کیا لڑکیوں کے جینز یا چوڑی دار پاجامہ پہننے سے زلزلے آتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض بزرگ نئی نسل پر ایک یاس انگیز نظر ڈال کر بتاتے ہیں کہ زلزلے لڑکیوں کے جینز پہننے کی وجہ سے آتے ہیں۔ بعضے یہ صراحت بھی کر دیتے ہیں کہ جینز اگر سکن ٹائٹ ہو تو پھر اصل تباہی ہوتی ہے۔ لڑکیوں کا اضافی لفظ ہم نے اپنی طرف سے لکھا ہے، ممکن ہے ان بزرگوں کو لڑکوں کے جینز پہنے سے بھی بڑا نہ سہی چھوٹا سا جھٹکا ضرور لگتا ہو۔ بہرحال یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرانے زمانے میں چوڑی دار پاجامے پہننے سے بھی زلزلے آتے تھے؟ وہ نہ صرف جینز سے بہت مہین ہوتے ہیں بلکہ سکن ٹائٹ بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کورے لٹھے کے ایسے پاجامے مہین تو اتنے ہوتے ہیں کہ پہننے والی کو ہلکا سا پسینہ آ جائے تو شفافیت شیشہ ہو جاتی ہے۔ امید ہے کہ بزرگ لوگوں نے بھی ہماری طرح یہ مشاہدہ کیا ہو گا، بلکہ ان کی عمر ہم سے زیادہ ہے تو یقیناً ان کے مشاہدات بھی کہیں زیادہ اور گہرائی تک پہنچنے والے ہوں گے۔

خیر پاجامے تو ایک طرف رہے کہ ان سے اچھی بھلی ستر پوشی ہو جاتی ہے، ہمارا گمان ہے کہ جن ملکوں میں نیوڈ بیچ ہوتے ہیں وہ ہمہ وقت سونامی کی زد میں رہتے ہوں گے اور نیوڈ کلب والے تو بس ہر شام گویا اک قیامت سہتے ہوں گے۔

جینز کے علاوہ گناہوں کی کثرت بھی زلزلوں کی ایک وجہ بیان کی جاتی ہے۔ یقیناً اس تباہی کی یہ وجہ بھی ہو گی۔ اب ہم حیران ہیں کہ تاجکستان والے جانے ایسا کیا کر رہے ہیں کہ ان کے گناہوں کی شدت سے اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ دہلی اور آگرہ تک لرز اٹھے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ دیسیوں کو جیسے ہی یہ خیال آیا کہ تاجکستان میں ایسی شرمناک بے حیائی پھیلی ہے تو ہمارے سیاحوں کے قافلے جوق در جوق تھائی لینڈ کی بجائے تاجکستان کا رخ کر لیں گے۔ تھائی لینڈ میں حلال کھانا مشکل سے ملتا ہے جبکہ تاجکستان میں یہ دقت پیش نہیں آتی اور بندہ مطلوبہ سیاحت کرنے کے بعد وائن کے ساتھ حلال کھانا کھا سکتا ہے۔

ہم بہک کر موضوع کو لباس سے جغرافیے کی طرف لے گئے۔ واپس موضوع پر آتے ہیں۔

اتہاس کے پنے اور شعرا کے دیوان اس بات کے گواہ ہیں کہ مرد پرجاتی کسی حسینہ کا پہنا ہوا پاجامہ دیکھ کر دل نہیں ہارتی۔ وہ بلند نگاہی کی قائل ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں تو سکن ٹائٹ جینز یا چوڑی دار پاجامے ایسے ہیجان اور زلزلوں کا سبب نہیں ہو سکتے جن سے بزرگ پریشان ہوں۔ تنگ بلاؤز یا قمیض پر اس کا الزام دھرا جائے تو بات کچھ سمجھ میں آتی ہے۔

گزرے وقتوں کا کابل اور آج کے عرب اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ برقعے اور عبایہ کے نیچے پہنی جینز سے نہ ان خطوں میں زلزلے آتے ہیں اور نہ بجلیاں گرتی ہیں۔ یوں جینز اور چوڑی دار پاجامہ اس تہمت سے بری قرار پاتے ہیں کہ انہیں پہنیں تو گویا اک زلزلہ برپا ہو جاتا ہے۔

بعض حضرات کا مشاہدہ ہے کہ چوڑی دار پاجامے کے اوپر اگر لمبی قمیض، پشواز یا لمبا فراک پہن لیا جائے تو اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس سے خیال آتا ہے کہ لہنگے میں خوب کپڑا لگا ہوتا ہے اور ہوتا بھی خوب کھلا ڈلا ہے اور اسے عروسی جوڑے کے طور پر دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ پھر بھی نہ بچنے کی وجہ کیا اس کے اوپری حصے کا مختصر بلاؤز ہوتا ہے؟ اس بلاؤز کی جگہ اگر لمبی قمیض یا فراک پہنا ہو تو بچنے کے کتنے امکانات ہوں گے؟ ہماری رائے میں تو یہ نیت کا معاملہ ہے کپڑے کے گزوں کا نہیں۔

زیورات کے بارے میں بعض ماہرین یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ اس دور کی نشانی ہیں جب عورتیں بھیڑ بکری کی طرح بیچی اور رکھی جاتی تھیں۔ نتھ کو نکیل کی جدید شکل بتایا جاتا ہے، ہار غلامی کا طوق ٹھہرا ہے اور بندے کان میں لگے جانکاری کے ٹیگ کا۔ جھومر بھی گائے بھینس کے ماتھے سے ہی اترا ہو گا۔ اب بھی قربانی کی گائے اور دلہن کے ماتھے پر یہ دکھائی دیتا ہے۔

اس دعوے پر یقین کیا جائے تو چوڑی دار پاجامہ بھی اسی روایت کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ مویشی کے پاؤں میں رسی باندھی جاتی ہے کہ وہ کہیں بھاگ نہ سکے۔ چوڑی دار پاجامہ بھی یہ مقصد پورا کر دیتا ہے۔ بلکہ اس میں ایک اضافی سیفٹی فیچر بھی ہے کہ بہکی ہوئی جوانیاں از قسم مہینوال فیم سوہنی اگر دھوتی کی بجائے یہ سکن ٹائٹ پاجامہ پہنتیں تو یوں جھٹ پٹ مہینوال سے مل کر جھٹ پٹے سے پہلے اپنے سسرال واپس نہ پہنچ پاتیں۔ اور مہینوال بھی اتنی جلدی مچتے دیکھ کر یہی کہتا کہ بی بی تو رہنے دے میں بھیڑیں چرا لاتا ہوں کہ اس میں زیادہ آسانی ہے۔

یعنی ہماری ناقص رائے میں سکن ٹائٹ جینز اور چوڑی دار پاجامے عزت و عفت کو محفوظ رکھنے کے ضامن ہیں زلزلوں کا سبب نہیں۔ گو اس بات سے جزوی اتفاق ہے کہ کئی کنواروں پر ایسا لباس پہنے خواتین کو دیکھ کر ہی شدت جذبات اور شادی شدہ حضرات پر شدت خوف سے لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے اور وہ زمین کو بھی اپنے جیسا جذبات زدہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1363 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply