زاہد ڈار: اس نے زندگی سے صرف کتاب کا تقاضا کیا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوۤے کی دہائی کے اوائل میں پاک ٹی ہاؤس اپنی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک تو یہ عرصہ دراز سے دم توڑ چکا تھا صرف اس کی موت کا رسمی اعلان ہونا باقی تھا۔ انہی دِنوں مَیں گورنمنٹ کالج سے نکل کر، جس کے ٹی ہاؤس سے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط تھے، صحافتی دُنیا میں وارِد ہوئی، اکثر اس مسحور کُن جگہ کی بچی کچی نشانیاں اور چائے مجھے اپنی جانب متوجہ کرتے۔ میں دن کے جس بھی حصے میں وہاں جاتی، ہر بار یہ مجھے کسی قدر سادہ اور سرد سی جگہ محسوس ہوتی۔

ٹی ہاؤس میں میری دلچسپی کی اور بھی چیزیں تھیں؛ اتوار کا دن خاص ہوتا جب شام کوحلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وار اجلاس ہوتا اور شہر کے مختلف کونوں میں جا بسنے والے پرانے چہرے یہاں جمع ہو جاتے۔

پاک ٹی ہاؤس پر فیچر کسی نوجوان صحافی کے خیالات کو اُسی طرح گرفت میں لے سکتا تھا جیسے خواجہ سراؤں یا لاہور کے بازار حُسن پر فیچر کے مقبول عام خیال جکڑتے۔ اُن سب شخصیات سے ملنے کا موقع جن کا تذکرہ میں نے گورنمنٹ کالج میں دو سال بہت سنا۔ مظفر علی سید، مسعود اشعر، انتظار حسین اور بہت سے دوسرے؛ ان لوگوں سے پوچھنے کا موقع میسر آیا کہ کیا وہ ناصر کاظمی، شاکر علی اور ان جیسے اَن گنت لوگوں کو یاد کرتے ہیں۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ میں جس سے بھی ملتی ہوں وہ ایک نامانوس سا نام ضرور لیتا ہے۔ زاہد ڈار۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ پاک ٹی ہاؤس نامی دریا کو اُس وقت تک عبور کرنا ممکن نہیں جب تک آپ کی مڈ بھیڑ زاہد ڈار سے نہیں ہو جاتی۔

زاہد ڈار کون ہے؟ ”وہ کتابیں پڑھتے ہیں اور ٹی ہاؤس ان کے لیے گھر کی مانند ہے۔ “ تو پھر؟ ”ان کی شاعری شائع ہو چکی ہے۔“ یہ پُرانی بات تھی اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ کوئی بہت اہم شاعر ہے۔ اس چیز نے ہمارے مابین ایکتا پیدا کر دی، پاک ٹی ہاؤس میں مشترکہ دلچسپی کے حامل دو ایسے لوگ جنہوں نے ادب و فن کی کوئی زیادہ خدمت نہیں کی تھی۔ اگرچہ زاہد کا مطالعہ انہیں دوسروں سے ممتازکرتا تھا؛ انہوں نے یہاں آنے والوں کے مجموعی مطالعے سے بھی زیادہ پڑھ رکھا تھا۔

اخبار کے لیے پاک ٹی ہاؤ س پر وہ فیچر زاہد ڈار سے ملے بغیر ہی لکھا گیا۔

لیکن یہ نام میری یاد داشت میں چپک سا گیا تھا۔ پھر مجھے یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ یہ پروفائل انٹرویو کے لیے ایک اچھا موضوع ہے۔ وہ مجھے کتاب بدست ٹی ہاؤس میں ہی مل گئے۔ متجسس و منکسر مزاج سا شخص، شروع میں زاہد ڈار انٹرویو دینے سے ہچکچا رہے تھے۔ میں نے بھی یہ کھوج لگانے میں کوئی دلچسپی نہ لی کہ ان کی ہچکچاہٹ کا سبب کیا ہے اور وہ کیونکر مجھے اپنی زندگی کا پہلا انٹرویو دینے پر راضی ہوئے۔ ہم مال روڑ پر لارڈز میں جا بیٹھے اور وہ بولنے لگے۔ میں نے یہ انٹرویو ریکارڈ کیا اور چھاپ دیا۔ آنے والے برسوں میں جب کبھی یہ نام سُننے میں آتا تو اس انٹرویو میں بیان کردہ اوریجنل خیالات ذہن میں گونجنے لگتے۔

پھر ایک دِن ایک فون کال نے میری دلچسپی کی جوت دوبارہ جگا دی۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس زاہد ڈار کے انٹرویو کی کاپی موجود ہو گی؟ وہ گورنمنٹ کالج سے ایم فِل کر رہے تھے اور زاہد ڈار پر اپنے مقالے کے لیے اُنہیں، ان کی زندگی کے واحد انٹرویو کی تلاش تھی۔ میرے پاس اس انٹرویو کی کاپی نہیں تھی۔ یہ زاہد ڈار کے پاس سے بھی نہ ملا لیکن ان صاحب نے بتایا کہ انھیں زاہد ڈار پر لکھی ہوئی کچھ اور چیزیں ملی ہیں، جن میں انتظار حسین کا لکھا نہایت دلچسپ خاکہ ”فالتو آدمی“ بھی شامل ہے۔

میں نے سوچا کہ پاک ٹی ہاؤس بند ہونے سے جو لوگ متاثر ہوئے ہوں گے ان میں سے بد ترین صورتحال یقیناً زاہد ڈار کی ہی ہو گی۔ پندرہ برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔ کیا وہ اب بھی کتابیں پڑھتے ہیں؟ اب وہ کہاں ہیں؟ ان کی بہترین دوست گُلناراس وقت ملک میں نہیں تھیں۔ شاید انتظار حسین سے کوئی مدد مل سکے۔ انتظار صاحب نے فون پر بتایا ”اگر تم اس سے ملنا چاہتی ہو تو شام کو میرے گھر آ جانا، وہ اُس وقت تک یہاں پہنچ جائے گا۔ “ اچھا تو اب انتظار صاحب کا گھر ان قدیمی بچھڑے ہووؤں کا نیا اڈا ہے۔

انتظار حسین کے جیل روڈ والے پرانے، خوبصورت گھر کے برآمدے میں ایک شانت و مطمئن زاہد ڈار موجود تھے۔ دوپہر میں ہوئی بارش نے لاہور شہر میں حبس کا زور، کم از کم ایک دن کے لیے، توڑ دیا تھا۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی زندگی کے گزرے پندرہ برسوں پر نظر ڈالی اور پھر میں نے ایک اور انٹرویو کی فرمائش کر دی۔ ایک بار پھر ہچکچاہٹ کے ساتھ اس کی اجازت مل گئی۔

اگلے روز، انتظار حسین کے گھر میں ہی، میں نے زاہد ڈار کو بتایا کہ مجھے ان کی سوانحی معلومات درکار ہوں گی۔ اس بار میں وہ سب باتیں پوچھنا چاہتی تھی جن سے پہلے انٹرویو میں واضح طور پر گریز کیا گیا تھا۔ میں اس شخص کو جاننا چاہتی تھی۔ انٹرویو کے لیے انتظار حسین کے سٹڈی روم سے بہتر ماحول میسر نہیں ہو سکتا تھا؛ کتابوں سے بھرا ہوا اور ڈار کا زندگی بھر کا اوڑھنا بچھونا کتابیں ہی تو تھیں۔ اگلا ایک گھنٹہ میں نے اپنی زندگی کی دلچسپ ترین کہانی سُننے میں گزارا۔

1936  میں لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ڈار چھٹی جماعت میں تھے جب برصغیر تقسیم ہوا۔ ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا جہاں اسلامیہ ہائی سکول سے 1952 میں انہوں نے میٹرک پاس کیا اور اسی برس گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے انیس ناگی اور دیگر دوستوں کے ساتھ ادب پر بات چیت کرنے کے لیے دو برس تک کالج جانا جاری رکھا لیکن انٹر میڈیٹ کا امتحان نہیں دیا۔ انہوں نے معاشیات کا مضمون چنا تھا لیکن کتاب کا پہلا صفحہ کھولتے ہی انہیںیہ نہایت بیزار کُن محسوس ہوئی اور انہوں نے اسے بند کر دیا۔ معاشیات کی وجہ سے ہی وہ امتحان میں شریک نہ ہوئے۔ اتفاقی اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کے بڑے بھائی حامد ڈار ان دنوں اسی کالج میں معاشیات پڑھاتے تھے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس مضمون کے بہترین اساتذہ میں سے ایک تھے۔

مستقل مزاج زاہد ڈار عمر کے سولہویں برس میں ہی اس حقیقت سے آشنا ہو چکے تھے کہ ان کا رحجان کسی کام کاج کی جانب نہ تھا۔ وہ زندگی میں صرف ادب پڑھنا چاہتے تھے۔ وہ دو برس تک اپنے دوستوں کے ساتھ گورنمنٹ کالج جاتے رہے۔ اس کے بعد ان کے دوستوں نے کالج چھوڑا توانہوں نے بھی وہاں جانا ترک کر دیا۔

میں نے محسوس کیا کہ زاہد ڈار جو اب تک مطمئن دکھائی دے رہے تھے، آنکھیں کچھ تیزی سے جھپکنے لگے اور کچھ بے چین سے نظر آئے لیکن اب ان کی آنکھیں اُس فلسفی جیسی دکھائی دینے لگیں جو سب کچھ جانتا ہو۔ سگریٹ اب بھی ان کے ہاتھ میں تھا، وہ کسی بچے کی طرح قہقہہ بار ہوتے، اور عموماً خود پر ہی ہنستے۔ ان کے پاس زندگی کے بارے میں کہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ ان کے خیالات کی سمت تبدیل نہیں ہوئی تھی، خصوصاً مذہب کے بارے میں ان کے خیالات۔ میں بہت کچھ مزید جاننے کی مشتاق تھی۔

”میں آنڈے بانڈے گھومتا پھرتا تھا۔ کبھی کبھار گھر والے اور عزیز و اقارب کہتے کوئی کام تلاش کرو۔ پھر محکمہ خوراک میں جونئیر کلرک کی آسامی پر کام کرنے کے لیے مظفر گڑھ چلا گیا۔ میں نے چار ماہ کام کیا لیکن اس دوران مجھے مطالعہ کے لیے وقت نہیں ملتا تھا۔ میں نے سوچا میری زندگی ضائع ہو رہی ہے، صبح اٹھ کر دفتر چلے جانا اور شام کو لوٹنا۔ سو، میں نوکری چھوڑ کر واپس آ گیا۔

اس کے بعد 1958 میں، جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا، میں کراچی چلا گیا۔ شیر شاہ نامی جگہ پر دواؤں کی ایک فیکٹری تھی جہاں بہت سی خواتین کے ہمراہ میں بھی دواؤں کو ڈبوں میں پیک کرنے کا کام کرنے لگا۔ فیکٹری جاتے ہوئے ابھی ایک مہینہ بھی نہ ہوا تھا کہ ایک روز میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ لوگ میرے ارد گرد جمع ہوگئے اور ان میں سے کچھ نے مجھے سنبھالا۔ میں گھر واپس لوٹ آیا اور کچھ عرصہ بیماری میں کاٹا۔ میرے بہن بھائیوں نے مجھے کہا کہ میں نوکری شوکری کے بارے میں بھول جاؤں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم بیٹھ کر صرف کتابیں پڑھو تمھارے قیام و طعام کی ذمہ داری ہم اٹھائیں گے۔ یہ دسمبر 1958 کی بات ہے۔ بس اس دن سے آج تک میں مطالعے میں مصروف ہوں۔ “

اب وہ اپنے ایک بہن اور بھائی کے ساتھ کرشن نگر میں رہتے ہیں۔ ان کی ایک بہن الگ گھر میں رہتی ہیں۔ ان بہن بھائیوں میں سے اکثر نے شادی نہیں کی۔ ان کے والد سوشلسٹ پارٹی کے رُکن تھے، دوسری جنگ عظیم میں اس جماعت نے برطانوی حکومت کی حمایت نہیں کی، اوربہت سے دیگر رہنماؤں کے ساتھ انہیں بھی لاہور میں حوالہِ زنداں کر دیا گیا۔ وہ 1945 میں جیل میں ہی چل بسے، اسی برس ان کی بڑی بہن فلسفے میں ایم اے کر کے لدھیانہ میں ایک سو پچاس روپیے مشاہرے پر لیکچرر مقرر ہوئیں۔ انہیں اپنے سات بہن بھائیوں کا بوجھ اٹھانا تھا۔ یہ ایک ”فیمنسٹ گھرانا“ تھا اور عورتوں کے احترام کا سبق انہیں اپنے والد سے ملا تھا۔

1957۔ 58 کے آس پاس انہوں نے صفدر میر کی ہمراہی میں ٹی ہاؤس اور کافی ہاؤس میں آنا جانا شروع کیا، صفدر میر ان کے بڑے بھائی کے اچھے دوست تھے اور وہ ان سے اپنے سکول کے زمانے سے واقف تھے۔ ”وہ میرا پسندیدہ شاعر تھا اور میں نے بھائی کو بتایا کہ میں نے اس کی یہاں وہاں شائع ہونے والی تمام نظمیں جمع کر رکھی ہیں۔ صفدر میر کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ انارکلی کی بخشی مارکیٹ کے ایک ہوٹل ڈی پالس کے ایک کمرے میں رہتے تھے جو کتابوں سے بھرا ہوتا۔ میں اس سے کتابیں مستعار لے جاتا اور پھر شام کو ہم بات چیت کے لیے دوبارہ ملتے۔ اکٹھے ہم کافی ہاؤس جاتے اور اس کے دوستوں سے ملتے۔ میں نے انتظار حسین کا ناول ’چاند گہن‘ ، اور اس کے افسانوی مجموعے ’کنکری‘ اور ’گلی کوچے‘ پڑھ رکھے تھے، اس وقت تک اس کا یہی کام شائع ہوا تھا۔ میں انتظار حسین کو بہت پسند کرتا تھا اور میں نے صفدر میر کو کہا تھا کہ میں انتظار پر ہونے والی اس تنقید کو درست نہیں سمجھتا کہ وہ یوپی سے ’محاوروں کی ایک بوری‘ اٹھا لایا ہے جسے اس نے یہاں آ کر کھول لیا ہے۔ میرے خیال میں وہ بہت جدید نثر لکھتا تھا۔ ایک روز جب ہم کافی ہاؤس کے پاس سے گزر رہے تھے تو وہ (صفدر میر) چلایا ’انتظار حسین! یہ لڑکا تمھاری کتابیں خرید کر پڑھتا ہے۔ ‘ اس طرح میں انتظار سے متعارف ہوا اور اس دن کے بعد سے ہم اکٹھے ہیں۔ “

انہوں نے اکٹھے ٹی ہاؤس جانا شروع کر دیا۔ صفدر میر نے اُن سے پوچھا کہ تم صرف پڑھتے ہی ہو یا کچھ لکھتے بھی ہو؟ ڈار نے بتایا کہ وہ اپنی ڈائری بصورت شاعری لکھتے ہیں۔ صفدر میر نے یہ ڈائریاں دیکھیں اور کہا کہ یہ تو ”نظمیں“ ہیں۔ ڈار انہیں شائع نہیں کرانا چاہتے تھے لیکن میر نے یہ محمد حسن عسکری کو دے دیں جنہوں نے اِن دنوں کراچی میں ایک نئے پرچے ’سات رنگ‘ کی تدوین شروع کی تھی، انہوں نے یہ مادھو کے قلمی نام سے چھاپ دیں۔ پھر ناصر کاظمی نے ٹی ہاؤس میں یہ راز فاش کر دیا اور ہر ایک کو علم ہو گیا کہ مادھو کون ہے۔ اس کے بعد انتظار حسین نے سات رنگ کے اگلے پرچے میں ایک مضمون ”پوچھتے ہیں وہ کہ مادھو کون ہے“ کے عنوان سے لکھا۔

”یوں میں ادبی دنیا میں مقبول ہوا۔ عسکری صاحب کہتے تھے کہ ان نظموں نے ایک سنسنی پھیلا دی اور انہیں انڈیا سے بھی خطوط موصول ہوئے جن میں پوچھا گیا تھا کہ یہ نیا شاعر کون ہے۔ لوگوں نے مجھے مادھو کہہ کر پُکارنا شروع کر دیا جو مجھے پسند نہیں تھا، میں نے پھر ان نظموں کو اپنے نام سے شائع کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد میری نظمیں ’سویرا‘ میں شائع ہوئیں۔ “

یہ ٹی ہاؤس کا عہد شباب تھا، اُن دنوں یہاں بہت سے ادبی اجتماع ہوتے، خاص طور پر کالجوں کے طلبہ ٹی ایس ایلیٹ، ایذرا پاؤنڈ، ڈی ایچ لارنس اور دیگر کو پڑھ کر آتے۔ ”لیکن اس کے بعد یا تو یہ لوگ مطالعہ ترک کر دیتےیا بحث مباحثے کے لیے ٹی ہاؤ س آنا چھوڑ دیتے تھے۔ “

کیا آپ نے دوبارہ لکھا؟ ”میں نے نظمیں صرف اس محدود سے تجربے کے بارے میں لکھیں جو مجھے حاصل تھا۔ چونکہ میں اپنی ڈائری شاعری کی صورت میں لکھ رہا تھا اور بچپن سے شاعری پڑھ رہا تھا، اس لیے میں نے نظمیں لکھنا جاری رکھا۔ کچھ عرصہ بعد میرے لیے تغزل برقرار رکھنا مشکل ہو گیا، پھر جب نثری نظم کا دور چلا تو میں نے نثری نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔ یہ بھی شائع ہو گئیں تو اس کے بعد میں نے کچھ نہیں لکھا۔ میرے پاس خیالات یا محسوسات نہیں تھے۔ آپ صرف تیس برس کی عمر کے آس پاس اپنے محسوسات کے متعلق لکھ سکتے ہیں ؛ اس کے بعد آپ کو خیالات درکار ہوتے ہیں۔ بہت کم لوگ، فیض صاحب کی طرح، ستر برس تک اپنے محسوسات کی قوت کے زورپر لکھ پاتے ہیں۔ فیض ایک غنائی شاعر تھے۔ “

اس عرصے میں زاہد ڈار نے مطالعہ جاری رکھا، سوچتے رہے اور پڑھتے رہے۔ ادب کے علاوہ انہوں نے فلسفہ پڑھا اور انہیں سب سے زیادہ رسل کے خیالات بھائے۔ ”میں زندگی کے بارے میں فیصلے یا نتائج اخذ نہیں کر سکتا۔ رسل کے جوابات نے مجھے سب سے زیادہ مطمئن کیا۔ “

کیا کبھی آپ کواپنی زندگی سے نفرت محسوس نہیں ہوئی، یا تبدیلی کے خواہاں نہیں ہوئے کہ محبت میں مبتلا ہوتے یا شادی کے بارے میں سوچتے؟ ”میں نے سوچا تھا۔ میں جوانی میں بہت رومان پسند تھا؛ اس لیے بھی کہ شاعری پڑھتا اور لکھتا تھا۔ میں محبت کے خیال سے محبت کرتا ہوں لیکن جب کبھی اس کا کوئی موقع بنتا تو آخری تان اس پر ٹوٹتی کہ لڑکی مجھ سے کہتی میں کوئی روزگار تلاش کروں۔ اس کے بعد ہی وہ مجھ سے شادی پر رضامند ہوگی۔ میں نے ساری زندگی روزی روٹی کی فکر نہیں کی۔ میرے خیال میں پیار اپنا صلہ خود تھا۔ میں بہت سی احمقانہ چیزیں سوچتا اور کہتا تھا۔

ایک بار ایک لڑکی سے میری دوستی ہوگئی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ سگریٹ نوشی ترک کر دو۔ میں نے کہا کہ میں ایسا صرف اُسی صورت میں کروں گا اگر کوئی لڑکی میرا ہاتھ تھام لے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور پانچ منٹ بعد میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ میں نے فوراً ہی اپنا سگریٹ سُلگا لیا۔ اس نے پوچھا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے جواب دیا ’کیونکہ تم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔‘ اس نے کہا کہ تم مجھے پاگل کر دو گے اور یہ کہہ کر چل دی۔ “

ڈار کو اس بات کا پچھتاوا ضرور ہے کیونکہ ان کے اندر پیار کرنے کی بڑی شدید تمنا موجود ہے۔ محبت کی اس تشنہ کامی کے نتیجے میں جو مایوسی و نامرادی پیدا ہوئی اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے دس برس دن رات شراب نوشی کی نذر کر دیے کہ وہ جلدی مر جانا چاہتے تھے۔ ”پھر میری ملاقات ایک شاعرہ سے ہوئی، میں اس وقت بتیس برس کا تھا، اسے مجھ سے ہمدردی ہوگئی اور اس نے اپنے خاوند کے ساتھ مل کر مجھے بچانے کا فیصلہ کیا۔ جب کبھی وہ مجھے نشے میں دھت، ٹی ہاؤس کے آس پاس آوارہ گردی کرتے ہوئے دیکھتے، گھر لے جاتے، کھلاتے پلاتے اور واپس گھر چھوڑ کر جاتے۔ اس کی ہمدردی نے محبت کی تشنہ کامی کی بھرمائی کی اور اسی کے اصرار پر میں شراب نوشی ترک کر کے دوبارہ مطالعہ کی جانب لوٹ گیا۔ “ مجھے اس بات پر حیرانی ہو رہی تھی کہ آخر زاہد ڈار کو کشور ناہید سے اظہار تشکر کرنے سے کون سی چیز روک رہی تھی۔

وہ لکھنے کے لیے بھی پر عزم تھے لیکن جب انہوں نے آس پاس نظر دوڑائی تو جو انہیں نظر آیا وہ ان کے لیے خوشگوار نہیں تھا۔ دُنیا کے تمام ممالک کسی نہ کسی طرح کی سفاکی میں ملوث تھے۔ ”میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بیسویں صدی کا ایک کمیونسٹ ملک، یوگوسلاویہ، جہاں انسانیت کا سبق چالیس پچاس برس تک پڑھایا گیا تھا وہاں اس طرح کا تشدد وقوع پذیر ہو سکتا تھا۔ سو، انسان کیا ہے اور بندہ کس کے لیے لکھے؟“ ان کے اس خیال میں دراڑ پڑ چکی تھی کہ ادب پڑھنے سے فرد اچھا انسان بن سکتا ہے۔ ”میرے خیال میں ایک مقام ایسا آ جاتا ہے کہ انسان کے اندرکا وحشی باہر نکل آتا ہے۔ “

ڈار جو اپنی جوانی میں خود کو کمیونسٹ کہتے اور امریکا، سامراج اور کیپٹل ازم کے خلاف جنگ کرنا چاہتے تھے، اب ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ سٹالن کے روس یا ماؤ کے چین میں جو کچھ ہوا وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ ”چین میں انہوں نے اپنے سب سے بڑے شاعروں کو دیہات میں بھیج دیا کہ وہ وہاں بیت الخلا صاف کریں۔ جس کسی کو اختیار ملتا ہے وہ جابر فرمانروا بن جاتا ہے۔ “

لیکن کیپٹل ازم کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے؟ ”کیونکہ یہ ایک خاص حد تک آزادیاں مہیا کرتا ہے۔ سٹالن یا ماؤ کے نیچے تو اتنا کچھ بھی ممکن نہیں۔ چین کے بہترین لکھاری بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔ اتنا بڑا مُلک جہاں ڈیڑھ ارب انسان بستے ہیں وہ نہایت شاندار ادب تخلیق کر سکتا تھا لیکن لوگوں کو لکھنے کے لیے بیرون ملک منتقل ہونا پڑتا۔ “ لیکن انہوں نے اپنے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے کاوشیں تو کیں، کیا ایسا نہیں ہوا، میں نے پوچھا۔

”لیکن انسانوں کو صرف ان چیزوں کی تمنا ہی نہیں ہوتی۔ انسانوں کو خاص آزادی درکار ہوتی ہے، چاہے اکثریت کی طلب بہتر معیارِ زندگی کے علاوہ کچھ نہ ہو پھر بھی ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اچھا ادب یا فن تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کیا ہو گا؟ یہ بالکل کسی مذہبی سماج کی طرح ہی ہے جہاں اگر آپ مروج مذہبی اصولوں پر نہیں چلتے تو آپ کے لیے سماج میں کوئی جگہ نہیں۔ کیپیٹلسٹ سماج اس کی اجازت دیتا ہے۔ آپ اپنی من چاہی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ کچھ یورپی ملکوں، سویڈن، ناروے، ڈنمارک میں اس حوالے سے آئیڈیل صورتحال ہے۔ “

زندگی کے بارے میں زاہد ڈار کے نتائج کچھ متنوع نوعیت کے ہیں ؛ کچھ ایسے ہیں جن کے ساتھ آپ کسی حد تک اتفاق کر سکتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کی ڈٹ کر مخالفت کی جا سکتی ہے۔ ان کے لیے خیالات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ ”میں عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ ناقابل برداشت ہیں۔ ان کے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں صرف خام اور بے لگام طاقت ہوتی ہے اور جب بھی یہ اسے استعمال کرتے ہیں اس کے نتیجے میں تباہی جنم لیتی ہے۔ ہو سکتا ہے عوام کو تعلیم دینے سے کچھ فرق پڑھ جائے لیکن یہاں تم دیکھو کہ وُکلا بھی کس طرح وحشی بن جاتے ہیں۔ “

”جناح کے تین الفاظ۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم۔ یہ تباہی کا نسخہ ہیں۔ یہ فرد کو مار دیتے ہیں۔ ہر فرد کو اپنے نتائج خود اخذ کرنے چاہییں۔ تمام نظریات، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی سب عوام دُشمن ہیں۔ میں تو قومی ریاست پر بھی یقین نہیں رکھتا؛ تمام لوگوں کو مل کر رہنا چاہیے ؛ دنیا میں صرف انتظامی تقسیم کی کوئی شکل ہونی چاہیے ؛ یورپ نے دُنیا کو دِکھا دیا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ “

”دو قومی نظریہ کیا ہے؟ شروع میں ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم انڈیا سے الگ ہو گئے جہاں صدیوں سے لوگ مل جُل کر رہ رہے تھے۔ اب اس ایک قوم کا ہم کیا کریں۔ بلوچستان میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے ؛ وہ پنجابیوں کو مار رہے ہیں ؛ ڈیرہ اسماعیل خان میں انہوں نے شیعوں کو مارنے کا اعلان کر دیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ کراچی میں قتل و غارت جاری ہے۔ طالبان کی نوع کے لوگوں کو ضیاء کے زمانے سے تربیت دی جا رہی تھی وہ اب ہم پر پِل پڑے ہیں۔ “ بطور نظریہ زاہد ڈار مذہب کے مخالف ہیں۔ اگر گورننس کا کوئی جمہوری نظام مذہب کے نفاذ کی کوشش کرے تو وہ اس پر آمریت کو ترجیح دیتے ہیں۔ نہرو اس لیے ان کے پسندیدہ ترین رہنما ہیں کیوں کہ وہ ”حقیقی سیکولر“ تھے۔ ”صدیوں سے مذہب نے اربوں انسانوں کے دماغ مفلوج کر دیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔ لوگوں کو لازماً سوچنا سمجھنا چاہیے۔ “

وہ کسی دوست کی کمی محسوس نہیں کرتے۔ ”لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ میں نے اِن میں سے بہت سوں کو جاتے دیکھا ہے۔ انتظار حسین چاہتا ہے کہ میں اُس سے پہلے مر جاؤں کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مجھ پر کالم کون لکھے گا؟ ان تمام برسوں میں مَیں انتظار حسین کے قریب رہا ہوں۔ کشور ناہید کے ساتھ بھی میری اچھی دوستی تھی۔ وہ اپنے گھر میں ادبی محفلیں منعقد کرتی تھی جہاں ملک اور بیرون ملک رہنے والے بہت سے لوگوں کے ساتھ میرا تعلق استوار ہوا۔ پھر وہ اسلام آباد چلی گئی۔ “

زاہد ڈار اب بھی ڈائری لکھتے ہیں، لیکن اب وہ نثر میں لکھتے ہیں۔ ”پبلشر مجھے کہتے ہیں کہ ان کا کچھ حصہ اشاعت کے لیے دے دوں۔ لیکن یہ میرے ذاتی خیالات ہیں؛ زیادہ تر لوگوں کے خلاف اور خواتین کے حق میں۔ “ خواتین کے حق میں کیوں؟ ”مجھے علم نہیں لیکن میں ہمیشہ سے خواتین کو پسند کرتا ہوں۔”

(زاہد ڈار کا یہ پروفائل فرح ضیاء نے کیا جو جولائی 2009 میں نیوز آن سنڈے میں شائع ہوا،اس کا اردو ترجمہ ثقلین شوکت نے کیا ہے۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *