ویلنٹائن ڈے: ہماری اقدار کے لیے بڑا خطرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسوم و رواج کو جنم دیا۔ بدتہذیبی بدکرداری کے نت نئے طریقوں کو ایجاد کیا۔ جس کی لپیٹ میں اس وقت پوری دنیا ہے اور بطور خاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف عنوانات سے دنوں کو منانے اور اس میں رنگ ریلیاں رچانے کے کلچر کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس کی آڑ میں بہت سی خرافات روایات اور بد اخلاقی و بے حیائی کو پھیلانے لگے۔ چناں چہ ان ہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو ”یوم عاشقاں“ یا ”یوم محبت“ کے نام سے بہت شوق سے منایا جاتا ہے اور تمام حدوں کو پامال کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں محبت کا عالمی دن ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا ہے اور نئی نسل ویلنٹائن ڈے کی تیاری میں مصروف ہے۔ یہ دن ایک نوجوان راہب ویلنٹائن کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے روم کے شہنشاہ گلاڈئیس کے ظلم و جبر اور ملک میں عائد شادی بیاہ پر پابندی کے خلاف آواز حق بلند کی تو سزا کے طور پر اسے قتل کروا دیا گیا۔ ابتدا میں یہ دن منانے کی روایت محض مغرب ہی تک محدود تھی لیکن رفتہ رفتہ اس نے مشرق میں بھی پر پھیلائے۔ بالخصوص نوجوان نسل کے لیے تو یہ دن مسلسل اہمیت اور توجہ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

14 فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ مناتے ہوئے نوجوان لڑکے لڑکیاں پھول اور تحفے ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ ہم من حیث لقوم بغیر سوچے سمجھے دنیا کی ڈگر پر چل پڑتے ہیں ، ہم کبھی نہیں سوچتے اس تہوار کی ہمارے معاشرے اور مذہب میں کوئی گنجائش نہیں۔

اصل میں ”ویلنٹائن ڈے“ کی تاریخ عیسائیت اور یہودیت سے ملتی ہے یہ کمرشل رسومات کا جال ہے جس میں ہمیں نہیں پھنسنا چاہیے ، ہمیں ہمیشہ کوئی تہوار منانے سے پہلے اس کے تاریخی پس منظر کو جاننا ضروری ہے کیونکہ تہوار معاشرے کی ثقافت کے امین ہوتے ہیں۔

اب تو خطرہ یہ بھی پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ ہم کرسمس اور دیوالی بھی باقاعدہ منانا شروع نہ کر دیں اور اسلامی ثقافت کے لئے خطرات پیدا نہ کر دیں۔ اگر ہم کسی کو تحفہ دینا چاہتے ہیں ، پھول دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے کوئی تاریخ یا دن مقرر نہیں ہے۔ ہمیں ایسی رسومات اور تہواروں سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے ہمارے نوجوانوں پر برے اثرات پڑیں اور ہمارا معاشرہ بگڑ جائے۔ بڑی طاقتوں اور مغرب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم قوم کو اخلاقی طور پر پست کردیں تو یہ قوم خود بخود تباہ ہو جائے گی ۔ اس لئے وہ اخلاق سے گری ہوئی فلمیں بناتے ہیں تاکہ مسلم معاشرے کو گزند پہنچا سکیں۔

ہم نے اسلامی اقدار، اخلاقیات، ثقافت اور معاشرے کو بلند رکھنا ہے جس طرح ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں بتایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں اسلام کی صحیح روح کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور اسلام کے سچے اصولوں پر چلیں تو اس دنیا میں گناہوں سے بچنے کے بعد قیامت کے دن خدا اور اس کے رسولﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گے۔

 ”محبت“ ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے ۔ اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ”محبت“ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ”ویلنٹائن ڈے“ کا منایا جانا ہے۔

انساٰئیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بک آف نالج کے مطابق ویلنٹائن ڈے جو 14 فروری کو منایا جاتا ہے محبوبوں کے لیے خاص دن ہے۔ بک آف نالج اس واقعہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کو سینٹ ’ویلنٹائین‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔

کیا کبھی کسی عیسائی نے عید الفطر ادا کی ؟ کسی ہندو نے عید الاضحیٰ پر قربانی دی؟ کسی ایک یہودی نے ماہ رمضان میں روزے رکھے؟ آپ نے ایسا کبھی نہ دیکھا اور نہ سنا اور یہ حقیقت ہے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تو پھر ہم یہ فرسودہ اور بے ہودہ رسم بحیثیت مسلمان جس کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے کیوں منا رہے ہیں؟

ہر سال 14 فروری کو عالمی یوم محبت کے طور پر ”ویلنٹائین ڈے“ کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے حالانکہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا معتدبہ حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے۔

اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کریں۔ انھیں حیا باختہ تہواروں کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور تمام ذمہ داران اخلاقیات کے دشمن ان تہواروں سے صرف نظر کرتے رہے تو آج مغرب جس صورت حال سے دو چار ہے وطن عزیز میں اس کے پیدا ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ہماری آبادی کی اکثریت اس آگ کی تپش سے اب تک محفوظ ہے۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے ورنہ یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

ہم اپنے تہوار عید کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس روز جب دو افراد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تو سارے گلے دور ہو جاتے ہیں، ویلنٹائن ڈے پر بھی ہم اور آپ عید کی طرح صرف اپنے دوستوں ، والدین، اساتذہ ، پڑوسیوں، بھائی بہنوں اور شریک حیات کو ہی اپنے محبت اور اپنے خلوص کا یقین نہ دلائیں بلکہ معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کے حامل افراد کو بھی کسی پیغام ، کسی کارڈ کے ذریعے یا خود ان کے پاس جا کر اپنی زبان سے بھی اپنے جذبات اور اپنے خلوص سے آگاہ کر کے اس دن کو بامقصد اور بڑا دن بنا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply