمان کو سمجھ لیا ہے اور جان گئے ہیں کہ یہ سب نوٹوں اورجائیدادوں کا معاملہ ہے جس میں بچاری عوام کا کوئی ذکر نہیں۔ اپوزیشن کا پی ڈی ایم اتحاد انتشار کی سیاست کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سلامتی اہم ہے اور پاکستان کو داخلی استحکام کی شدید ضرورت ہے جبکہ ملکی عدم استحکام دشمن قوتوں کی سازشوں کو کامیاب کرے گا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے (آمین)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply