ہر شاخ پہ ’منقول’ بیٹھا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اکثر فیس بک پر ’منقول‘ کے حوالے سے لکھی ہوئی بہت سی پوسٹیں پڑھتا ہوں۔ کچھ ایسی پوسٹیں واٹس ایپ کے ذریعے بھی پہنچتی ہیں۔ تحقیق کی زبان میں صرف کاپی لکھ دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ آپ اگر کسی کی شائع کردہ تحریر کو اپنے نام سے منسوب کریں تو آپ بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں۔ بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں آپ کی ڈگری تک ضبط ہو جاتی ہے۔ خیر، یہ کام ہمارے ملک میں ایک معمول ہے، جوں جوں آپ عہدے تعلیم میں اوپر کی صفوں کی تفتیش کریں تو ایسی چیزیں بہت نمایاں ہو کے سامنے آتی ہیں۔

میرا ’ہم سب‘ کا ایک بلاگ (محقق سے پراپرٹی ڈیلر تک کا سفر) ایک صاحب اپنی فیس بک وال پر پوسٹ کر کے داد وصول کر رہے تھے۔ میں نے کمنٹ سکیشن میں جا کر اصل لنک شیئر کر دیا۔ موصوف بگڑ گئے اور کہنے لگے ہم نے نیچے ’منقول‘ لکھ دیا تھا۔

میں نے حیرت سے کہا کہ آپ نے کتنی محنت سے پورے بلاگ کو ہم سب کی ویب سائیٹ سے کاپی کر کے اپنی فیس بک وال پر پوسٹ کر دیا اور ہمارے احتجاج پر پوسٹ ایڈٹ کر کے نیچے منقول لکھ دیا، حالانکہ آپ لنک شیئر کر سکتے تھے۔ میرا نام لکھ سکتے تھے۔ کہنے لگے یہ کوئی تمہارا سائنسی مقالہ نہیں تھا کہ نام لکھا جاتا۔ موصوف کی فیس بک پروفائل پہ تعلیم ڈاکٹریٹ فوڈ سائنسز اور نوکری کی جگہ گومل یونیورسٹی، اسسٹنٹ پروفیسر لکھا ہوا ہے۔ اگر ایک ریسرچر کو بھی تحقیقی اخلاقیات کا اندازہ نہیں ہے تو پھر باقی لوگوں کا اللہ ہی حافظ ہے ‌۔ خیر یہ منقولیے نیچے سے لے کر اوپر تک موجود ہیں۔

جیسے ہر حکومت پہلی حکومت کے بنائے ہوئے پراجیکٹس پر اپنی تختیاں لگاتی ہے ‌۔ ہماری ہر سیاسی لیڈر شپ ہمیشہ سے ’منقول‘ ہی ہے، جو بتاتی یہ ہے کہ ہم آپ کے چچا ہیں۔ جب حکومت مل جائے تو پھوپھو نکلتی ہیں۔ جب کہو، کہ آپ نے کہا تھا کہ آپ چچا ہیں؟ تو جواب ملتا ہے، ہماری مونچھیں پہلی حکومت لے گئی، ورنہ ہم چچا ہی تھے ‌۔ اگر زیادہ زور دیں تو بہت ممکن ہے کسی ریٹائرڈ حوالدار کی تگڑی مونچھیں ادھار لے کر سوال کرنے والے کو دھمکانا شروع کر دیں۔

تازہ مثال اساتذہ کی پکڑ دھکڑ ، مکے تھپڑ اور آنسو گیس شیلنگ ہم سب کے سامنے ہے۔ بعض اوقات سلیکٹرز لوگ ’منقول‘ کو ٹیلنٹڈ سمجھ کر اہم کام سونپ دیتے ہیں ‌۔ پھر ان کا حال ’سانپ کے منہ میں چھچھوندر اگلے تو اندھا، نگلے تو کوڑی‘ والا ہو جاتا ہے۔ یہ منقول ہر جگہ بھیس بدل کے بیٹھے ہیں۔ جیسے دل کے ہسپتال کو چلانے کے لیے ڈینٹل ڈاکٹر کو منیجمنٹ دے دی جائے۔ ہوتا وہ ڈینٹل ڈاکٹر ہے،اسے دل کے مرض کی شدت کا علم‌ نہیں ہوتا، ہر کسی کے دل کے درد کو وہ دانت کے درد جتنا شدید سمجھ کے صحت مند قرار دے کر گھر بھیجتا ہے، دل کے مریض مرتے جاتے ہیں مگر ڈینٹل ڈاکٹر یہی سمجھتا ہے کہ دانت کے درد سے کوئی نہیں مرتا۔

ہمارے دوست محترم توقیر رانجھا صاحب نے ایک کیس سٹڈی بتائی ہے۔ رانجھا صاحب ینگ انجنیئرنگ ٹیکنالوجسٹ اسلام آباد چیپٹر کے صدر ہی‍ں۔ انہوں نے میرے ساتھ انجنیئرنگ اینڈ پراجیکٹ منیجمنٹ میں ایم فل کیا تھا۔ وہیں دوستی ہوئی جو پختہ ہوتے ہوتے اس حد تک چلی گئی کہ اب بالکل عزت نہیں بچی۔ محبت اس طرح ہے کہ ہفتہ شکل نہ دیکھیں تو سود سمیت واپسی کے لیے گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دن کال کر رہے تھے مگر جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

ہم نے واٹس ایپ کے ذریعے مخصوص الفاظ وائس میسج میں بھیجے۔ موصوف جٹ ہیں، جواب دینے کے لیے ہمیں گھر سے اٹھا کر مارگلہ گراؤنڈ ایف سیون لے گئے۔ جب استفسار کیا تو بتایا کہ ٹیکنالوجسٹ کے مسائل کے لیے سینیٹ کابینہ کی میٹنگ تھی۔ جس میں انہیں اسلام آباد چیپٹر کے صدر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس میں ٹیکنالوجسٹ کے چیئرمین کو بھی بلایا گیا تھا۔ یہ چیئرمین صاحب بھی ’منقول‘ ہیں۔ وہ بھیڑیا ہو کے بھیڑوں کے حقوق کے لیے بیٹھے ہیں۔

یعنی چیئرمین صاحب بی ایس سی انجنیئرنگ کر کے بی ٹیک والوں کے حقوق کی بات کر رہے ہی‍ں۔ نیشنل ٹیکنالوجسٹ کمیشن اس لیے قائم کیا گیا کہ وہ ٹیکنالوجسٹ کو بی ایس انجنیئرنگ کے برابر حقوق دلوا سکے۔ ٹیکنالوجسٹ کے ٹائم سکیل پروموشنز، چار سالہ بی ٹیک کو سولہ تعلیم کے مطابق سہولیات دی جائیں۔ کابینہ کی میٹنگ میں بریفنگ کے دوران چیئرمین صاحب بی ٹیک کو ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجنیئرنگ کے برابر بتا رہے تھے۔

وہ تو اللہ بھلا کرے ٹیکنالوجسٹ کے صدر محترم رانجھا صاحب کا، جنہوں نے کابینہ کو بتایا کہ ڈپلومہ انٹرمیڈیٹ کے برابر تین سالہ ڈگری ہے، جبکہ بی ٹیک چارسالہ ڈگری اس کے بعد کی جاتی ہے، جیسے بی ایس سی انجنیئرنگ ایف ایس سی کے بعد کی جاتی ہے۔ اس پوائنٹ کے بعد کابینہ نے چیئرمین کی کرسی کو چیلنج کیا اور اس چیز پہ زور دیا کہ کیسے ایک انجینئر ٹیکنالوجسٹ کی کرسی پہ بیٹھا ہے ۔ اس قدر نا انصافی پہ جب کابینہ نے توپوں کا رخ چیئرمین کی کرسی طرف کیا تو ’منقول‘ چیئرمین صاحب نے کہا ہے کہ ان کی کرسی تین سال پہلے سے عدالت میں چیلنج ہوئی ہے۔ اس لیے عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ اس کے بعد کابینہ کنفیوژن کا شکار ہوتے ہوئے اگلی میٹنگ کی کال پہ چلی گئی‌۔

دراصل ملک خداداد ’منقولوں‘ کے ہاتھوں بری طرح یرغمال ہو چکا ہے ‌۔ ہر اہم کرسی پہ منقول بیٹھا ہے، جو اپنی قبیل کے منقولوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے ‌۔ میرا ہر اس منقول شخص سے سوال ہے کہ کیوں عام لوگوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتے ہو؟ کیوں لوگوں کی محنت کا کریڈٹ لیتے ہو؟ لعنت ہے ایسے تمام منقول گدھوں پہ جو شیروں کے شکار کو چوری کرتے ہیں۔ اس سے بڑی لعنت ان سلیکٹرز کے عقل و شعور پہ ہے، جو ان گدھوں کو شاہین سمجھ کے تاج سر دارا دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply