پاک ٹی ہاؤس کی رونق اور کتاب دوست زاہد ڈار چل بسے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر سینکڑوں طالبان علم کی راہنمائی کرنے والا اور ایک لیجنڈ ادبی انسائیکلو پیڈیا اور انسان دوست شخصیت زاہد ڈار چل بسے پڑھنا لکھنا اور زندگی کی پراسراریت پر غور و فکر کرنا ان کی ذات کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ان کو جس کسی نے بھی دیکھا ان کے ہاتھ میں کتاب دیکھی، اس نے اپنی زندگی میں سوائے کتاب کے کچھ نہیں مانگا، ہزاروں ادبی شخصیات کی رفاقت اور وابستگی رکھنے والا یہ دانشور بہت پہلے جان چکا تھا کہ وہ زندگی میں سوائے پڑھنے لکھنے کے کچھ اور نہیں کر سکتا اسی لیے اس نے اپنی زندگی پاک ٹی ہاؤس میں لکھنے پڑھنے میں گزار دی۔

1958 تک ایک دو جگہ کام وغیرہ کر نے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے اور آخر کار کتاب سے رشتہ جوڑ کر پڑھنے لکھنے میں مشغول ہو گئے۔ من موجی اتنے تھے کہ ساری زندگی بغیر شادی کے بسر کر ڈالی پوچھنے پر اکثر کہا کرتے تھے ”میں نہیں جانتا کہ کیوں، لیکن میں ہمیشہ خواتین کو پسند کرتا ہوں“ اس کے باوجود زندگی میں کوئی بھی ذمہ داری اٹھانے سے گریزاں رہے۔ جو چیز بھی پڑھنے لکھنے کے عمل میں حائل ہوتی اس سے پیچھا چھڑانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے تھے حتی کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ ایک بار اپنے دوست دیرینہ ڈاکٹر خالد سہیل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ

” میں رشتہ داروں سے کب سے قطع تعلق کر چکا ہوں، نہ میں ان کے گھر جاتا ہوں نہ ہی وہ مجھ سے ملنے آتے ہیں۔ میں نہ ان کی خوشی میں شریک ہوتا ہوں اور نہ غم میں نہ شادی میں نہ جنازے میں۔ پہلے پہل تو وہ سمجھے کہ میں بہت روکھا بد دماغ ہوں لیکن اب عادی ہو گئے ہیں میرے دوست ہی میرے لیے سب کچھ ہیں“ ۔ اپنی ادبی حسین یادوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ایک وقت تھا پاک ٹی ہاؤس میں مختلف کالجز کے طلباء ٹی ایس ایلیٹ، ایذرا پاؤنڈ اور ڈی ایچ لارینس جیسے شاہکار پڑھنے اور ڈسکس کرنے آیا کرتے تھے مگر آج کی نسل نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیا ہے اور اب وہ پاک ٹی ہاؤس میں مطالعہ کرنے اور ڈسکس کرنے نہیں آتے۔

زاہد ڈار نے آخر عمر تک اپنا مطالعہ اور سوچ بچار کا عمل جاری رکھا خاص طور پر برٹرینڈ رسل سے کافی متاثر تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ”میں زندگی میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے میں ناکام رہا ہوں“۔ وہ ہجوم مینٹیلٹی کے خلاف تھا ان کے خیال میں ہجومی نفسیات ایک ظالم اور بے لگام طاقت کا نظام سکھاتی ہے حتی کہ وکلاء بھی ہجوم میں وحشی بن جاتے ہیں زاہد ڈار کی انتظار حسین اور کشور ناہید سے گہری وابستگی تھی انہوں نے پڑھنے لکھنے سے مستقل طور پر ناتا جوڑنے لے لیے سب کچھ چھوڑ دیا مگر اپنے دوستوں کو سینے سے لگائے رکھا۔ زاہد ڈار کہا کرتے تھے کہ انتظار حسین چاہتا ہے کہ میں اس کے سامنے مر جاؤں کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اگر میں نہ مرا تو اس پر کالم کون لکھے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply