کنوئیں سے نکل کر کھائی میں نہ جا گریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جسارت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال، کیا پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے، کے جواب میں جناب اکرم سہگل، ڈاکٹر شاہد حسن، ڈاکٹر عتیق الرحمن، عبدالقادر میمن اور ظفر اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے امریکی غلامی ترک کرنا ہوگی، امریکا آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کو دھمکاتا ہے، راہداری منصوبہ امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے، چین عالمی افق پر سپر پاور بننے جا رہا ہے اور امریکا کو یہ بات کسی طرح بھی ہضم نہیں ہو رہی، ملکی اور عالمی مافیا مل کر عوام کے نام پر آئی ایم ایف سے مال بٹورنے میں مصروف ہیں، امریکا تیسری دنیا کے ممالک کی معیشت کوکمزور رکھنے کے لیے ملکی مافیا کو استعمال کر رہا ہے“ ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان آج سے نہیں، چھ سات عشروں سے امریکا کی دوستی کا دم بھرتا چلا آ رہا ہے لیکن یہ سمجھ لینا کہ امریکا نے کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا، درست نہیں ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اب تک جتنے بھی حکمران آتے رہے وہ کبھی امریکا سے وہ فوائد نہیں اٹھا سکے جس سے ملک اپنی مشکلات پر قابو پاکر آگے کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہو پاتا۔ ہر آنے والے حکمران کی اولین کوشش یہی رہی کہ امریکا کی دوستی اس کے اقتدار کو کتنی طوالت دے سکتی ہے۔

ملکوں کے درمیان ”بھائی چارگی“ والی دوستی نہیں ہوا کرتی بلکہ دو طرفہ ملکی مفادات کی دوستیاں ہوا کرتی ہیں۔ جب ملک کے حکمران ملک سے زیادہ اپنے اپنے ذاتی مفادات یا وقتی اغراض کو اولیت دے رہے ہوں تو پھر ہوتا یوں ہے کہ دوسرا ملک بھی اپنے مفادات اور ذاتی اغراض و مقاصد کو سامنے رکھ کر اتنی ہی معاونت کرتا ہے جتنا خود اس کے حق میں جاتا ہو۔

ملکوں اور ملکوں کے درمیان ہی کیا، دو انسانوں کے درمیان بھی دوستی کی بنیاد ایک دوسرے کے مفادات سے ہی واسبتہ ہوا کرتی ہے۔ جب ہر فریق یا ان میں سے کسی ایک فریق کی قربت صرف اور صرف ”سوالی“ کی سی بن جائے تو پھر وہ دوستی خالص ”مفاد“ پرستانہ ہو کر رہ جاتی ہے اور اس کے برقرار رہنے کا سبب صرف مفادات ہی بن جایا کرتے ہیں۔

پاکستان کے لئے بہترین موقع افغان وار کا تھا جب پاکستان اپنے آپ کو ڈالروں میں تولنے کی بجائے، امریکا سے قربت کو ملک کے دفاع کی مضبوطی اور معیشت کے استحکام سے مشروط کر دیتا۔ یہ بات نہ صرف پاکستان کی عزت و تکریم میں اضافے کا سبب بنتی بلکہ پاکستان اور پاکستان کے عوام خوشحالی کا ایک نہایت سنہری دور دیکھ رہے ہوتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ برس ہا برس کی امریکی دوستی کبھی پاکستان کے حق میں نہیں گئی اور بجائے برابری، آقا و غلام کا تصور ہر آنے والے ماہ و سال میں واضح سے واضح تر ہوتا چلا گیا جس کی ایک ہی وجہ رہی اور وہ یہ رہی کہ ہم نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی بجائے ہمیشہ اپنے ہاتھ پھیلا کر رکھے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فاضل اقتصادی ماہرین اور دانش وروں نے درست کہا کہ پاکستان کو امریکا اور آئی ایم ایف کی غلامی سے باہر آنا ہوگا ورنہ پاکستان دنیا میں ابھرنے کی بجائے مسلسل زوال پذیر ہوتا جائے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ امریکا کو پاک چین تعلقات بھی گوارا نہیں ہیں اور چین جو اقتصادی راہداری کے سلسلے میں پاکستان میں اپنا سرمایہ لگانا چاہتا ہے، وہ بھی امریکا کو قابل قبول نہیں اور وہ اپنی پوری کوشش کرے گا کہ کسی نہ کسی طرح امریکا اس منصوبے کو مزید آگے بڑھنے سے روکے لیکن کیا پاکستان امریکا سے جان چھڑانے اور چین کے ساتھ اپنی قربت بڑھانے میں کامیاب ہو سکے گا؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا درست جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن جس انداز میں پاکستان چین کے ساتھ اپنی قربتیں بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے اس سے اس بات کا خدشہ بدرجہ اتم موجود ہے کہ پاکستان امریکا کے کنویں سے نکل کر چین کی کھائی میں ضرور گر جائے گا اور پھر اس کے بعد چین کی گرفت سے اس کے لئے آزاد ہونا شاید ممکنات سے باہر ہی ہو کر رہ جائے۔

چین کو دنیا سے اپنی تجارت بڑھانے کے لئے جس راہداری کی ضرورت ہے، اگر اس راہداری کو پاکستان از خود بنا رہا ہوتا تو بات اور تھی لیکن اس کے برعکس جب ہر قسم کے ترقیاتی کام اور راہداریوں کے ہر پروجیکٹ میں چین جو بھی سرمایہ لگا رہا ہے اس میں پاکستان کی ذرہ برابر بھی شرکت موجود نہ ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے سارے ثمرات پاستان کے حصے میں آسکیں۔

امریکا کی غلامی سے باہر آنا بیشک لازمی ہی سہی لیکن اگر پاکستان امریکا کی غلامی کے بعد چین کی مکمل دسترس میں آ گیا تو یہ معاملہ کنویں سے نکل کر کھائی میں جا گرنے جیسا بھی ہو سکتا ہے۔

جس ملک کے پاس راہداری کے منصوبے بنا نے کے لئے سرمایہ نہ ہو، جو ملک دنیا سے قرض لئے بغیر اپنے عوام کی ضروریات پوری نہ کر سکتا ہو، جو ملک دنیا بھر سے لی گئی دولت کی حفاظت از خود نہ کر سکتا ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سرمایہ کاری کی مد میں لی جانے والی رقم کو لوٹا بھی سکے گا، ایک مشکل سوال ہے اور اس کے جواب میں ایک غلامی کا طوق اتار کر دوسرا طوق اس سے بھی وزنی اپنے گلے میں ڈالنے سے قبل پاکستان کو ہر ایک پہلو پر بہت غور و خوض کرنا ہوگا ورنہ پاکستان کنویں سے تو نکل آئے گا لیکن کھائی میں گرنے سے کسی طور نہ بچ سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply