مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا بل دوبارہ مسترد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا بل، سینیٹ کے مذہبی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے وہی پرانے الفاظ دہراتے ہوئے مسترد کر دیا جو انہوں نے ستمبر 2020 کو کہے تھے کہ اقلیتوں کو ملک میں پہلے ہی آزادی حاصل ہے، نئے قانون کی ضرورت نہیں۔ پہلی بار جب یہ بل 2020 میں مسترد ہوا تو اس پر اقلیتی حلقوں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں جب سینیٹر کامران مائیکل سے رابطہ کیا گیا۔ تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل دراصل انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کا معاملہ تھا تو سینیٹ نے اسے مذہبی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ جلد ہی اسے دوبار سینیٹ میں لایا جائے اور انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کوہی بھیجا جائے۔ جہاں تمام انسانی حقوق کے علمبردار موجود ہوں۔ اس کمیٹی میں وہ خود بھی ہیں۔ مگر اس بار بھی وہی غلطی دہرائی گئی یہ غلطی دانستہ تھی یا نا دانستہ۔ اس بل کو پھر مذہبی امور کی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ سینیٹر غفور حیدری کا یہ کہنا کہ مروجہ قوانین اور بل میں شامل سفارشات پہلے ہی سے پاکستان کے آئین میں موجود ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کو سینیٹ میں پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیا سینیٹ کو یہ بات معلوم نہیں؟ یا کیا سینیٹر جاوید عباسی ان قوانین سے بے خبر ہیں؟ اور ان قوانین پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟

غور طلب بات یہ ہے کہ جبری تبدیلی مذہب، کم عمر کی جبری شادیاں اقلیتوں کے لئے کسی بہت بڑے عذاب سے کم نہیں۔ جان و مال کی حفاظت، اقلیتوں کی عادت گاہوں کی حفاظت اور تحفظ فراہم کرنے والی ایجنسیاں عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں اور کورٹ کا راستہ اختیار کرنے سے بھی انصاف نہیں مل رہا۔ مولانا عبدالغفور حیدری صاحب کا تعلق جمعیت علما اسلام ف سے ہے۔ صوبہ بلوچستان سے بہت سے مسیحی ان کی جماعت کے رکن ہیں۔ محترمہ آسیہ ناصرکا تعلق اسی جماعت سے ہے جو تین دفعہ قومی اسمبلی کی ممبر رہ چکی ہیں اور اب بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ اس لئے مولانا عبدالغفور حیدری سے اس کی توقع نہیں تھی۔

مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا بل مسترد ہونے کے موقع پر سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے رکن سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے صورت حال تسلی بخش نہیں۔ جس کا ثبو ت خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ہندوؤں کے مندر کی توسیع کی روک تھام اور توڑ پھوڑ کا حالیہ واقعہ ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر کرشنا کماری نے بھی کمیٹی کی طرف سے بل کو مسترد کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں جبری تبدیلی مذہب کی علاوہ بھی کئی اہم امور شامل تھے۔ جنہیں کمیٹی نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سخت افسوس ہے کہ ہمارے مندروں پر حملے ہوتے ہیں جس کے پیچھے کچھ شرپسند عناصر ہیں جو پاکستان کو بدنام کرنے میں لگے ہیں۔ ہم ان تمام چیزوں کی روک تھام کے لیے بل لا رہے تھے۔ سینیٹر کشوبائی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اس بل میں تعلیمی نصاب کا امر بھی شامل ہے جس نے معاشرے میں نفرتیں اور بین المذاہب میں دوریاں پیدا کرنے کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ دیا۔

جس کی حالیہ مثال 2020۔ 2021 کی ٹیکسٹ بل پنجاب لاہور جماعت دوئم کی اردو کی کتاب ہے۔ جس میں مسیحی کو عیسائی لکھا گیا اور جوزف کو کالا بتایا گیا اور یہ بھی جتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بہت سے لوگ مسیحیوں کے ساتھ کھانا کھانا پسند نہیں کرتے۔ اس پر پنجاب اسمبلی کے رکن طاہر خلیل سندھو نے اسمبلی کے فلور پر آواز بلند کی۔ مگر اقلیتوں کے تحفظ کابل مسترد ہونے پر کسی بھی مسیحی لیڈر نے احتجاج تو دور کی بات، کوئی بیان تک نہیں دیا۔

اس پر خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے۔ ایک مسیحی لیڈر کا یہ کہنا کہ بل میں کیا تھا۔ انہیں کچھ خبر نہیں اور یہ بھی کہ اس بل کو مسلم لیگ نون کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا ہے۔ یہ بالکل بچگانہ سوچ ہے اور قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جس قوم کے لیڈر بے خبری کی گہری نیند سو رہے ہوں۔ وہ قومیں غلامی کی زندگی ہی بسر کیا کرتی ہیں۔ اقلیتوں کے تحفظ کے بل کو ایک بار پھر دہرا دیتے ہیں یہ نیا نہیں تھا بلکہ 2020 کی مروجہ کاپی ہی تھی۔

قارئین کرام کی خدمت میں بل کو مختصر بیا ن کیے دیتے ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب، کم عمر کی بین المذاہب شادی کو جبری تصور کرنا۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور توہین آمیز مواد تعلیمی نصاب کا حصہ نہ ہونا۔ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے پر ایک سال سزا اور 25 ہزار روپے جرمانہ۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ۔ ان کے ورثے کا تحفظ اور ان کی جائیداد کے تحفظ سمیت کئی دیگر امور تھے۔ کیا یہ بل غلط ہے۔ کیا اقلیتوں کے خلاف مندرجہ ذیل سلوک روا رکھا نہیں جا رہا۔

دراصل غفور حیدری اور ان جسے بہت سے مذہبی فوبیا زدہ مذہبی رہنما نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اقلیتیں سکھ کا سانس لیں۔ وزیراعظم عمران خان نے دو دفعہ اقوام متحدہ سے خطاب کیا اور اکثر جب بھی انہیں موقع ملتا ہے تو وہ بر ملا یورپ اور مغربی ممالک کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ انہوں نے اسلامو فوبیا کو فروغ دیا ہے۔ اور ریاست مدینہ کی مثال دیتے ہیں مگر پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اس کا تدارک کرنے کوشش ہرگز نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے اقلیتی فوبیا کے خاتمے کے لئے کوئی قابل ذکر قدم اٹھایا ہے۔

جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب مہربانی سے مدینہ کی ریاست کا ذکر بار بار کرنے کی بجائے مدینہ کی ریاست کی بنیاد ڈالنے میں دیر نہ کریں۔ لوگ بھوک سے پریشان ہیں۔ ملک اس وقت بد حالی کا شکار ہے۔ ملک نفرتوں اور مذہبی انتہا پسندی کا شکا ر ہے۔ کسی کمزور کمیونٹی پر ظلم ہو رہا ہے اور اظہار ہمدردی پر بھی شرائط عائد ہیں۔ جب ریاست کے سربراہ کو ہی اپنے ملک کی اقلیتوں سے کوئی دلچسپی نہ ہو گی تو اقلیتوں کے تحفظ کے بل مسترد ہوتے ہی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply