یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کیسے منظور کئے جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں تحقیق کی صورت حال پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر کچھ ذاتی تجربات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحقیق کے منصوبوں کی منظوری کس طرح دی جاتی ہے۔

فروری 1979 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ میں چونکہ یونیورسٹی میں پڑھا نہیں تھا اس لیے پنجاب یونیورسٹی کے ماحول سے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ تقریباً دو برس بعد میں نے پی ایچ ڈی کے لیے اپنا تحقیقی خاکہ جمع کروا دیا۔ پی ایچ ڈی کے لیے مجوزہ عنوان تھا: شاہ اسماعیل شہید کی مابعد الطبیعیات۔ یہ خاکہ شاہ صاحب کی تصنیف عبقات پر مبنی تھا۔ اس عنوان کو میں نے اپنے رفیق محترم جاوید احمد (غامدی) صاحب کی تجویز پر منتخب کیا تھا۔

اس زمانے میں یونیورسٹی میں بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ کی میٹنگ سال میں ایک مرتبہ یا زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ہوتی تھی۔ میرے خیال میں عنوان غیر متنازعہ سا تھا اس لیے اس کو بسہولت منظور ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن جب میٹنگ ہوئی تو وہاں کچھ عجیب و غریب اعتراضات اٹھائے گئے۔ کسی نے کہا وہ تو چھوٹی سی کتاب ہے اس پر پی ایچ ڈی کیسے ہو سکتی ہے؟ کسی کا خیال تھا کہ شاہ صاحب کے فلسفہ جہاد پر کام ہونا چاہیے۔ کسی کو اعتراض تھا کہ شاہ صاحب کی کتابوں کے نام نہیں لکھے گئے۔ شاید کچھ اور اعتراضات بھی تھے جو اب مجھے یاد نہیں رہے۔ چنانچہ میرا خاکہ قبول نہ ہوا اور اسے ترامیم کے بعد دوبارہ پیش کرنے کو کہا گیا۔ جب تحریری کارروائی سامنے آئی تو کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا ترمیم کرنی ہے۔

ایک رات اساتذہ کی ایسوسی ایشن کا سالانہ ڈنر تھا۔ اس موقع پر میرے دوست اور شعبہ عربی کے استاد مظہر معین صاحب نے میرا تعارف اپنے صدر شعبہ ڈاکٹر ذوالفقار علی ملک صاحب سے کرایا۔ وہ فوراً کہنے لگے اچھا وہ آپ کا خاکہ تھا، آپ نے بتایا ہی نہیں تھا۔ جواباً کہا مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ نے اعتراض کرنا ہے۔

خیر اب مجھے بھی ضد ہو گئی کہ یہ خاکہ اسی طرح منظور کروانا ہے۔ بس اتنا کیا کہ کتابیات میں تصانیف شاہ اسماعیل شہید کے نام سے ایک الگ عنوان کا اضافہ کر دیا جو مقالے کی نوعیت کے اعتبار سے قطعاً غیر ضروری تھا۔ بس اتنا کرنا پڑا کہ بورڈ کے ایک دو اراکین سے خود ملا، کچھ کو دوستوں سے کہلوایا۔ چنانچہ وہ خاکہ آیندہ میٹنگ میں بغیر کسی ترمیم کے منظور ہو گیا۔ تب مجھے یہ اندازہ ہوا کہ ہمارے ہاں تعلیمی شعبے کے افراد بھی میرٹ پر رائے دینا پسند نہیں کرتے بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں اپروچ کیا جائے۔ معمولی سے کام کے لیے بھی لابنگ کرنا ناگزیر بنا دیا گیا ہے۔

اسی اور نوے کی دہائی کا زمانہ شعبہ فلسفہ کے لیے بہت سخت ہوتا تھا۔ ہمارا بھیجا ہوا کوئی خاکہ قبول نہیں کیا جاتا تھا اور عدجیب و غریب اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اکثر صورتوں میں اسلام خطرے میں پڑ جاتا تھا۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ خاکہ پہلی ہی کوشش میں منظور ہو گیا۔ یہ واقعہ بھی خاصا عبرت ناک ہے۔

 اتفاق یہ ہوا کہ جس روز بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ کی میٹنگ تھی اسی روز صبح صدر شعبہ ڈاکٹر عبد الخالق صاحب نے مجھے فون پر میٹنگ میں جانے کی ہدایت کی کیونکہ وہ کسی مصروفیت کی بنا پر نہیں آ سکتے تھے۔ میری زندگی میں اس قسم کی سرکاری میٹنگ اٹینڈ کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ دفتر نے مجھے نہ ایجنڈا فراہم کیا نہ کوئی فائل دی۔ میں خالی ہاتھ ہی چلا گیا۔ جب باری پر مجھے اندر بلایا گیا تو وہاں ایجنڈے کی فائل دی گئی۔ فلسفہ کے شاید تین کیس تھے۔ پہلا خاکہ جو زیر بحث آیا وہ ہربرٹ مارکیوزے پر تھا۔ اس کو دیکھتے ہی وائس چانسلر اور صدر مجلس ڈاکٹر منیر الدین چغتائی صاحب نے کہا مغربی فلسفیوں پر تو مقالات لکھے ہی نہیں جانے چاہییں۔ میں نے جواب دیا، ہم ایم اے فلسفہ میں آٹھ پرچے پڑھاتے ہیں، جن میں سے چھ مغربی فلسفے اور دو مسلم فلسفے پر ہیں۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اس کا پاکستانی معاشرے سے کیا تعلق ہے؟ جواب دیا کہ آخری بات کے ذیلی عنوانات دیکھ لیجیے اس میں پاکستانی معاشرے پر ان نتائج کا اطلاق کیا جائے گا۔ تیسرا اعتراض یہ ہوا کہ مقالہ کسی ایک فرد پر نہیں لکھا جانا چاہیے، تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے۔ خیر میرے تمام تر دفاع کے باوجود وہ ترامیم کے لیے واپس کر دیا گیا۔

اس کے بعد جو ایجنڈا آئٹم تھا وہ میرے شاگرد اور دوست خلیل احمد کا تھا۔ خاکے کا عنوان تھا:

سرسید احمد خان اور مولانا قاسم نانوتوی کی منہاجیات کا تقابلی مطالعہ

اس پر بطور نگران میرا نام درج تھا۔ مجھے ابھی کوئی دو برس پہلے ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی تھی اور کسی “تحقیقی جریدے” میں میرا کوئی مقالہ بھی شائع نہیں ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے کوئی لیکچرر کبھی کسی پی ایچ ڈی کے مقالے کا نگران بنا تھا یا نہیں۔ چونکہ میں خود میٹنگ میں موجود تھا اور اکھڑ اور بدتمیز ہونے کی شہرت بھی رکھتا تھا اس لیے کسی نے میرے نگران بننے پر کوئی اعتراض نہ اٹھایا۔ چغتائی صاحب نے عنوان پڑھتے ہی کہا کہ ہاں یہ موضوع اچھا ہے۔ لیکن ساتھ بیٹھے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی ملک صاحب نے کان میں کچھ کہ دیا تو چغتائی صاحب کہنے لگے یہ موضوع بہت کنٹروورشل ہے۔ میں نے جواب دیا ہم فلسفے میں جو کچھ کرتے ہیں وہ کنٹروورشل ہی ہوتا ہے۔ چغتائی صاحب نے کہا پرانی دبی بحثوں کو زندہ کرنے سے کیا فائدہ؟ میں نے عرض کیا اس مقالے کا مقصد ان کے خیالات پر نہیں بلکہ ان مناہج پر بحث کرنا ہے جن کی مدد سے وہ مخصوص نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر ذوالفقار علی ملک صاحب نے کہا مولانا فضل الرحمان کی جماعت کچھ اور کہتی ہے اور فلاں جماعت کا موقف کچھ اورہے۔ یہ سن کر میں نے بہت سختی سے کہا ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ ان باتوں کو بیچ میں نہ لائیں۔ اس پر چغتائی صاحب نے کہا کسی ایک پر نہیں ہو سکتا۔ میں نے عرض کیا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ کسی ایک پر نہیں بلکہ تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے۔ میرا یہ جواب سن کر چغتائی صاحب کچھ خفیف سے ہو گئے اور مقالے کا خاکہ منظور کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی جو خاکہ منظور نہیں ہونا چاہیے تھا وہ بس میری موجودگی کی بنا پر منظور کر لیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply