تھر پارکر کے اونٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھرپارکر میں اونٹ کی سواری ماضی کا قصہ بن گئی،

صحرائے تھر کا شمار دنیا کے چند بڑے صحراؤں میں سے ہوتا ہے، پاکستان کا ضلع تھر اپنی رنگا رنگ اور منفرد ثقافت اور ایک خاص رعنائی کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے، چنانچہ بات کریں یہاں کے لوگوں کی تو جتنے باہر سے سادہ مزاج ہیں، اتنے ہی اندر سے نرم مزاج رکھتے ہیں، صحرائے تھر کے باسیوں کا انسانوں کے ساتھ سلوک ویسے ہی شاہانہ ہے، اسی سبب مہمان نوازی کے حوالے سے تھر پورے ہند و سندھ میں مشہور ہے۔ مگر جانوروں سے بھی یہاں بے تحاشا محبت کی جاتی ہے، اس کا ایک اہم سبب یے کہ ان کا کام کاج و گزر بسر مال مویشی پر ہوتا ہے، ویسے بھی یہاں کے لوگوں کا محبوب مشغلہ مویشی پالنا تھا، جو کہ اب وہ مشغلہ کہیں یا شوق پر آہستہ آہستہ اختتام پذیر ہوتا جا رہا ہے، مویشی میں تھر کے باسی اونٹ بڑے شوق سے پالتے تھے، ان کا ماننا تھا کہ جس تھری کے گھر میں اونٹ نہ ہو تو اس کے گھر کی خوبصورتی ادھوری ہوتی ہے، صحرا کے باسی اونٹوں سے بے تحاشا پیار کرتے تھے۔

وہ اونٹوں سے کچے راستوں اور ریتیلے ٹیلوں سے وزن اٹھانے اور سواری کا کام حاصل کرتے تھے، شوقین و رنگین مزاج افراد اونٹوں کو رقص کرنے کی تربیت بھی دیتے تھے، میلوں میں اونٹوں کو سجا کر ان کی نمائش کرتے تھے، اونٹوں کی ریس لگاتے تھے، اونٹوں کو رقص کرواتے تھے اونٹوں کا رقص دیکھنے کے لیے تھر سمیت سندھ سے شوقین افراد آتے تھے، مگر اب یے رجحان کم پڑ گیا ہے، اس کے علاوہ لوگوں کی اکثریت اونٹنی کا دودھ شوق سے استعمال کرتی تھی، ان کا ماننا تھا کہ اونٹ کا دودھ مختلف بیماریوں جیسے شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے،

اونٹ کا تھرپارکر سے قدیم زمانے سے رشتہ تھا، مگر افسوس کہ وقت کے بے رحمی اور ضروریات کو دیکھتے تھر باسیوں نے اونٹ کو پالنا و خریدنا اب چھوڑ دیا ہے، اونٹوں کی جگہ اب گاڑیوں نے لے لی ہے سواری سمیت وزن اٹھانے کا کام اب گاڑیوں پر چھوڑ دیا گیا ہے، تاہم جہاں روڈ نہیں وہاں بھی اب فور ویلز گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

صحرائے تھر میں اب اونٹ اور اونٹوں کو پالنے ان کا شوق رکھنے والے انگلیوں پر گننے جا سکتے ہیں، اونٹوں کے خاتمے کے کا اہم سبب ایران کی منڈیوں میں اونٹوں کے قمیت بڑھنے سے یہاں فروخت میں تیزی آئی اور ایک دم سے قیمت بڑھتی دیکھ کر اور مجبوریوں کو مد نظر رکھتے کئی لوگوں نے اونٹ فروخت کر دیے، مگر ان کی دلوں میں اونٹوں کے لیے محبت وہی برقرار ہے، آج بھی اپنے ماضی میں جھانکتے ہیں تو اونٹوں کی سواری اور اپنے بیتے وقت کو یاد کرتے ہیں ان کی آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں۔

Latest posts by صدام بجیر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صدام بجیر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply