کیا عربی زبان سیکھنے سے مسائل حل ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کے دور میں بہتر زندگی گزارنے کے لئے زبان میں مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ زبان کے ذریعے آپ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ آپ کے کاروبار یا نوکری کا سارا دار ومدار زبان پر ہے۔ اگر آپ ایک زبان پر مکمل دسترس اور قدرت رکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اسی زبان کے بولنے والے لوگوں کے ساتھ انتہائی آسانی کسی بھی قسم کا ڈیل کر سکتے ہیں۔ اور انتہائی آسانی کے ساتھ اپنے معاملات کو نمٹا سکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی زبان ایک تاریخی اہمیت کی حامل زبان ہے۔ مسلمانوں کے سب سے مقدس اور پاک کتاب یعنی قرآن مجید کا نزول بھی عربی میں ہی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی احادیث ہیں وہ بھی عربی میں ہی لکھی گئی ہیں۔ عربی زبان مختلف خلیجی ممالک کی قومی زبان ہے جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ عربی زبان تقریباً 26 مختلف ممالک کے اندر بولی جاتی ہے۔ یکم فروری 2021 کو سینیٹ آف پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک سینیٹر جاوید عباسی نے ایک بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے تمام سکولوں میں کلاس 1 سے لے کر کلاس 5 تک عربی زبان کو لازمی قرار دیا جائے۔

اور کلاس 6 سے لے کر کلاس 12 تک عربی گرامر کو پاکستان کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ یہ بل سینیٹ آف پاکستان میں کیوں لایا گیا؟ اس بل کو لانے کی وجوہات کیا تھیں؟ تو آئیے اس پر ذرا سی بات کرتے ہیں۔ اس بل کو لانے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلا: عربی زبان سیکھنے سے پاکستان کے شہری جو بہت بڑی تعداد میں مختلف خلیجی ممالک میں روزگار اور کاروبار سے وابستہ ہیں ان کوعربی شہریوں کے ساتھ روز مرہ کی کمیونیکیشن اور رابطے میں آسانی رہے گی۔

چونکہ عربی لوگ اسی بندے کو ترجیح دیتے ہیں جو تھوڑی بہت عربی سے واقف ہو۔ اس سے پاکستان کے شہریوں کو خلیجی ممالک میں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع ملیں گے۔ دوسرا: اس سے بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہ تو عام سا اور سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ مختلف ممالک انہی لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کوئی کوئی ہنر یا کسب ہوتا ہے ناکہ ان افراد کو دیتے ہیں جو صرف زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ مختلف خلیجی ممالک بشمول سعودی عریبہ اور متحدہ عرب امارات میں بڑے عہدوں پر سب سے زیادہ ویسٹ والے براجمان ہیں جو عربی زبان تو درکنار عربی کے حروف تہجی کو سرے سے جانتے تک نہیں۔

ان کا عربی لیول بالکل زیرو ہے۔ اس کے بعد انڈینز کا نمبر ہے جو سب سے زیادہ وہاں بڑے پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ اس کے بعد پاکستانیوں کا نمبر ہے۔ اب بات کرتے ہیں پاکستان کے تعلیمی نظام میں عربی زبان کی انٹری کی۔ پاکستان کے طالب علم جن کے کندھے پہلے ہی زیادہ وزن کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں۔ ذمہ داریاں زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ پہلے ہی سٹریس کے شکار ہیں۔ ہم ان کے سٹریس کو کم کرنے کی بجائے اس مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

چاہیے تو یہ تھا کہ ہم ان کے کندھوں کو بھاری بھر کم وزن سے تھوڑا ہلکا کرلیتے تاکہ ان میں موجود چھپی ہوئی صلاحیتیں سامنے اتے اور ان کو نکھارتے تاکہ وہ مستقبل میں قوم اور ملک کے لئے ایک اثاثہ ثابت ہوتے۔ لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے پالیسی میکرز میں فہم نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اب اس میں عربی زبان کی انٹروڈکشن سے یہ نظام مزید تباہی کی گہرائی میں چلا جائے گا۔

پاکستان کے طالب علم بہت ٹیلنٹڈ ہیں لیکن ہمارے پالیسی سازوں کے غلط فیصلوں نے ان کے ٹیلنٹ کو بری طرح متاثر کیا۔ پاکستانی تعلیمی نظام میں عربی زبان کی انٹروڈکشن سے طالب علموں کے تخلیقی صلاحیتوں میں کمی کا خدشہ ہے اس لیے حکومت پاکستان کو اس فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ تمام طالب علموں کے صلاحیتوں اور ان کے مستقبل کو محفوظ کیا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شعبان آفریدی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments