کھلونے، کتابیں اور گزرے ہوئے خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں ایک دھمکی آمیز پیغام وصول ہوا ہے اور مشکل یہ ہے کہ سر تسلیم خم کیے بنا چارہ بھی نہیں!

نئے برس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دور دیس میں رہنے والے ان زمینوں کو لوٹتے ہیں جہاں سے برسوں پہلے وہ نئی منزلوں کی طرف اڑان بھر کے اجنبی سرزمینوں میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔

” میں سالانہ چھٹیاں منانے آنا چاہتی ہوں لیکن صرف اس صورت میں جب آپ گھر کی گلو خلاصی کریں”

فون کے دوسری طرف محبت میں گندھی آواز تھی،

“گلو خلاصی….. مگر کس چیز سے؟”

ہماری آواز اور لہجہ دونوں ہی حیرت میں ڈوبے ہوئے تھے،

” وہ جو آپ نے گھر میں ہورڈنگ کر رکھی ہے نا “

“ہورڈنگ… یعنی کہ…” ہماری ہکلاہٹ عروج پہ تھی۔

“جی بالکل، غیر ضروری اشیاء کا وہ انبار جو آپ نے الماریوں، صندوقوں، ڈبوں اور مختلف لفافوں میں سینت سینت کر رکھ چھوڑا ہے، نہ جانے کیوں اور کس کے لئے؟ اب نئے برس کے آغاز میں اس سے چھٹکارا پانا ہو گا تاکہ میں گھر آؤں تو کشادگی کا احساس ہو” ہماری بڑی صاحبزادی تھیں۔

“تمہارا مطلب ہے، وہ، وہ میری عزیز از جان اشیا….” ہم ابھی تک ہکلا رہے تھے۔

“جی ہاں، وہ سب بوسیدہ چیزیں جو اب کسی کام کی نہیں۔ پتہ نہیں کن زمانوں سے آپ نے دل سے لگا رکھی ہیں”

“بوسیدہ تو ہم بھی ہیں بیٹا اور کام کے بھی اتنے نہیں رہے….. “ ہم نے زیر لب کہا۔

خیر جناب، عزیز از جان کا کہا ہوا حکم حاکم ہی ہوا کرتا ہے سو مانے بنا چارہ بھی نہیں۔

کہاں سے آغاز کیا جائے؟ بے اختیار اپنے آپ سے ہی سوال وجواب کرتے کرتے سوچا کہ چلیے دور دیس گئی ان چڑیوں کے کمرے میں ہی چلے چلتے ہیں۔

بنک بیڈ پہ بچھی اجلی، بے شکن چادریں اور تکیے ہماری ہی طرح منتظر ہیں ان مکینوں کے جو ہر برس کچھ روز کے لئے آتے ہیں اور اپنی خوشبو بستر میں سمو کے جدائی کی کسک اور انتظار کی شمع روشن کر کے الوداع کہہ جاتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے وہ دن جب دونوں کے مشترکہ کمرے کے لئے بنک بیڈ خریدا گیا تھا۔ کمرہ کچھ چھوٹا تھا اور دونوں کی خواہش تھی کہ پلنگ کم سے کم جگہ گھیرے تاکہ کمرے میں کشادگی کا احساس ہو۔ بڑی نے بنک بیڈ کے نچلے حصے میں قبضہ جمایا تھا اور چھوٹی کے حصے میں اوپر والی منزل۔ وہ کیا کہتے ہیں حصہ بقدر جثہ! چھوٹی نیچے کی طرف لٹک لٹک کے بڑی سے باتیں کرتی۔ کبھی ایک طرف لگی سیڑھی سے پھدک کے نیچے آتی کبھی اوپر چڑھ جاتی۔ابتدا میں ہمیں بہت خوف رہا کہ کہیں رات سوتے میں کروٹ بدلنے سے نیچے نہ آ گرے۔ بیڈ کی سائیڈ ریلنگ ہمارے خدشات دھونے کے لئے کافی نہیں تھی۔ رات کو ایک آدھ دفعہ اٹھ کے دیکھا تو دونوں بعد میں خوب ہنستیں کہ اماں واہمے پالتی رہتی ہیں۔

کچھ برسوں بعد بڑی نے دور دیس کو اڈاری بھری تو چھوٹی نیچے منتقل ہو گئی لیکن جب کبھی بڑی چھٹیوں میں گھر آتی تو پرانا زمانہ لوٹ آتا۔ پھر یوں ہوا کہ بنک بیڈ کی نیچے والی منزل بھی خالی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد جب دونوں اکھٹی آئیں تو چھوٹی نے ناک بھوں چڑھا کے کہا، اب کیا میں پھر سیڑھی چڑھ کے اوپر جاؤں؟ اس وقت تو مسئلہ عارضی طور پہ حل کر لیا گیا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس دیرینہ ساتھی کو الوداع کہنے کا وقت ہے۔ وہ ضعیف مندی مندی نظروں سے ہمیں دیکھتا ہے اور سر نہوڑا دیتا ہے۔ جان چکا ہے کہ وقت کے ترکش سے کیا تیر نکلنے والا ہے۔

ایک طرف کتابوں کی الماری کھڑی ہمارا منہ تک رہی ہے۔ ترتیب سے رکھی کتابیں ایک زمانے سے لمس سے محرومی کا عذاب کاٹ رہی ہیں۔ جونہی بتی جلتی ہے، ان کی بھی امید جاگ جاتی ہے کہ شاید وہ مانوس ہاتھ اور روشن آنکھیں پھر سے…..چلیے ان ہی کی چھانٹی کر لیں۔

کچھ کارٹونز سے مزین رنگ برنگی کتابیں…. ارے یہ… یہ تو ہم تب خرید کے لاتے تھے جب نشتر ہسپتال سے رات کی ڈیوٹی کے بعد صدر بازار سے گزرتے ہوئے یاد آتا تھا کہ چھوٹی سی بچی نے ماں سے جدائی میں جو وقت گزارا ہے اس کی تلافی کرنے کے لئے کوئی تحفہ لے جانا ضروری ہے۔ تحفے کے چناؤ ميں دشواری اس لئے نہ ہوتی کہ ننھی بچی کچھ برس پہلے سے اپنی پرام میں بیٹھے بیٹھے مری کی مال روڈ پہ کتابوں کی دوکان میں ماں کے ذوق وشوق کی ساتھی رہ کر جان چکی تھی کہ کتاب سے محبت لہو میں شامل ہے۔

جب ہماری گاڑی پورچ میں رکتی اور ہم بے چینی سے اسے گلے لگاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں صدر کے بک سٹور سے خریدی کتاب پکڑاتے۔ اس کی چمکتی آنکھیں ہیرے کی کنی بن جاتیں اور اسے قطعی یاد نہ رہتا کہ پچھلی رات وہ ماں کی بجائے اپنی گڑیا سے لپٹ کے سوئی تھی۔

نہیں بھئی، یہ نہیں…. ان کتابوں پہ تو ماں بیٹی کی جدوجہد کی کہانی لکھی ہے اب اس سے کیسے جدا ہوں؟ چلیے کچھ اور دیکھتے ہیں۔

یک لخت اوپر والے خانے سے ایک کتاب ہمارے سامنے گر پڑتی ہے۔ ہم جھک کر اٹھاتے ہیں اور بے اختیار چہرے پہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ یہ چھوٹے بچوں کے لئے انگریزی حروف تہجی سے بنیادی الفاظ کی ڈکشنری ہے اور اس کی داستان بھی بہت دلچسپ ہے۔

ہم تبوک میں کام کر رہے تھے اور بے انتہا مصروف تھے۔ایک شام جب ہماری دوست ڈاکٹر نصرت چائے پینے کے لئے آئیں تو ہمیں باتھ روم میں پا کے پاس کھیلتی بچی سے آموختہ سننا چاہا۔ بچی نے کچھ راز نہ رکھتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک انہیں کچھ بھی نہیں سکھایا گیا۔ ہم جونہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے، دوست کی محبت بھری سرزنش ہمارا انتظار کر رہی تھی،

” ٹی کے جی، بچی کو کچھ پڑھایا کریں”

 اپنی خجالت مٹاتے ہوئے ہم نے بے نیازی سے کہا کہ بڑی ہو کے خود ہی سیکھ لے گی ابھی ساری عمر پڑی ہے۔ لیکن چھوٹی بچی کی آپا، ہماری بڑی بیٹی اگلے ہی دن یہ ڈکشنری خرید لائیں کہ جانتی تھی کہ سیکھنے کے سب راستے کتاب سے نکلتے ہیں۔

نہیں بھئی، یہ تو ہم نہیں پھینک سکتے۔ اس میں تو تبوک کی شامیں اور دونوں بچیوں کا بچپن لپٹا ہوا ہے۔

بھئی یہ کتابوں کو رد کرنا تو بہت مشکل مرحلہ ہے، ہم سے نہیں ہو گا۔ ایسا کرتے ہیں کہ میز کی درازیں کھول کر کچھ نکالتے ہیں۔

افوہ… یہ دراز کیا کھلی کہ گویا پنڈورا باکس ہی کھل گیا۔ دراز میں دو باربی ڈول بہت ناز و انداز سے لیٹی ہیں۔ ساتھ میں ملبوسات اور سامان آرائش رکھا ہے۔ اور ان کی داستان کچھ یوں ہے کہ ہماری بڑی صاحبزادی بچپن میں باربی ڈول سے کھیلنے کے خبط میں مبتلا ہوئیں اور ایسی ہوئیں کہ برسوں اکلوتی اولاد ہونے کا فائدہ اٹھا کر ڈھیروں باربی ڈولز جمع کر ڈالیں۔ ان دنوں پاکستان میں درآمد شدہ اصلی برینڈ کی باربی گڑیا خال خال ہی نظر آتی تھی۔ زیادہ تر کے سر اور بال تو امپورٹڈ نرم ربر کے بنے ہوتے اور باقی جسم مقامی پلاسٹک کا۔

انہی دنوں وہ کسی سہیلی کے گھر سے ہو کر آئیں جن کے چچا نے باہر کے کسی ملک سے نرم ربر کی بنی خوبصورت نازک اندام گڑیا بھیجی تھی۔ وہ تو ہمارے سر ہوئیں کہ ہم انہیں بھی بیرون ملک بسنے والوں سے ویسی ہی گڑیا منگوا کر دیں۔ ایسا فوراً ممکن تو نہ ہو سکا مگر ہماری اماں نے یہ خواہش پلو سے باندھ لی۔ کچھ ہی مدت بعد جب وہ کینیڈا گئیں تو واپسی پہ ان کے پاس ایک نہیں دو گڑیاں تھیں کہ اب چھوٹی بہن بھی دنیا میں تشریف لا چکی تھیں۔ یہ تحفہ پا کے ماہم تو گول گول گھومتی تھی اور ہر آنے والے کو نانی کی لائی ہوئی سوغات دکھاتی تھی۔ وقت کی دھول میں وہ ڈھیروں گڑیاں گم ہو چکیں، ان کے لوازمات غائب ہو چکے، ان سے کھیلنے والی گڑیاں بھی دور آشیانے بنا چکیں۔ مگر نانی سے بندھی یاد کو دراز میں بند کر جانے کا مطلب، اور کیا سمجھیں ہم؟ اس دراز کو کچھ بھی چھیڑے بنا بند ہی کر دیا جائے تو اچھا ہو گا۔ یہ باربی ڈولز نہیں ہیں، محبت کے استعارے ہیں جو دونوں بچیوں نے جانے والوں کی یاد میں رکھ چھوڑے ہیں۔

رہنے دیجیئے، اب اس کمرے میں ہم مزید ٹھہرنا نہیں چاہتے، دل بوجھل سا ہو چلا ہے۔ جدا ہونے والے چاہے اسی دنیا میں موجود ہوں یا پرلوک سدھار جائیں، یادیں تو کٹار ہی ہوا کرتی ہیں۔

چلیے، حیدر میاں کے کمرے میں چلتے ہیں دیکھیئے کیا ردی نکالی جا سکتی ہے۔ الماری میں بہت سی متفرقات کے ساتھ ایک خانے میں کچھ چھوٹے چھوٹے کھلونے پڑے ہیں۔ ارے یہ بھی نا، کالج پہنچنے کو آئے ہیں اور یہ کھلونے جان سے لگا رکھے ہیں۔

 ہماری نظر ایک فگر پہ رک جاتی ہے۔ ہم ہاتھ میں لے کر الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔ بھلا کیا نام تھا اس کا آپٹومس یا تھنڈر برڈ…. اوہ کیا یاد دلا دیا… ہم کسی کانفرنس میں لندن گئے تھے اور حیدر جو اس وقت پہلی یا دوسری جماعت میں پڑھتے تھے، ائیرپورٹ پہ ہمیں کہتے نہ تھکتے تھے کہ واپسی میں ہمیں وہ فگر لازمی لانا ہے۔ وہاں پہنچ کے بھی جب بھی فون پہ بات ہوتی، وہ یاددہانی کروانا نہ بھولتے ….. اور ہم نے بھی ایک دن برستی بارش میں چھاتہ تان کے نہ جانے کتنی دوکانیں کھنگال کے ان کی فرمائش پوری کی تھی۔ پھر تو یہ معمول ہی بن گیا تھا، ہم دنیا میں جہاں بھی جاتے، ہمیں ٹرانسفارمر سیریز، آئرن مین سیریز اور انہی کے خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی نہ کوئی فگر خریدنا پڑتا۔

انہی دنوں حیدر نے ان فگرز کی ڈرائنگز بنا کے کامک کتاب بنانی شروع کی اور ان کا شوق دیکھ کے انہیں ایک خاص طرح کی ڈرائنگ بک دلوائی گئی جس میں نہ جانے کتنی کہانیاں لکھی گئیں…. ارے دیکھیے، یہ سامنے ہی تو دھری ہے، حیدر کی محنت اور محبت تمام صفحات سے چھلک رہی ہے… کیا نکال پھینکوں ان سب کو؟ نہیں بھئی، یہ تو حیدر کے گزرے بچپن کے وہ لمحات ہیں جو اس کتاب میں ٹھہر گئے ہیں۔ نہیں…. نہیں میں ان کو اپنی زندگی سے جدا نہیں کر سکتی۔

میں وہ کتاب شیلف میں پھر سے سجا دیتی ہوں، فگرز بھی وہیں رکھ دیتی ہوں جہاں سے اٹھائے تھے اور تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل آتی ہوں۔ سوچتی ہوں کہ کیوں نہ اپنی سٹڈی ہی کو کھنگال لوں کہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔

داخل ہوتے ہی سامنے کی دیوار پہ نظر پڑتی ہے جہاں ڈھیروں رنگ برنگے کانفرنس کارڈز لٹکے ہوئے ہیں۔ ہر کارڈ پہ ہمارا نام، کانفرنس منعقد کرانے والے ملک کا نام اور تاریخ لکھی ہوئی ہے۔ چلیے انہی سے فراغت پاتے ہیں، یہ سوچ کر ایک ایک کر کے میں انہیں دیوار سے اتارتی ہوں۔ کیپ ٹاون، روم، وینکوور ، بیل فاسٹ، لندن، ویانا، پراگ، بڈاپسٹ…..ایک طویل فہرست ہے…. آہ… اس کیرئیر میں کہاں کہاں کی خاک چھان ماری…. کیا عمر تھی… کیا سرخوشی تھی… طویل سفر لیکن نہ تھکاوٹ نہ اکتاہٹ…. کوئی جذبہ تھا جو اڑائے پھرتا تھا…. بھانت بھانت کے لوگ… نئی نئی ریسرچ.. دنیا کے مختلف علاقوں سے آئے ساتھی… سائنسی بحثیں… ریسرچ پیپر… شام کو گھومنا پھرنا، ڈنر، شاپنگ، گپ شپ….

نہ جانے خواب تھا یا خیال تھا!

ہم بے بسی سے ان سب کارڈز کو واپس لٹکا دیتے ہیں۔ یہ کارڈز نہیں، عمر عزیز کے گمشدہ مہ وسال ہیں جن پہ وہ حکایتیں لکھی ہیں جو دل و جاں پہ گزر گئیں۔

ایک طرف ایک تھیلا کاغذات اور تہنیتی پیغامات کے کارڈز سے اٹا اٹ بھرا رکھا ہے۔ اسے ہلکا کرنے کی خواہش میں اندر ہاتھ ڈالتی ہوں تو کچھ کارڈز اور کچھ بوسیدہ کاغذ ہاتھ سے ٹکراتے ہیں۔ ارے یہ کیا؟ یہ مڑا تڑا ٹشو پیپر کیا کر رہا ہے یہاں ؟ ٹشو پیپر الٹتے پلٹتے ہم سوچتے ہیں۔ اس پہ تو لال روشنائی سے بچگانہ لکھائی میں کچھ لکھا ہوا ہے…. پڑھنے کی کوشش میں کچھ نمی سی آنکھوں میں اتر کے انہیں دھندلا دیتی ہے۔

حیدر میاں نے کسی بات پہ ہم سے ڈانٹ کھانے کے بعد اس ٹشو پیپر پہ کچھ لفظ لکھ کے ہم سے معافی چاہی تھی۔ ہماری سائیڈ ٹیبل پہ پڑا ٹشو تب بھی ہماری آنکھ نم کر گیا تھا اور آج بھی ہمیں اداس کرتا ہے۔

ٹشو پیپر نامی معافی نامہ ایک طرف رکھتے ہوۓ ہاتھ سے مس ہونے والا اگلا کاغذ وقت کی دھول میں پیلا پڑ جانے والا ایک ایسا منظرنامہ ہے جو بوسیدگی اور کہن زدگی کے باوجود دو رشتوں کی بے لوث محبت کا گواہ ہے۔ یہ خط نانی نے اپنی نواسی کے بے پناہ اصرار پہ اس ہچکچاہٹ کے ساتھ لکھا تھا کہ شاید اب کے قلم ان لرزتے نحیف ہاتھوں کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔ خط کیا ہے، بے پناہ محبت اور احساس کے الفاظ کی ایک ایسی پھوار ہے جو ایک ادھیڑ عمر عورت کے دل سے ہوتے ہوئے اس کی کم سن نواسی کو ماضی میں اور بیٹی کو لمحہ حال میں بھگو رہی ہے۔

ہم دیر تک وہ بوسیدہ خط ہاتھوں میں لئے بیٹھے رہے۔ لگتا تھا اماں کے ہاتھوں کا لمس اس میں ابھی بھی زندہ ہے۔ رہ رہ کے یہی سوچ آتی کہ مٹی میں مٹی ہو جانے والی ماں کے ہاتھ سے لکھے جانے والے الفاظ کو کیسے ہورڈنگ کی فہرست سے باہر نکالیں؟

صاحبو، اب اس جان عزیز کو کیسے بتائیں کہ یہ چیزیں جو تمہیں کاٹھ کباڑ دکھائی دیتی ہیں، یہ وہ سارے گزرے ہوئے پل ہیں جن پہ وہ مہ وسال آنکھیں موندے بیٹھے ہیں جن کے بنا ہم ہم نہیں اور تم تم نہیں۔

رہنے دو بیٹا، ان سب کو وہیں، اسی جگہ جہاں وقت نے انہیں سینت سینت کے بٹھا رکھا ہے۔ ان سب لمحات کو ابھی ایسے ہی ہماری ہتھیلیوں میں بند رہنے دو! بہت برس ہوئے، ہم نے پابلو نیرودا کی ایک نظم کا اردو ترجمہ پڑھا تھا۔ آخری سطریں یاد رہ گئی ہیں۔

پرندے ہجرتوں میں تھے

مگر ان گھاس کے تنکوں کو اب بھی گھر سمجھتے تھے

جہاں پر سینت کے رکھے تھے

بچوں کے کھلونے، آنے والے کل کے خواب

مرے پیچھے سمندر تھا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply