اتائی ڈاکٹر اور اولاد کا غم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا دور پار کا ایک دوست ہے، سال چھ مہینے میں ایک مرتبہ اس سے ملاقات ہو جاتی ہے، جب بھی ملتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے روئے زمین پر اس سے زیادہ خوش کوئی آدمی نہیں۔ بات بات پر لطیفے سناتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، دوستوں پر جملے کستا ہے اور اگر کوئی اس پر جواباً جملہ کسے تو کھل کر داد دیتا ہے بشرطیکہ جملہ تخلیقی ہو۔ اس کی محفل میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ مگر اس کی ایک بات بے حد عجیب ہے۔

وہ اچانک کئی مہینوں کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔ فون کا جواب دیتا ہے اور نہ کسی پیغام کا ۔ بلکہ اکثر تو اس کا فون ہی بند ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ شہر چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے۔ ایک مقامی بینک میں اس کی ملازمت ہے اور ’عرصہ روپوشی‘ کے دوران بھی وہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی پر جاتا ہے۔ یہ بات تمام دوستوں کے علم میں ہے اس لیے سب کو مزید غصہ آتا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے رابطہ نہیں کرتا لہذا ہم اس رویے کو بدتہذیبی پر محمول کرتے ہیں۔

کئی مہینوں کی ’روپوشی‘ کے بعد اچانک جب وہ دوبارہ منظر عام پر آتا ہے تو فوراً ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے لگتا ہے، آئندہ غائب نہ ہونے کا وعدہ کرتا ہے، قسمیں کھا کر اپنے تہذیب یافتہ ہونے کا یقین دلاتا ہے اور پھر اس قدر معصوم شکل بناتا ہے کہ سب دوستوں کو بے اختیار اس پر پیار آ جاتا ہے۔ ہم اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو بھول کر دوبارہ اسے اپنی مجلس میں شامل کر لیتے ہیں اور پھر حسب روایت وہ محفل کو اپنی شگفتگی سے چار چاند لگا دیتا ہے۔

لیکن بمشکل چند ہفتے ہی گزر پاتے ہیں کہ وہ دوبارہ غائب ہو جاتا ہے اور پھرکئی ماہ تک اپنی شکل نہیں دکھاتا۔ یہ تماشا کافی عرصے سے چل رہا ہے، تنگ آ کر اب تمام دوستوں نے اس بات کو ناقابل اصلاح سمجھ کر قبول کر لیا ہے یا یوں کہیے کہ ہم اس ’سلسلہ روز و شب‘ کے عادی ہو چکے ہیں۔ سو، روپوشی کے بعد جب وہ محفل میں واپس آتا ہے تو کوئی اس سے نہیں پوچھتا کہ تم کہاں غائب تھے، سلسلہ وہیں سے جڑ جاتا ہے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

میری اور اس کی دوستی زیادہ پرانی نہیں، دو اڑھائی سال ہی سمجھیں مگر اس عرصے میں ہماری بے تکلفی بچپن کے دوستوں طرح ہو گئی ہے۔ ایک روز اسی بے تکلفی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا کہ یہ جو تم کئی کئی ماہ کے لیے بغیر اطلاع دیے غائب ہو جاتے ہو، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ یکلخت اس کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی اور خلاف توقع اس نے بات بدلنے کی کوشش بھی نہیں، شاید اس لیے کہ ہمارے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔ کچھ لمحے وہ خاموش رہا اور پھر جو اس نے مجھے بتایا وہ کچھ یوں ہے :

”میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹی ہے اٹھارہ سال کی اور ایک بیٹا سولہ برس کا ۔ بیٹی کالج جاتی ہے، اس کا ارادہ انجینئر بننے کا ہے، اللہ کرے وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہو۔ بیٹے کی عمر ویسے تو سولہ برس ہے مگر ذہنی طور پر وہ چار سال کا ہے۔ جب وہ پیدا ہوا تو ایسا چاند کا ٹکڑا تھا کہ جو دیکھتا بے اختیار گود میں اٹھا کر والہانہ انداز میں پیار کرنے لگتا تھا۔ مگر جب کچھ بڑا ہوا تو ہمیں پتا چلا کہ وہ بول نہیں سکتا۔ شروع شروع میں ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ بعض بچے دیر سے بولنا سیکھتے ہیں سو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ مگر بات صرف قوت گویائی تک محدود نہیں رہی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں احساس ہوا کہ اس کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بھی کچھ مسئلہ ہے۔

عام بچوں کی نسبت وہ بہت ’ہائپر‘ تھا، نچلا نہیں بیٹھ سکتا تھا، جو چیز اس کے ہاتھ میں آتی اسے توڑ دیتا، کبھی میز پر چڑھ جاتا تو کبھی الماری پر ۔ ہم نے گھر کی ہر چیز اس کے ڈر سے چھپا دی کہ کہیں وہ اپنا نقصان نہ کروا بیٹھے۔ وقت گزرتا رہا۔ اس دوران ہم نے مختلف ماہرین نفسیات، سپیچ تھراپسٹ اور ڈاکٹروں کو دکھایا، بالآخر ہمیں پتا چلا کہ ہمارا بچہ ’آٹزم‘ کا شکار ہے۔ بعض اوقات آٹزم کی ایک شکل ADHD بھی ہوتی ہے جسے Attention Deficit Hyperactivity Disorder کہتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی رائے میں ہمارے بچے میں ان بیماریوں کی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اپنے بچے کے علاج کے لیے ہم نے کون کون سا در نہیں کھٹکھٹایا۔ کوئی پیر، فقیر، حکیم، ڈاکٹر، جوگی، سادھو، بابا یا صاحب کشف و کرامات بزرگ ایسا نہیں جس کے پاس ہم اپنے بچے کے علاج کے لیے نہیں گئے۔ مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ ہمیں پتا چلا کہ شہر میں کسی مخیر شخص نے ایک جگہ تعمیر کی ہے جہاں ایسے بچوں کو کچھ دیر کے لیے رکھا جاتا ہے، ہم وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ بچے کو روزانہ وہاں لے کر جانا پڑے گا، یہ جگہ شہر کے مضافات میں تھی اور وہاں روز آنا جانا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا، ماہانہ خرچ ایک لاکھ تک پہنچ جاتا تھا، سو صبر شکر کر کے واپس آ گئے۔

اسی طرح کسی دوست نے ایک فلاحی ادارے میں بھیجا جہاں ایسے بچوں کی تھراپی کی جاتی تھی، میں بیٹے کو لے کر وہاں گیا مگر انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ آپ کا بچہ تو بیٹھتا ہی نہیں اس کی تھراپی کیسے کریں۔ ہم وہاں سے بھی واپس آ گئے۔ دو سال پہلے اخبار میں مکمل صفحے کا ایک اشتہار دیکھا جس میں کسی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آٹزم کا شکار بچوں کا شرطیہ علاج کرتا ہے۔ اشتہار میں ڈاکٹر کی ڈگریاں لکھی تھیں اور عبارت سے ایسا تاثر ملتا تھا جیسے ڈاکٹر نے اس قسم کے لا تعداد بچوں کا کامیاب علاج کیا ہوا ہے۔

میں اور میری بیوی آس لگا کر اس ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے پورے اعتماد کے ساتھ بچے کا چیک اپ کیا اور ہمیں بتایا کہ صرف تین ہفتے کے لیے بچے کو روزانہ ٹیکہ لگایا جائے گا جس کے بعد انشا اللہ بچہ بالکل نارمل ہو جائے گا۔ اس نے ہمیں اس بیماری کی پوری سائنس بھی سمجھائی اور اپنے طریقہ علاج کے بارے میں بھی بتایا جو کافی پیچیدہ سی بات تھی لہذا مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔ تین ہفتے کے علاج کے تین لاکھ روپے بنتے تھے، ہم نے جیسے تیسے کر کے وہ ادا کیے اور بچے کا علاج شروع کروایا۔

