چوہدری شجاعت کے بیٹے چوہدری سالک نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو وٹس ایپ میسیج کیا: غریدہ فاروقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک نے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا۔ خاتون صحافی غریدہ فاروقی کے مطابق چوہدری شجاعت کے بیٹے چوہدری سالک نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو وٹس ایپ میسیج کیا کہ انہیں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ترقیاتی فنڈز ملے ہیں۔

غریدہ فاروقی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ذرائع کے مطابق چوہدری سالک نے ثبوت بھی وٹس ایپ کیے۔ سپریم کورٹ کیس میں آج وزیراعظم عمران خان نے جواب جمع کروایا تھا کہ فنڈز کی خبر غلط تھی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا مقدمہ نمٹا دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ سیکٹری خزانہ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جس میں وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی خبر کی تردید کر دی۔

لیکن اٹارنی جنرل نے وزیراعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کر دیا۔ جس پر دوران سماعت جسٹس قاضی فائر عیسٰی نے کہا کہ مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں، حلقہ این اے 65 میں حکومتی اتحادی کو فنڈز جاری کیے گئے ہیں، این اے 65 کا رکن حکومت کی اتحادی پارٹی کا ہے۔ کیا سڑک کی تعمیر کے لیے مخصوص حلقوں کو فنڈز دیئے جا سکتے ہیں؟ کیا حلقے میں سڑک کےلیے فنڈز دینا قانون کے مطابق ہے؟ ہم دشمن نہیں، عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں۔ امید ہے آپ بھی چاہیں گے کہ کرپشن پر مبنی اقدامات نہ ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس کے دوران سوال اُٹھایا کہ کیا وزیرِاعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ جو اعتراض آج کر رہے ہیں وہ کل کیوں نہیں کیا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی سوال کسی بھی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے، کسی رکن اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے جا سکتے۔ سماعت میں جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ میرے خلاف ٹویٹس کی بھرمار ہو رہی ہے، کیا کرپٹ پریکٹس کے خلاف اقدامات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں، معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو سیاسی اقدامات پر آئینی تحفظ حاصل ہے یا نہیں، ماضی میں عدالتیں وزرائے اعظم کو طلب کرتی رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کا جواب کافی مدلل ہے، جسٹس فائز اور وزیراعظم ایک مقدمہ میں فریق ہیں، ہم وزیراعظم آفس کنٹرول کرنے نہیں بیٹھے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم کا جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کا مقدمہ نمٹا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply