ہم تبدیلی سے خوفزدہ کیوں رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں رونما ہونے والے عوامل میں صرف تبدیلی ہی ایک مستقل عمل ہے۔ افراد اور اقوام دونوں میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی ظاہری بھی ہوتی ہے اور باطنی بھی۔ ہماری پسند ناپسند، خیالات، ارادے، مزاج سب کچھ بدلتا رہتا ہے۔ انسانی سوچ عمر کے ساتھ پختہ ہوتی اور ماحول اور حالات کے زیرِ اثر اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لئے گاہے ایک مخصوص سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔

ہمارے جیسے گھٹے ہوئے معاشروں میں یہ تبدیلی اکثر کسی عصبیت کے زیر اثر رہتی ہے اور زیادہ تر لوگ تبدیلی کے اس عمل کو ارفع انسانی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ہدایت کے بعد علم نافع اور ضروری تربیت ہی وہ بنیادی اوصاف ہیں جن کی مدد سے انسان تبدیلی کے اس خوبصورت تحفے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا اہل ہو سکتا ہے۔ ان اوصاف حمیدہ کے بغیر تبدیلی کا یہ سفر بسا اوقات انسانی ذات کے خارجی مظہر میں کوئی مخصوص بدلاؤ ظاہر کیے بغیر ہی گزر جاتا ہے۔

لیکن کبھی کبھی ایک نئے انسان کا جنم ہوتا ہے جس کا تبدیل شدہ ظاہر اور باطن اس کے ماحول کو مثبت یا منفی طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ ایسے نابغۂ روزگار لوگ کم ہوتے ہیں لیکن وہ دنیا پر اپنا دیرپا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ دنیا کو تبدیل کر دینے والے بہت سے تصورات، اختراعات اور ایجادات فرد اور معاشرے میں رونما ہونے والی ایسی ہی منفرد تبدیلیوں کا منطقی نتیجہ ہیں۔ دنیا کو بدل دینے کی طاقت رکھنے والی تبدیلیاں ایک استثنائی اور غیر معمولی تجربہ سہی لیکن انسان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلی کا کم ازکم اثر اتنا ضرور ہوتا ہے کہ بہت سے حالات، واقعات اور چیزوں کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر یکسر بدل جاتا ہے۔

کہنے کو تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے لیکن اس کا خارجی مظہر اکثر کسی زبردست محرک کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کوئی کتاب، کسی عالم سے ملاقات یا کوئی غیر معمولی واقعہ کسی بھی انسان کو واقعات اور حالات کی ایک نئی سمت سے روشناس کرا سکتا ہے۔ اس کی ذات میں پہلے سے جاری تبدیلی کا عمل اس محرک سے مل کر یوں بھڑک اٹھتا ہے جیسے دیا سلائی کو آگ دکھا دی جائے۔ یوں پہلے سے بالکل مختلف دلچسپی، عمل اور کبھی کبھی تو ایک نئے انسان کا ظہور ہوتا ہے۔

ایسی واضح تبدیلی دنیا کو تو متحیر کرتی ہی ہے لیکن کبھی کبھی خود تبدیل شدہ انسان بھی اپنی ذات کی اس نئی سمت کے ظہور سے ششدر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں حاصل کردہ علم، ہنر اور تجربہ انسان کو ایک نئی جہت میں امتیاز حاصل کرنے میں اکثر معاون ثابت ہوتے ہیں لیکن یہ کلیہ نہیں ہے۔ ایسی مستثنیات بھی موجود ہیں جہاں انسان بغیر کسی رسمی تعلیم، ہنر اور تجربے کے کسی نئی جہت میں ممتاز ہو گئے۔

تبدیلی کی مزاحمت کرنا اور اس کو قبول نہ کر سکنا بھی ایک عام معاشرتی رویہ ہے۔ طرز کہن پر اڑا رہنا افراد اور اقوام دونوں کے لیے سم قاتل ثابت ہوتا ہے۔ یہ مزاحمت جہاں فرد میں ہیجانِ ذات کی شکل میں ظاہر ہوتی اور ایک منتشر شخصیت کو جنم دیتی ہے ، وہیں کبھی کبھی کسی قوم کی بقا کے لیے بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

جس طرح فرد پر لازم ہے کہ اپنی ذات کا تجزیہ کرے اور رونما ہونے والی مثبت تبدیلی کو خوش آمدید کہے ، چاہے اس عمل میں اس کے پہلے سے قائم شدہ تصورات پر ضرب ہی کیوں نہ لگتی ہو ، وہیں کوئی قوم بھی جمود کی حالت سے تب ہی نکلتی ہے جب معاشرے میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply