چیف جسٹس گلزار احمد صدارتی ریفرنس کیس سے علیحدہ ہوجائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا معاملہ نمٹاتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی یقین دہانی کے بعد یہ معاملہ نمٹانے کا فیصلہ کیا اور کیس بند کردیا گیا۔ انہوں نے کیس نمٹاتے ہوئے پانچ رکنی بنچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حکم دیا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کسی مقدمہ کی سماعت سے گریز کریں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزارت خزانہ کی اس تردید کے بعد کہ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دیے گئے ہیں ، اپنے واٹس ایپ پر موصول ہونے والی بعض دستاویزات بنچ کے ارکان اور اٹارنی جنرل میں تقسیم کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین ہونا چاہئے کہ یہ دستاویزات کس حد تک درست ہیں ۔ اور کیا واقعی اپنے حامی ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر رقوم تقسیم ہوئی ہیں۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات چونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے واٹس ایپ پر آئی ہیں اور انہوں نے انہیں تقسیم کیا ہے، اس لئے وہ اس معاملہ میں فریق ہیں۔ انہیں اس بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ اس معاملہ میں شکایت کنندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اٹارنی جنرل دستاویزات دیکھیں اور بتائیں کہ یہ درست ہیں یا نہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

چیف جسٹس نے مختصر تحریری حکم میں یہ بھی کہا کہ’ واٹس ایپ دستاویزات پیش کرنے سے جسٹس فائز عیسیٰ ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف درخواست کنندہ ہوگئے ہیں۔ اس لیے غیر جانبداری کے اصولوں کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں ایسے معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے جو کہ وزیراعظم عمران خان سے متعلق ہوں‘۔ یہ انتہائی غیر معمولی حکم ایک مختصر فیصلہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے پر ہی واضح ہوگا کہ اس معاملہ میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور بنچ کے دیگر ارکان کا کیا مؤقف ہے۔ یہ صورت حال البتہ سپریم کورٹ کے ججوں میں قانونی اختلاف سے بڑھ کر ذاتی پسند اور ناپسند کے معاملہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ چیف جسٹس تفصیلی فیصلہ میں قانونی دلائل اور نظائر سے واضح کریں گے کہ انہیں یہ مشورہ یا حکم دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

بادی النظر میں چیف جسٹس کا یہ حکم حکومت وقت کو غیر معمولی ریلیف دینے اور عدالت عظمی کے ایک فاضل جج کی نیت کو مشکوک بنانے کا باعث بنے گا۔ یہ دونوں تاثرات سپریم کورٹ کی خود مختاری اور ججوں کے درمیان احترام کے تعلق کے بارے میں شبہات پیدا کریں گے۔ قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عدالتی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر موجود نہیں ہے کہ کوئی چیف جسٹس ، کسی دوسرے جج کو کسی خاص معاملہ یا کسی خاص عہدیدار یا فرد کے خلاف مقدمہ سننے سے روک دے یا اسے یہ مشورہ دے کہ وہ کسی خاص شخص کے بارے میں غیر جانبدار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کا منصب اتنا ذی وقار ہوتا ہے کہ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کوئی جج خود ہی کرسکتا ہے کہ وہ کس معاملہ میں جج کے طور پر سماعت نہیں کرسکتا۔ کسی دوسرے جج کو نہ تو یہ مشورہ دینے کا حق ہے اور نہ ہی کوئی چیف جسٹس اپنے ہم منصب ایک جج کو کسی خاص معاملہ میں منصف بننے سے روک سکتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی اس آبزرویشن کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کی بجائے خود جسٹس گلزار احمد کی پوزیشن مشکوک اور جانبدار ہوگئی ہے۔ وہ ایک ایسے جج کو وزیر اعظم یا دوسرے لفظوں میں حکومت کے خلاف مقدمہ کی سماعت سے روکنے کا سبب بنے ہیں جو واضح طور سے حکومت کے نشانے پر ہے۔ ان کے خلاف نہ صرف یہ کہ صدارتی ریفرنس بھجوایا گیا تھا بلکہ متعدد وزیروں نے ان کے خلاف سخت بیانات بھی جاری کئے تھے۔ یہ صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کا ایک لارجر بنچ مسترد کرچکا ہے۔ اس طرح جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کا عناد اور تعصب واضح اور ثابت شدہ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کوئی ایسا بیان جاری نہیں کیا ، نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عمران خان کو آؤٹ آف میرٹ نشانہ بنایا ہو ۔ تاہم چیف جسٹس گلزار احمد نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی غیر آئینی تقسیم کے معاملہ کو اچانک سمیٹنے میں جو عجلت دکھائی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے جس طرح جلد بازی میں انہیں ’شکایت کنندہ یا فریق‘ قرار دیا ہے، اس سے چیف جسٹس کا حکومت کی طرف جھکاؤ واضح طور سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔

عدالت میں اس معاملہ پر ابھی غور ہورہا تھا۔ اٹارنی جنرل اپنا مؤقف پیش کررہے تھے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو اختلاف تھا۔ چیف جسٹس نے اپنے حکم میں اٹارنی جنرل کے مؤقف کی بالواسطہ تائید کی ہے۔ بطور جج انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس وضاحت یا دلیل کو قبول کریں لیکن انہیں کسی دوسرے جج کی رائے پر شبہ کا اظہار کرنے اور اٹارنی جنرل کے مقابلے میں بنچ میں شامل ایک فاضل جج کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے انہیں ’فریق‘ قرار دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اٹارنی جنرل اگر ابھی اپنی بات مکمل کر لیتے تو بنچ کے دیگر ارکان کے سوالات کے جوابات بھی سامنے آجاتے۔ چیف جسٹس کی طرف سے مقدمہ سمیٹنے کی عجلت نے شکوک و شبہات کا غبار پیدا کیا ہے ۔ اس طرح سپریم کورٹ کی پہلے سے مشکوک شہرت پر مزید سنگین سوالات اٹھیں گے ۔

ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کے بارے میں ایک اہم مقدمہ کو اچا نک ختم کرنے کے علاوہ چیف جسٹس نے یہ رائے دینا بھی ضروری سمجھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیر اعظم عمران خان کے کسی معاملہ میں جج نہیں بننا چاہئے۔ یہ رویہ صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پوزیشن مشتبہ بنانے کے مترادف نہیں ہے بلکہ اسے بنچ میں شامل باقی ججوں کی توہین بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پاکستانی سیاست میں ایک سنگین اور اہم مسئلہ رہا ہے ۔ حکومتیں انہیں ارکان اسمبلی کو سیاسی رشوت کے طور پر فراہم کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومتوں پر یہ الزام سامنے آنے کے بعد ضروری تھا کہ اس معاملہ کی تہ تک پہنچا جاتا اور معاملہ کی سماعت کو تمام ججوں کے اطمینان کے مطابق مناسب وقت فراہم ہوتا۔ نہ جانے چیف جسٹس کو کس بات کی عجلت تھی۔ اگر چیف جسٹس کی قلبی کیفیت کے بارے میں ویسا ہی رویہ اختیار کیا جائے جس کا مظاہرہ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں کیا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی مرکزی اور پنجاب حکومت کو کسی بھی طرح اس معاملہ سے بچانا چاہتے تھے۔

یہ معاملہ دو طرح سے زیادہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ ایک یہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملہ پر تمام حقائق منظر عام پر نہیں آنے دیے گئے اور چیف جسٹس نے حکومت کے بیان کو کافی سمجھ کر معاملہ سمیٹنا اہم سمجھا۔ حالانکہ ترقیاتی فنڈز کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی شکایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کو سینیٹ انتخاب میں سخت مقابلہ کا سامنا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اس انتخاب میں زیادہ سے زیادہ کامیابی سمیٹنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم کئی ہفتے سے ارکان اسمبلی پر سینیٹ انتخاب میں رشوت لے کرووٹ دینے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ اس الزام تراشی کے ذریعے دراصل وہ اپنی پارٹی کے ان ارکان پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو سینیٹ انتخاب میں امید واروں کے بارے میں عمران خان کی پسند اور انتخاب سے مطمئن نہیں ہیں ۔ قیاس یہ ہے کہ اگر عمران خان اپنی مرضی کے لوگوں کو امید وار بنانے پر بضد رہے تو خاص طور سے پنجاب اسمبلی اور اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر پارٹی صفوں میں توڑ پھوڑ دیکھنے میں آسکتی ہے۔ اس صورت حال میں ارکان اسمبلی کو ’خوش‘ کرنے کے لئے ترقیاتی فنڈز سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنا معمول کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری طرف سینیٹ میں اوپن ووٹنگ کے بارے میں عمران خان اور حکومت نے دو ٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ وہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے آئینی ترمیم تو نہیں کروا سکتی لیکن ایک آئینی تقاضے کو نظر انداز کرنے کے لئے صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کا مشورہ ضرور مانگا گیا ہے۔ اس حوالے سے چونکہ صدارتی آرڈی ننس بھی جاری ہوچکا ہے، اس لئے اب اس ریفرنس کو مشورہ مانگنے کا نام دینے کی بجائے ، یہی سمجھنا چاہئے کہ حکومت سپریم کورٹ سے اس معاملہ میں ’سیاسی مدد ‘مانگ رہی ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد اس بنچ کے بھی سربراہ ہیں جو اس ریفرنس پر فیصلہ صادر کرے گا۔ سپریم کورٹ کا مثبت فیصلہ اور آئین کی شق 226 کو نظر انداز کرتے ہوئے سینیٹ انتخاب اوپن بیلیٹ سے کروانے کی اجازت ، تحریک انصاف اور عمران خان کو نئی سیاسی زندگی فراہم کرسکتی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ترقیاتی فنڈ کیس میں آج جو کردار ادا کیا ہے اور جس طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ’وزیر اعظم مخالف‘ ثابت کیا ہے، اس کے بعد وہ خود عمران خان کے ’دوست ‘کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد انہیں صدارتی ریفرنس کیس میں بنچ سے علیحدہ ہوجانا چاہئے۔ ان کی سربراہی میں اس بنچ کے فیصلے پر شکوک و شبہات پیدا ہوں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1768 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply