کیا ریاست مدینہ کا نام لینا ہی کافی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


لفظ ”ریاست مدینہ“ کی طرح کے دیگر الفاظ مثلاً فلاحی مملکت، اسلامی جمہوریہ، عوام کی حکومت وغیرہ وغیرہ، ماضی میں تواتر سے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ لہٰذا یہ نیا لفظ ’ریاست مدینہ‘ اپنے نتائج اور طریقہ واردات کے اعتبار سے نیا نہیں، لفظی اعتبار سے شاید نیا ہو۔ لیکن ریاست کو لفظوں کے طلسم سے تو قائم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ریاست ایک مادی حقیقت ہوتی ہے ، جسے مادی بنیادوں کے بغیر قائم کرنا فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔

25 اگست 1986 کو روزنامہ جنگ میں اکبر علی ایم اے کا کالم چھپا، جس میں انہوں نے مملکت کے مختلف مدارج گنوائے ہیں جن پر چل کر ہی کوئی مملکت فلاحی اور کوئی ریاست ’ریاست مدینہ‘ بن سکتی ہے۔ اگر گنوائے گئے مدارج پر کوئی ریاست پورا نہیں اترتی تو نام نیا رکھنے کے باوجود بھی ریاست گھسی پٹی ہی رہے گی۔ انہوں نے فلاحی مملکت کی بنیادی ضرورت انصاف کو قرار دیا ہے کیونکہ یہ اعلیٰ سطح کی بنیادی انسانی ضرورت ہے، اس کے بغیر باقی ضروریات کی سطح بلند نہیں کی جا سکتی۔

لہٰذا ’ریاست مدینہ‘ کو چاہیے کہ سماجی انصاف کے حصول کے لیے بھاری منافع کی ہوس میں جاری سرمایہ دارانہ اور سامراجی تجارت کی روک تھام کرے۔ تجارت میں پیداوار کا باعث بننے والے محنت کشوں اور صارفین کے درمیان صنعت کاروں، بینکاروں، تھوک فروشوں، ڈائریکٹروں، دلالوں اور پرچون فروشوں کے جتنے زیادہ طبقات ہوں گے ، پیداواری قوتوں کے استحصال میں اتنا ہی اضافہ ہو گا اور وہ سماجی انصاف سے اسی نسبت سے محروم رہیں گے۔

’ریاست مدینہ‘ سے التماس ہے کہ پیداواری قوتوں اور صارفین کو براہ راست مربوط کرنے کی کوشش کرے اس طرح سے حاصل ہونے والا منافع پیداواری محنت کاروں کی بہبود و ترقی پر خرچ ہو گا اور پھر ہو سکتا ہے کہ ’ریاست مدینہ‘ والی اصطلاح بھی اپنے مفہموم پر صادق آ جائے۔

ریاست مدینہ کی دوسری نمایاں خصوصیت انسانی اذیتوں میں کمی کرنا ہے۔ اس لحاظ سے وہاں جرائم کے محرکات کو ختم کرنے کے بعد سزاؤں کا خاتمہ ہے کیونکہ فلاحی مملکت انتقام پر نہیں بلکہ اصلاح پر مبنی ہوتی ہے۔ فلاحی مملکت میں سزا بذات خود ایک سرکاری جرم تصور کیا جاتا ہے۔ فلاحی مملکت میں جیلوں کو سکولوں اور ورکشاپوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ انسان کو باوقار اور باعزت شہری بننے کے لیے ہر قسم کی مالی، سماجی اور نفسیاتی امداد مہیا کی جاتی ہے۔

کسی بھی فلاحی ریاست یا ’ریاست مدینہ‘ کا مشن ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ آپ کی ریاست کو کس حد تک ریاست مدینہ بنایا گیا ہے یہ دیکھ لیں کہ جدوجہد کا رخ انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی طرف ہوا ہے اور کس حد تک دوسری طرف۔ محروم طبقات کی مجبوریوں میں اضافہ ہوا ہے یا کمی۔ سامراجی گرفت مضبوط ہوئی ہے یا کمزور۔ محروم طبقات میں کمی ہو رہی ہے یا اضافہ۔ انسانی اذیتوں کو سوداگری کے لیے استعمال میں کیا جا رہا ہے یا ان سے نجات کی راہیں کھولی جا رہی ہیں۔ تعلیم استحصال کے خلاف ہے یا حق میں۔ عوام کو رعیت سمجھا جاتا ہے یا شہری اور سب سے بڑھ کر فلاحی مقاصد کے حصول کے لیے منصوبے بنیادی صنعتوں کے حق میں بنائے جاتے ہیں یا ان کے خلاف کیونکہ بقول اکبر علی کسی بھی ریاست کو اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے بڑی سے بڑی صنعتی بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply