ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب کی تعارفی تقریب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انجمن اردو، ادارہ زبان و ادبیات اردو جامعہ پنجاب کے زیر اہتمام 10 فروری 2021 کو ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب

Coloniality, Modernity and Urdu Literature

کی تعارفی تقریب منعقد کی گئی جس میں معروف ڈرامہ نویس، شاعر اور ناول نگار ڈاکٹر اصغر ندیم سید، ڈاکٹر صائمہ ارم (صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور) ، ڈاکٹر زاہد منیر عامر (ڈائریکٹر ادارہ ہذا) ، ڈاکٹر محمد کامران، ڈاکٹر نعیم ورک، ڈاکٹر آصف علی چٹھہ، ڈاکٹر انیلا سلیم، محترمہ فرح ضیا (سابقہ ایڈیٹر The News) ، ڈاکٹر نسیمہ رحمان اور دیگر ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

نظامت کے فرائض سال دوم کی طالبہ ظل ہما نے سر انجام دیے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت شعیب سلمان نے حاصل کی اور ماہ نور جاوید نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ طلباء کی جانب سے حمزہ یعقوب اور افہام الحسن نے کتاب پر اپنے اپنے تبصرے پیش کیے۔

اس کے بعد ڈاکٹر شاہزیب خان نے کتاب پر مفصل تبصرہ پیش کیا اور کتاب کے مرکز کے گرد پھیلے حقائق و واقعات پر گفتگو کی۔ کتاب کے ٹائٹل اور مشمولہ مضامین کی کڑیاں یورپ کے علوم بالخصوص ٹریویم؛ لاجک، گرائمر، اور ریٹورک سے جوڑیں۔ کولونیلائزیش اور کولونیلٹی میں فرق واضح کرنے کے لیے کتاب کا مجموعی جائزہ لیا اور منتخب کردہ اقتباسات کو مزید وضاحت سے بیان کرتے ہوئے اس وقت کے بدلتے عالمی منظر نامے پر نگاہ ڈالی۔ ادب کی تنقید پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیو کریٹیسزم نے ادب کو کلاس روم تک محدود کر دیا تھا پھر تھیوری کی ایجاد نے ادب کے دیگر اثرات کو بھی دیکھا۔ اس کتاب میں بھی اسی بات پر زور دیا گیا ہے کہ ادب کو ہر حوالے سے دیکھا جائے اور اس کے سماجی و سیاسی اثرات پر بھی بحث کی جائے۔

ڈاکٹر صائمہ ارم نے کتاب کی مختلف ممکنہ جہات پر روشنی ڈالی اور اس کتاب کو اردو تنقید میں تہلکہ مچا دینے والی کتاب کے نام سے متصف کیا۔ کولونیلٹی کو کولونیلائزیش کا سیاسی مطالعہ کہا اور واضح کیا کہ یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سکندر اعظم کی مشرق و مغرب کی تقسیم کے روز سے چلا آ رہا ہے۔

تقریب کی اگلی مہمان محترمہ فرح ضیا نے کتاب اور صاحب کتاب سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی صحافت میں بہت پہلے سے ہی اردو تنقید کا سلسلہ جاری تھا مگر ہمارے صفحات کے لیے جو ناصر عباس نیر نے لکھا اس سے پہلے نہیں لکھا گیا۔ ناصر صاحب نے ادب کو ایک الگ زاویے سے دیکھا اور اس کتاب نے اردو تنقید کو بین الا اقوامی تنقید سے مربوط کر دیا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ناصر عباس نیر کے عہد میں زندہ ہیں۔

فرح ضیاء صاحبہ کے بعد ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے تمام شرکائے تقریب بالخصوص آنے والے معزز مہمانان گرامی کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرتے ہوئے اس تقریب کو اورینٹل کالج کی تاریخ میں اپنی نوعیت اور موضوع کے حوالے سے پہلی تقریب قرار دیا۔ کتاب کے بنیادی موضوع پر گفتگو کی اور کہا کہ انگریزی میں کتاب لانے کا مقصد یہ ہے کہ انگریزی پڑھنے والوں کو اس بات کا ادراک ہو سکے کہ اردو ادب آخر ہے کیا۔

صدر محفل جناب ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے کتاب پر کلام کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب نے اردو ادب کو دوسری زبانوں کے ادب کی صف میں شامل کر دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ادب کو اب تک تھیوری کی شکل میں ہی دیکھا گیا ہے مگر فلم کے میڈیم میں نہیں دیکھا گیا۔ ادب کا تقریباً% 75 حصہ فلمی دنیا میں موجود ہے۔ ایک ناول کی شرح کے لیے ایک فلم سب سے بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ ادب کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے فلم کے میڈیم کا استعمال نہایت ضروری ہے۔

جہاں تک کولونیلٹی کی بات ہے تو اس نظام کے بنانے والوں نے خود ہی ”چرچل“ اور ”وائسرائز ہاؤس“ جیسی فلموں کی صورت میں اس کی وضاحت کر دی ہے۔ پھر آپ نے کولونیل مقاصد اور ان کے حصول کے لیے قائم کردہ ادارہ جات پر نگاہ ڈالی۔ ناصر صاحب سے متعلق کہا کہ ان کی جتنی پذیرائی انڈیا میں ہوئی اتنی ابھی تک پاکستان میں نہیں ہوئی۔ اس صدی کی تنقید کے آغاز کا سہرا بلاشبہ ناصر عباس نیر کے سر جاتا ہے۔

تقریب کے آخر پر ڈائریکٹر ادارہ زبان و ادبیات اردو ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے بہ طور میزبان تمام شرکائے محفل اور انجمن اردو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یونیورسٹیوں میں اکیڈمک ماحول ہونا چاہیے تاکہ اس سے منسلک لوگوں کا کام منظر عام پر لایا جائے اور اساتذہ و طلبہ بہ یک وقت اس سے مستفید ہو سکیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ناصر عباس نیر کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کو سقراط اور افلاطون کی اولین ملاقات سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنے یونان کے سفر پر وہاں پڑھا ہوا ایک واقعہ سنایا کہ سقراط نے خواب میں ایک راج ہنس دیکھا جو بعد میں سقراط کی خواہش پر اس کی گود میں آ گرتا ہے اس خواب کے چند روز بعد ہی افلاطون بہ طور شاگرد سقراط کے پاس آ تا یے اسی طرح ہی ناصر عباس نیر سے پہلی ملاقات ڈاکٹر وزیر آغا کے پاس ہوئی جو بعد میں مستقل تعلق بن گیا۔

کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کا تعلق ہماری زندگی سے بہت گہرا ہے۔ کولونیلزم کا اصل مقصد ہمیں ہماری بنیادوں سے جدا کرنا، ہماری تاریخ کو مضحکہ خیز بنانا اور ہمارے ہیروز کو زیرو بنانا ہے۔ اس نظام کے تحت نصاب تعلیم کا مقصد یورپی، ہندوستانی اور مسلم تہذیبی دھاروں کو آمیز کرنا تھا۔ اس کتاب میں ”ابن الوقت“ جیسے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس نے اپنا دل گروی رکھا جو کہ نو آبادیاتی تعلیم کا اصل اوربنیادی مقصد تھا۔ اس جیسے کردار نے آئندہ نسلوں کی تربیت کی جس کی وجہ سے آج دانش گاہیں دانش سے خالی، قتل گاہیں نظر آتی ہیں۔

طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے ہیروز کا احترام کرتی ہیں۔ ہم آپ کو ممکنہ مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ اب مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب نے ڈاکٹر ناصر عباس نیر کو اعزازی شیلڈ سے اور باقی تمام مہمانوں کو تحائف سے نوازا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قاسم حیات کی دیگر تحریریں

Leave a Reply