شروع شروع میں ہم نے بچے میں حیرت انگیز بہتری دیکھی۔ اس کی ہائپر ایکٹیویٹی یک دم کم ہو گئی اور وہ پرسکون رہنے لگا۔ اس سے ہماری زندگی میں گویا ایک چھوٹا سا انقلاب آ گیا۔ اب وہ دوا کے زیر اثر ہمارے ساتھ ہی سو جاتا اور صبح اٹھ جاتا۔ ڈاکٹر نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ مکمل علاج کے بعد بچہ ذہنی اعتبار سے بھی نارمل ہو جائے گا اور بہت جلد بولنے لگے گا۔ ہم میاں بیوی بے چینی سے اس لمحے کا انتظار کر نے لگے۔ علاج کا تیسرا ہفتہ شروع ہو گیا۔ حسب معمول ایک روز میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے کلینک میں ٹیکہ لگوانے بیٹھا تھا کہ اچانک محکمہ صحت کے اہلکاروں نے وہاں چھاپہ مارا اور کلینک سر بمہر کر دیا۔ ڈاکٹر کو پولیس گرفتار کر کے لے گئی اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی کہ وہ جعلی ڈاکٹر ہے جو بچوں کو افیون کے ٹیکے لگاتا ہے۔ آپ یقین کریں اس روز میرا دل کیا کہ میں چیخ چیخ کر آسمان سے فریاد کروں کہ یہ میرے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔

میری بیوی کا بھی رو رو کر برا حال ہو گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ ڈاکٹر ضمانت پر رہا ہو گیا۔ اس کے خلاف آج بھی دھوکہ دہی اور فراڈ وغیرہ کے پرچے ہیں مگر وہ کھلے عام پھرتا ہے اور شاید آج کل کسی اور شہر میں کلینک چلا رہا ہے۔ میرا بیٹا اب سولہ سال کا ہے، وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا، میری بیوی اور بیٹی اسے نہیں سنبھال سکتے۔ دفتر سے لوٹنے کے بعد میرا تمام وقت اس کی دیکھ بھال میں گزر جاتا ہے، میں اس دوران کوئی فون سن سکتا ہوں اور نہ کسی سے مل سکتا ہوں۔ دو چار ماہ بعد جب مجھے کوئی ایسا موقع ملتا ہے کہ میں کچھ دیر کے لیے دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں تو میں آپ کے پاس آ جاتا ہوں۔ آج آپ نے روپوشی کی وجہ پوچھی ہے تو میں نے بتا دی ہے۔“

میرے دوست کی بات ختم ہو گئی تو میں نے سوچا کہ اب میں اسے کیا کہوں، کون سا مشورہ دوں، کس طرح سے اس کی دل جوئی کروں، کچھ بھی تو نہیں میرے پاس۔ میرے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ اپنے کالم کے ذریعے حکومت کو تجویز دوں کہ جعلی ڈاکٹروں کے خلاف موجودہ قانون میں سقم دور کر کے اسے سخت بنایا جائے تاکہ ایسے بھیانک جرم کی سزا سے کوئی بچ نہ سکے۔ دوسری درخواست میری اس ملک کے صاحب حیثیت اور درد دل رکھنے والے لوگوں سے ہے کہ اگر ہو سکے تو آٹزم کے بچوں کے لیے کوئی ادارہ بنا دیں جہاں ایسے بچوں کا علاج ہو سکے، میری معلومات کے مطابق ADHD کے شکار بچوں کے علاج کا کوئی ادارہ اس وقت ملک میں نہیں۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ یہ کام کر جائے تو ان معصوم بچوں کی دعاؤں سے وہ شخص جنت میں کئی محلات کا مالک بن جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 172 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada